لاہور (وقائع نگار ) مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے سابق وزیراعظم عمران خان اور عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان سازش کرنا بند کردیں ،مزدور کے حالات ٹھیک ہوجائیں گے،لیڈر سینہ تان کر پیش ہوتے ہیں، کالی بالٹی پہن کر نہیں آتے،جب عمران خان کی حکومت گئی، اس کا لانگ مارچ، جیل بھرو تحریک، نئے چیف آف آرمی سٹاف کے تقرر کو روکنے کی سازش ناکام ہوئی اور اسمبلیاں توڑنے کا حربہ ناکام ہوا تو اس کو بچانے نئی جوڈیشل اسٹیبلشمنٹ آگئی ہے۔
لاہور میں مسلم لیگ ن کے لیبر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں تھا مسلم لیگ ن کا لیبر ونگ اتنا متحرک ہے ، دیکھ کر خوشی ہوئی، ہمارے محنت کش ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، خواہش ہے کہ کم سے کم اجرت 40 ہزار ہو، وزیرخزانہ اوروزیراعظم تک یہ بات پہنچاوں گی کہ کم سے کم تنخواہ 40ہزار ماہانہ ہونی چاہیے، مشکل اورسخت معاشی حالات کے باوجود وزیراعظم نے ماہانہ تنخواہ 35ہزار روپے کی، 2017میں روٹی 2روپے کی تھی اور مزدور کے بچے پیٹ بھر کر روٹی کھاتے تھے، آج سب سے زیادہ ترقی میں ہاتھ مزدور کا ہے اور ان کو روٹی نہیں مل رہی۔ مریم نوازنے سابق وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی ترقی میں ایک شخص حائل ہے اس کا نام عمران خان ہے، وہ بھی وقت تھا جب ڈالر 100روپے کا تھا، 2013سے 2017تک آٹے کی قیمت 35روپے سے بڑھنے نہیں دی ، نوازشریف ایک ہی بات کرتے تھے اس ملک کا مزدور پیٹ بھر کر کھانا کھائے ، 2روپے کی روٹی آج 25روپے کی ہے ،کس کو الزام دینا ہے؟ صرف عمران خان ذمہ دار نہیں بلکہ پورا ٹولہ ہے، ملک پیچھے کی طرف کیوں جارہا ہے؟ آج مجھے بات کرنی پڑے گی، اس گینگ کا سربراہ عمران خان ہے، مریم نواز نے کہا پاکستان کا کرپٹ ترین شخص اس گینگ میں شامل ہے،آج جب عمران خان کا ہر حربہ ناکام ہوا تو بچانے کے لیے تین رکنی بینچ آگیا، آج ملک جو بھی آئینی اور قانونی ہچکولے کھا رہا ہے اور جو مسائل پیدا ہوئے ہیں اس کا ذمہ دار وہ متنازع ازخود نوٹس ہے،جو مقدمہ لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا اس کو زبردستی تین رکنی بینچ اپنے پاس کھینچ کر گیا، آج ملک کی معاشی ترقی رک گئی ہے مگر ملک کو زبردستی کے مسائل میں الجھایا ہوا ہے،سپریم کورٹ کے ایک معزز جج نے کہا تھا کہ الیکشن کا فیصلہ کرنے سے پہلے اس بات کو دیکھنا ہوگا کہ اسمبلی کیوں توڑی گئی، اس وقت اسمبلی بدنیتی سے توڑی گئی کیونکہ پرویز الہٰی اسمبلی توڑنا نہیں چاہتے تھے لیکن زبردستی ان سے اسمبلی توڑنے کو کہا گیا،اصل بات کا بھانڈا خود اس فتنہ خان نے پھوڑا کہ حکومت ختم ہونے کے بعد ایوان صدر میں اس کی اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی تھی اور صدر کی موجودگی میں جنرل (ر) باجوہ نے اسمبلیاں توڑنے کا کہا تھا،آج یہ سوال کرنا بنتا ہے کہ کس منصوبے کے تحت آپ کو کہا گیا کہ اسمبلی توڑیں اور بات یہاں ختم نہیں ہوتی، بات یہ بھی ہے کہ اسمبلی توڑی جائے گی اور سپریم کورٹ میں سہولت کار بیٹھے ہیں جو الیکشن آپ کے سامنے رکھیں گے،اس سازش کی وجہ سے جو ناانصافیاں ہوئیں، جس طرح سے سو موٹو لیے گئے، قانون، انصاف، آئین کا تماشا بنایا گیا اس میں صرف عوام اور سیاستدان نہیں بولے بلکہ سپریم کورٹ کے ججز بھی بول اٹھے،سپریم کورٹ میں اتنی بڑی جنگ شروع ہوگئی کہ پاکستانی قوم کا سر شرم سے جھک گیا اور سپریم کورٹ کے سینئر ترین ججز نے اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی اور پھر بار کونسلز نے بھی اس پر آواز اٹھائی، پہلے تو یہ سامنے آنا چاہیے کہ جنرل (ر) باجوہ جس کو آپ میر جعفر اور غدار کہتے تھے ان کے کہنے پر آپ نے اسمبلیاں کیوں توڑیں؟ منصوبہ صرف اسمبلیاں توڑنے تک نہیں تھا بلکہ منصوبہ یہ بھی تھا کہ تم اسمبلیاں توڑو تین رکنی بینچ تمہیں الیکشن دے گا، آج جب اکتوبر میں نئے انتخابات ہونے جارہے ہیں تو جو لوگ آر ٹی ایس نہیں بٹھا سکتے انہوں نے عمران خان کو لانے کا یہ منصوبہ بنایا ہے لیکن یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ شکر ہے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی، ان کا مارچ ناکام ہوا، جیل بھرو تحریک بھی ناکام ہوئی، اب کہتے ہیں اسمبلیاں بحال کریں، کیا تمہارے والد کا ملک ہے؟ عمران نے گھڑیوں کا کاروبار شروع کیا تو پنکی نے الگ دکان کھول لی، عمران خان روز کالی بالٹی سر پر رکھ کر آجاتا ہے، لیڈر سینہ تان کر پیش ہوتے ہیں، کالی بالٹی پہن کر نہیں آتے،عمران خان کہتا ہے میں جیت جاو¿ں یا ہار جاو¿ں ملک چلنے نہیں دوں گا، عمران خان کا اسمبلیاں توڑنے کا پلان ناکام ہوگیا، پیچھے سے بیٹھ کر ڈوریاں کون ہلا رہا ہے؟، پیپر آو¿ٹ ہوگیا، تمہارا یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے، یہ چاہتے ہیں الیکشن جلد ہوں ورنہ الیکشن جتوانے والا کوئی نہ ہوگا۔مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ کچھ چہرے پرانے ہیں اور کچھ نئے شامل ہوگئے ہیں اور سب کا آپس کا مفاد ہے جس میں نواز شریف فٹ نہیں ہوتے کیونکہ وہ نہ کھاتے ہیں اور نہ ہی کھانے دیتے ہیں جبکہ یہ گروہ کھاتا بھی ہے کھلاتا بھی ہے، عمران خان کی سازش کو سمجھنے کی ضرورت ہے، سینئر ترین ججز نے ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی، پی ٹی آئی کے ٹکٹ فروخت کیے جارہے ہیں، آڈیو لیکس میں حقائق سامنے آگئے ہیں، ایک ٹکٹ کے ایک کروڑ روپے لیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ سے متعلق نیا قانون سپریم کورٹ کو مضبوط اور سازشیں ختم کرتا ہے، آپ کو آئین اور منتخب نمائندوں کا فیصلہ ماننا پڑے گا، پارلیمنٹ اپنا فیصلہ منوا کر رہے گی، عوام دیکھ رہے ہیں قانون، آئین اور انصاف کا تماشہ بنادیا گیا، نواز شریف آرام سے بیٹھ کر مکافات عمل دیکھ رہے ہیں۔
