سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حساب لیا جائے،خواجہ آصف نے نئی جنگ چھیڑ دی

اسلام آباد(وقائع نگار خصوصی)وزیردفاع اور پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ محمد آصف نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے قومی اسمبلی اجلاسوں کی کارروائی کاریکارڈ مانگنے پر”جوابی وار“کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ آپ سپریم کورٹ کو خط لکھ کر کیسز کی کارروائی اور فیصلوں کی تفصیلات مانگیں۔
”پاکستان ٹائم“ کے مطابق قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے مطالبہ کیا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے جوعدالتی فیصلوں کاحساب لے،سپریم کورٹ ذوالفقاربھٹو،یوسف گیلانی اور نوازشریف کیسز کا حساب دے،ہم اپنے پرکھوں کا حساب دیتے ہیں،یہ بھی دیں،ہم نے آمروں کی حمایت کی قیمت ادا کی،انہوں نے آمروں کی حمایت کی قیمت ادا نہیں کی،عدلیہ میں کتنے لوگوں کو ڈس کوالیفائی کیا گیا؟جو لوگ اس دنیا میں نہیں ان پر بھی مقدمہ چلایا جائے،وہ وقت چلا گیا جب وزیر اعظم کو بلی چڑھایا جاتا تھا،یہ پارلیمنٹ اپنے وزیر اعظم کو بلی نہیں چڑھائے گی،آپ لوگ ستمبر کا انتظار کر رہے ہیں،ہمارا منہ نہ کھلوائیں،سابقہ حکمرانوں کیلئے کوئی سہولت کاری کر رہا ہے،ہم سیاست دان ہیں،دست و گریباں ہوتے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہمارے مینڈیٹ پر سوالات اٹھتے رہے اور ہم عوام میں جا کر اپنے رشتے کی تجدید کرتے رہے، پارلیمان جتنی کسی ادارے نے عوام کی خدمت نہیں کی،ہمارے پڑوسی ادارے(سپریم کورٹ) نے ایوان کی کارروائی کی تفصیلات مانگیں،پارلیمنٹ کی کارروائی راز نہیں ہوتی،ٹی وی پر نشر ہوتی ہے،سپریم کورٹ کا احترام ہے،ان کو 100 بار کارروائی کا بتائیں لیکن ہمیں بھی سپریم کورٹ کی کارروائی کی تفصیلات بتائی جائیں،سپیکر قومی اسمبلی سپریم کورٹ کو خط لکھ کر تفصیل مانگیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عدلیہ ہمیں بتاتی ہے کہ مذاکرات کریں،ہم مذاکرات کررہے ہیں،آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ وہ پنچائتیں لگوائیں گے،ہمیں اپنے ادارے کا دفاع کرنا پڑے گا،وزرائے اعظم کی گردنیں لینے کی روایت بند ہونی چاہئے، ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا،نواز شریف کو تاحیات نااہل قراردیا گیا،ہمیں تفریق چھوڑ کر ادارے کی سربلندی کی جنگ لڑنی پڑے گی،ہم سیاسی جنگیں لڑتے ہیں،تین بار ہمیں گھر بھیجا گیا،اس ادارے کی گردنیں لی گئیں،اس ادارے کا خون ہوا،مشرف کو آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار دیا گیا،پرویزمشرف وردی کی طاقت پر مکے لہراتے تھے،فرد واحد کی خواہش پر بار بار جمہوریت کا خون ہوا،کیا ان مقدمات کی سماعت کی تفصیل منگوائی جائے گی؟۔وزیردفاع کا کہنا تھا کہ دو اسمبلیوں نے اچھی بری اپنی مدت پوری کی لیکن اس اسمبلی کو مدت پوری کرنے نہیں دی جا رہی،آئین سے ماورا کوئی چیز نہیں ہوگی،ہم ہر 5 سال بعد عوام کو حساب دیتے ہیں،لوگ کہتے ہیں ہم حلقوں میں نہیں جاتے،جب کہ دو چھٹیاں ہوتی ہیں تو ہم اپنے حلقوں میں ہوتے ہیں،ان کیلئے شاہراہ دستور بند ہو جاتی ہے،کیا ارکان اسمبلی کیلئے شاہراہ دستور بند ہوتی ہیں؟ارکان اسمبلی کو ایک پلاٹ نہیں ملتا،ان کو ریٹائرمنٹ پر پلاٹ مل جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں