During those proceedings, Barrister Momin argued that his client is being subjected to political victimization following his association with Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), merely on the behest of the aforementioned respondents.

عثمان بزدار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم واپس لینے کی استدعا مسترد

لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری وکیل کی عثمان بزدار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم واپس لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سابق وزیر اعلی پنجاب کی حفاظتی ضمانت میں 8 مئی تک توسیع کر دی،کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پیر تک گرفتار نہیں ہوں گے تو کچھ فرق نہیں پڑتا،ان کا ویک اینڈ اچھا گزر جائے گا۔

’’پاکستان ٹائم‘‘کے مطابق جمعہ کو لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس طارق سلیم شیخ نے سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی مقدمات کی تفصیلات اور حفاظتی ضمانت کیلئے درخواست پر سماعت کی،عثمان بزدار عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے سرکاری وکیل کی عثمان بزدار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم واپس لینے کی استدعا مسترد کر دی،دوران سماعت جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی ہر کیس میں گرفتاری کیوں درکار ہوتی ہے؟پرویز الہی کے گھر پر جو کچھ ہوا اس کے بعد آپ کو آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں،پیر تک گرفتار نہیں ہوں گے تو کچھ فرق نہیں پڑتا،ان کا ویک اینڈ اچھا گزر جائے گا،عدالت نے عثمان بزدار کو گرفتار نہ کرنے کے حکم میں 8 مئی تک توسیع کر دی اور کیس لارجر بنچ کو بھجوا دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں