تحریر:ابوبکر قدوسی
جنرل ضیاء الحق نے سیاسی جماعتوں کے اختلاف اور کسی حد تک ڈیڈ لاک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا ، کچھ وقت گزرا تو قومی اتحاد کی جماعتوں کو احساس ہوا کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے ۔ کیونکہ ملک میں فرد واحد کی آمریت تھی ، اظہار و بیان پر بدترین پابندی تھی ۔ گو اس کا نشانہ تو پیپلز پارٹی اور اس کے کارکنان تھے لیکن آئین معطل تھا تو سب کے لیے تھا ، بات کرنے پر پابندی تھی تو سب کے لیے تھی ۔۔۔ کچھ روز گزرے تو دوسری جانب کی سیاسی قوتوں کو بھی احساس ہونا شروع ہوا کہ کچھ غلط ہو گیا ہے ۔ مزاحمت شروع ہوئی ، حتیٰ کہ وہ مذہبی طبقات کہ جو ضیاء الحق کو امیر المومنین سمجھتے تھے کچھ روز گزرے کہ وہ مذل المومنین سمجھنے لگے۔۔۔ لیکن چکی میں ابھی تک صرف پیپلز پارٹی کے کارکنان پس رہے تھے ، آخر کب تک ؟ سو برف پگھلی ، پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی احساس ہوا کہ تنہا مقابل آنا ان کے بس میں نہیں اور قومی اتحاد کی جماعتوں کو بھی احساس ہوا کہ سیاسی عمل کا رکنا اور فرد واحد کی آمریت ملک کے لیے زہر قاتل ہے ۔۔ سو ایم آر ڈی کی داغ بیل ڈالی گئی ۔۔ جو جماعتیں بھٹو کے خلاف تحریک چلا رہی تھیں اور ان کی پھانسی پر کچھ ایسی مضطرب نہیں تھیں ، اور جن کو بھٹو کی خوفناک فسطائیت کا سامنا کرنا پڑا تھا ، وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل بیٹھیں اور پیپلز پارٹی نے بھی دل کے دروازے کھولے ۔۔۔۔۔ یعنی جو تھا ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا یہ ایک بڑا تاریخی واقعہ تھا ، لاہور میں ضیاء الحق کے مارشل لاء کے سات برس بعد کچھ کچھ سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ۔۔۔موچی دروازے کے سٹیج پر کل کے دشمن آج مل بیٹھے تھے ۔۔۔ سب قائدین جلسہ گاہ میں آنے کے لیے نواب زادہ نصراللہ خان کے گھر بیٹھے تھے ۔۔ میرا لڑکپن تھا ، سولہ برس عمر رہی ہو گی ۔۔میں بھی اس روز نواب صاحب کے اس کمرے میں ایک طرف کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ جس کے نقش آج بھی تازہ ہیں ۔۔۔ اس روز یہ سبق ملا کہ سیاسی طاقتوں کو ڈائیلاگ کے راستے کبھی بند نہیں کرنے چاہیے ، یہ وہ بات تھی کہ جو بھٹو کو اتنی دیر سے سمجھ آئی کہ پھانسی چڑھ گئے مگر بےنظیر بھٹو بہت جلد سمجھ گئیں ۔۔۔ آج یہی بات عمران خان کو بہت دیر سے سمجھ آ رہی ہے ، اگر وہ اپنی سیاست بچا پائے تو ان کو یہ سبق یاد رکھنا ہو گا کہ دروازے کھلتے بند تو ہوتے رہتے ہیں لیکن ان کو مستقل بند نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔ آپ ایک پارٹی کو چور چور کہہ کر جتنا بھی شور کر لیں ، اس سے یہ بات طاق نسیاں نہیں ہو جاتی کہ اس پارٹی کا ایک بڑا ووٹ بینک ہے اور ایک بڑا طبقہ اس قیادت کو قبول کرتا ہے ۔ دوسری طرف میاں نواز شریف یہ بات جانتے اور سمجھتے ہیں اور زمانے کے سرد و گرم بہت دیکھ چکے ۔ ان کا یہ کہنا کوئی بےسبب نہیں ، بلکہ ان کو معلوم ہے کہ صرف روز کے حد سے گزرے احتجاج سے کوئی خالص سیاسی جماعت دہشت گرد قرار نہیں دی جا سکتی اور نہ کالعدم ہو جاتی ہے ۔۔ سو انہوں نے عقل مندی کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ ایسا کرنے سے سیاسی طاقتیں اپنے ہاتھ کاٹ کے رکھ لیں گی ۔ وہ جانتے ہیں کہ سیاسی عمل کا مقابلہ سیاست سے کرنا ہی اچھا ہے پس پردہ طاقتوں کی مدد سے اگر عمران خان کی سیاست ختم کی گئی تو اگلے برس کسی اور کی باری بھی آ سکتی ہے ۔۔۔۔ دوسری جانب والوں کو بھی یہ بات سمجھ آنی چاہیے خوف کی آخری حد خوف کا رخصت ہو جانا ہوتا ہے ۔ سو لازم ہے کہ جرم کی سزا اتنی ہی ہو کہ جیسا جرم ہے ۔۔ اس وقت خوف کی فضاء ماضی کے کسی بھی مارشل لاء سے بڑھی ہوئی ہے ، یقین کیجیے ہم نے ضیاء الحق کا مارشل لاء اپنے لڑکپن میں دیکھا اور خود مال روڈ پر جلوسوں میں اس کے خلاف نعرے لگائے اور پولیس کے ڈنڈے کھائے ، پھر مشرف کا مارشل لاء بھی قوم نے دیکھا ، لیکن ایسا خوف نہیں تھا کہ خوف کے سبب پوری تحریک انصاف دبکی پڑی ہے ۔۔ میرا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ وقتی خوف ہے جو کچھ روز بعد ٹوٹے گا اور ان کے کارکنان منظم ہو کر بروئے کار آئیں گے۔ بہرحال یہ بہت دلچسپ موضوع ہے کہ ایک جمہوری دور میں ایسا خوف کیوں کر ہے ۔۔۔۔۔کہ ” از افق تابہ افق خوف کا سناٹا ہے ” ویسے یہ تفصیلی بحث ہے کہ ایک جمہوری دور میں ایسا خوف کیونکر ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟