People forced to evacuate from Hurricane Kati Bandar

سمندری طوفان ، کیٹی بندر سے لوگوں کو زبردستی نکالنا پڑا

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی ) وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹرشیری رحمان نےانکشاف کیا ہے کہ کیٹی بندر سے لوگوں کو زبردستی نکالنا پڑا، کوشش ہے بدھ تک انخلا مکمل کرلیں، افراتفری نہیں پھیلانا چاہتےمگر احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کریں، چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ وقت سے پہلے طوفان کی اطلاع دیدی تھی، کراچی اور شہری علاقوں میں تیز ہوائوں اور دیگر مسائل ہوسکتے ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہاکہ سمندری طوفان بائپر جوائے کیٹی بندر سے ضرور ٹکرائے گا، طوفان کراچی سے 470کلو میٹر دور ہے تاہم متاثر ہونے والے علاقوں سے کل تک انخلا مکمل کرنا چاہتے ہیں،بدین، ٹھٹھہ، بینظیر آباد ار دیگر علاقوں میں بارش ہوگی، کچے گھر ہوائوں اور بارشوں کی زد میں آسکتے ہیں، کیٹی بندر میں لوگوں کو زبردستی نکالنا پڑا ہے، 14سے 16جون تک فلائٹس کے حوالے سے بھی آج آگاہ کریں گے۔

مزید پڑھیں:بائپر جوائے نے ہندوستان میں تباہی مچا دی،اتنی ہلاکتیں کہ پریشانی کی حد نہ رہے

مشترکہ پریس کانفرنس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ طوفان کے حوالے سے وقت سے پہلے آگاہ کیا گیا، طوفان 5جون کے بعد زیادہ شدید ہونا شروع ہوا، وقت کے ساتھ ساتھ طوفان کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، طوفان 15 جون کو کیٹی بندر کے علاقوں سے ٹکرائے گا،انعام حیدر ملک نے کہا کہ کراچی اور شہری علاقوں میں تیز ہوائوں اور دیگر مسائل ہوسکتے ہیں، تمام اداروں کو الرٹ جاری کردیئے گئے۔

سب سے معتبر اور سب سے مستند خبروں، ویڈیوز اور تجزیوں کے لیے ”پاکستان ٹائم‘ کے فیس بک اور ٹوئٹر پیج کا وزٹ کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں