At least five people were killed and several others injured in a suicide blast at the Jamia Darul Uloom Haqqania madressah in Khyber Pakhtunkhwa’s Nowshera district on Friday afternoon. Among the deceased was Maulana Hamidul Haq Haqqani, a political leader and religious scholar.

دہشت گردوں کا نشانہ مولانا حامد الحق کیوں تھے؟تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

لاہور(سپیشل رپورٹ)خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی جہانگیرہ تحصیل کے قصبے میں واقع مشہور دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم اور جمیعت علما اسلام س کے سربراہ مولانا حامدالحق حقانی جمعہ کی نماز کے بعد مدرسے کی مرکزی مسجد میں ہونیوالے خودکش دھماکے میں شہید ہو گئے ہیں،ان کی شہادت کی خبر پورے ملک میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ہے،دہشت گردوں کا نشانہ مولانا حامد الحق کیوں تھے؟تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں۔
”پاکستان ٹائم“کے مطابق جامعہ حقانیہ کے نائب مہتمم اور مولانا سمیع الحق شہید کے صاحبزادے مولانا حامد الحق حقانی 26 مئی 1968ء کو اکوڑہ خٹک میں پیداہوئے اور انہوں نے دینی تعلیم دارالعلوم حقانیہ ہی سے حاصل کی۔مولانا سمیع الحق کی 2018ء میں شہادت کے بعد وہ جمعیت علما اسلام(س)کے سربراہ اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے نائب مہتمم منتخب ہوئے،ان کے چچا مولانا انوار الحق دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم ہیں۔مولانا حامد الحق حقانی کے دادا مولانا عبدالحق حقانی قومی اسمبلی کے رکن رہے اور وہ عملی سیاست میں سرگرم تھے جبکہ ان کے والد مولانا سمیع الحق ایوان بالا کے رکن رہے اور نئے مذہبی اتحادوں کے قیام کے حوالے سے انھیں ملکہ حاصل تھا،دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے قیام میں بھی ان کا بڑا کردار تھا جنہوں نے اس سے قبل 2001ء میں امریکا کے افغانستان پر حملے کے بعد کے حالات میں دفاع افغانستان کونسل قائم کی تھی جس کے بعد کی شکل ایم ایم اے کی صورت میں دینی جماعتوں کے انتخابی کے طور پر سامنے آئی۔نومبر 2018 میں اپنے والد اور دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم مولانا سمیع الحق کے قتل کے بعد جمعیت علما اسلام(س)پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی،ان کے والد دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک مولانا سمیع الحق کو راولپنڈی کی نجی ہاوسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاون میں ان کی رہائش گاہ پر نامعلوم ملزمان نے متعدد بار چاقو کے وار کرکے شہید کر دیا تھا۔نوشہرہ کے قریب واقع اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ کو مولانا عبدالحق حقانی نے ستمبر 1947 میں قائم کیا تھا،جس کی سربراہی بعد میں مولانا سمیع الحق کے ذمہ آئی،افغان جنگ کے دوران بیشتر افغان طلبا نے اسی مدرسے سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں تحریک طالبان کی بنیاد رکھی۔دارالعلوم حقانیہ گزشتہ کئی برسوں سے تنازعات میں گھرا رہا ہے،خاص طور پر ان الزامات کی وجہ سے کہ اس کے کچھ طلبا سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل سے منسلک تھے لیکن مدرسے نے اس مقدمے میں ملزمان کے ساتھ کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا تھا۔جمعیت علمائے اسلام( ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی یہاں سے تعلیم حاصل کی۔افغان طالبان کے بانی ملا عمر سمیت متعدد طالبان رہنما اسی مدرسہ سے فارغ التحصیل تھے۔دارالعلوم حقانیہ کے قابل ذکر سابق طلبا میں امیر خان متقی،عبداللطیف منصور،مولوی احمد جان،ملا جلال الدین حقانی،مولوی قلم الدین،عارف اللہ عارف اور ملا خیر اللہ خیرخواہ جیسی نمایاں طالبان شخصیات شامل ہیں،جو طالبان میں شامل رہی ہیں۔مولانا حامد الحق حقانی تحریک تحفظ ختم نبوت،تحریک ناموس صحابہؓ میں بھی بڑا فعال کردار ادا کر رہے تھے اور اس حوالے سے انہیں گذشتہ کچھ عرصہ سے قتل کی دھمکیاں بھی مل رہیں تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں