پاک کشمیر تعلقات اور بدلتے حالات

تحریر: تنویرالاسلام
اتحاد و یکجہتی قوموں کی سب سے بڑی طاقت ہے اور اسلام ہمیں یکجہتی اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ یکجہتی کا مفہوم کسی فرد یا گروہ کے مقاصد کی تکمیل کی خاطراس شخص یا گروہ سے اتحاد اورہم آہنگی پیدا کر کے اُس کی مدد کرناہے۔ ریاست جموں وکشمیر اور پاکستان کے موجودہ مخصوص حالات پاکستانی اور کشمیری مسلمانوں کے درمیان کامل اور غیر متزلزل یکجہتی کے ساتھ ساتھ اخوت کا تقاضا کر تے ہیں۔ ہزاروںسالہ تاریخ کی حا مل ریاست جموں وکشمیر1947 کے برصغیر پاک و ہند بالخصو ص پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ساتھ قدرتی وجغرافیائی تعلق اور صدیوں سے سماجی،تجارتی ،ثقافتی اورمذہبی رشتے چلے آرہے ہیں۔ جموںکشمیر کے مسلمان عرصہ دراز سے غیر ملکی حکمرانوں اور ڈوگروں کے بعد بھارتی ظلم وجبرکاشکار چلے آرہے ہیں۔خطہء پنجاب کے مسلمانوں نے تاریخ کی ہر مشکل گھڑی میں کشمیریوں کا ساتھ دیاہے۔ ڈوگرہ تانا شاہی کے دور میں حکیم الامُت ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال نے 1931 میں ”کشمیر ایکشن کمیٹی ”کا قیام عمل میں لاکر اہلیان جموں وکشمیر کو ظلم وستم سے نجات دلانے کے لئے مؤثر تحریک چلائی ۔کشمیرایکشن کمیٹی نے علامہ اقبال کی صدارت میں14اگست 1931کو لاہور کے موچی دروازہ پر تاریخی جلسے کا انعقاد کر کے ریاستی مسلمانوں سے یکجہتی اور اتحاد کا فقید المثال مظاہرہ کیا۔ ڈوگرہ حکمرانی کے خلاف ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی تحریک کے عروج کے دوران ہی برصغیر کے مسلمانوں نے قیام پاکستان کے لئے منظم تحریک شروع کی۔مسلمانان جموں کشمیرنے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے ملی نظریہ کی تقلید کرتے ہوئے تحریک پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور یوںڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف جار ی کشمیریوں کی جدوجہد” تحریک حصول پاکستان” کا حصہ بن گئی ۔ مسلمانان جموں وکشمیرنے قیام پاکستان سے قبل ہی آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے سری نگر میں منعقدہ 19جولائی1947کے اجلاس میں قرارداد الحاق پاکستان منظور کرکے ریاست جموں وکشمیر کا پاکستان میں شمولیت کا اعلان کیا۔ برصغیرکے مسلمانوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے صلے میں14 اگست1947 کوپاکستان معرض وجود میں آیا لیکن بدقسمتی سے تقسیم بر صغیر کے دوٹوک اصولوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے باوجود ریاست جموں کشمیر پاکستان کا حصہ نہ بن سکی۔ کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست جمو ںکشمیرکا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کے بجائے ایک “سٹینڈسٹل معاہدہ” کیا۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد ریاست جموں کشمیر کے مسلمانوں نے صوبہ سرحد کے لوگوں کی مدد سے مسلح جدوجہد کے ذریعے ریاست کے ایک حصے کوڈوگرہ فوج سے آزاد کرایا۔بھارت نے 27اکتوبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ کے ریاست جموںکشمیر کا ہند یونین سے الحاق کرنے کے اعلان کے فوراً بعداپنی فوجیں سرینگر کے ائیرپورٹ پر اتار کر ریاست کے بیشتر حصے پر غاصبانہ قبضہ جما لیا۔ کشمیر میں جنگ کے دوران بھارت 1948 کو مسئلہ کشمیر لے کر اقوام متحدہ میں گیا۔ اقوام متحدہ نے کشمیر میں جنگ بندی کرانے کے بعد5 جنوری 1949کو قرارداد منظور کرکے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا فیصلہ کیا جس کے تحت ریاست جموں کشمیر کے لوگ ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ریاست کا بھارت یا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کئی قراردادیں منظور کیں لیکن کشمیری عوام کو حق خودارادیت کا موقع نہیں دیا گیا جس کے حصول کے لئے وہ گزشتہ سات دہائیوں سے جدوجہد کررہے ہیں ۔اس دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان 19 ستمبر1960 کو “سندھ طاس معاہدہ” اور 1965کی پاک بھارت جنگ کے بعد10جنوری1966کو “تاشقند معاہدہ” طے پایا۔ جس کے تحت دونوں ممالک کے مابین دیگر امور کے علاوہ 5اگست 1965کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں پرفوج کی واپسی اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا اتفاق ہوا جب کہ “سندھ طاس معاہدے” کے تحت مقبوضہ کشمیر کے دریاؤں جہلم، چناب اور سندھ سے بجلی پیدا کرنے کا اختیار بھارت کو دیا گیا۔پاکستانی اور کشمیری عوام میں ان دونوں معاہدوں کے بارے میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔ 1971 میں بھارت نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی حمایت کرکے وہاں مداخلت شروع کی جس کے خلاف 19اگست 1971کو کشمیر میں تاریخی مظاہرے ہوئے ۔ اس دوران پاکستان 16دسمبر 1971کو دولخت ہو ا اور سقوط ڈھاکہ کے بعد2 جولائی1972کو بھارت اور پاکستان کے درمیان “شملہ سمجھوتہ “طے پایاجس میں تنازعہ کشمیر کواقوام متحدہ کی قرار دادوںکے بجائے باہمی مذکرات کے ذریعے حل کرنے کامعاہدہ کیا گیا۔اس معاہدے سے بین الاقوامی حل طلب کشمیر کے معاملے کو دوطرفہ مسئلہ بنا دیا گیا۔ ان واقعات کی وجہ سے جموںکشمیر کا سیاسی اور سماجی نظام تہہ و بالا ہوکر رہ گیااور13نومبر1974کو جموں و کشمیر محاذرائے شماری کے رہنما مرزا محمد افضل بیگ اور بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے نمائندے جی پارتھا سارتھی نے” کشمیر ایکارڈ “کی دستاویز پر دستخط کیے۔ اس ایکارڈ کے تحت مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر اور بھارت کے تعلقات آئین ہند کے دفعہ 370 کے تحت برقرار رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے شیخ محمد عبداللہ نے 25 فروری1975کو جمو ں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھالیا۔ کشمیری مسلمان اس سمجھوتے پر سخت برہم ہوئے اورانہوںنے وزیر اعظم پاکستان ذولفقار علی بھٹو کی اپیل پر 28فروری1975کو مقبوضہ ریاست میں تاریخی ہڑتال کر کے بھارت سے مکمل آزادی تک تحریک جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔بھارت نے جموں کشمیر پر 27 اکتوبر 1947کے اپنے غاصبانہ قبضے کے بعد مقبوضہ ریاست کو خصوصی آئینی حیثیت دی تھی۔ بھارتی آئین کے دفعہ370 کے تحت ریاست جموں وکشمیر بھارت کے زیر انتظام ایک نیم خود مختارریاست تھی جس کا با ضابطہ اپنا آئین اور جھنڈا تھا اور اسے داخلی انتظامی اور خود مختاری حاصل تھی۔ اس دفعہ کے تحت دفاع،مواصلات اور خارجہ امور کے بغیر کسی بھی بھارتی قانون حتیٰ کہ مالیاتی ایمرجنسی کا نفاذ بھی مقبوضہ جموں کشمیر میںریاستی اسمبلی کی منظور ی کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔دفعہ 35A کے تحت ریاست کے اندر زمینوں کی خرید وفروخت ، سرکاری وظائف و ملازمتوںاور ریاستی اسمبلی کے لئے ووٹ دینے کا حق صرف ریاستی باشندوںکو حاصل تھا۔ اس آرٹیکل کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں پیدا ہونے والا شخص ہی وہاں کا شہری ہو سکتاتھااور غیر ریاستی سے شادی کرنے والی خواتین جائیداد کے حق سے محروم ٹھہرتی تھیں۔ بھارت 75 برس سے کشمیریوں کے دل جیتنے اور ان کی انڈینائزیشن کے لئے جامعہ منصوبہ بندی کرتا رہا ہے۔ ثقافتی یلغار، کشمیری قیادت کو اقتدار کا لالچ دینا،وہاں کے مسلمانوں کو تقسیم کرنا اور عوام کو ضروریات زندگی کے علاوہ صنعتی قرضوںپر سبسڈی دینا ا س منصوبہ بندی کا حصہ رہاہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر کی نیم خودمختاری ،سوا ارب انسانی آبادی کے ملک بھارت کے اندرمعاشی ترقی کے مواقع اور مراعات سے کشمیریوںکی بھارت سے ذہنی ہم آہنگی پیدا نہ ہوسکی اور وہ ہر سطح پر اپنی آزادی کے لئے کوشاں رہے ۔ بھارت 1990سے 2019 تک مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری عسکریت اور عوامی مزاحمت کی وجہ سے سخت دبائو میں تھا۔اس لئے بھارت ریاست میں جاری تحریک سے جان چھڑانے کے لئے مقبوضہ ریاست کو مزید خود مختاری دینے کے لئے حریت قیادت کو بات چیت کی پیشکش کرتا رہا۔ بھارتی وزیر اعظم پی وی نرسمہاراؤنے 4 نومبر 1995کو اعلان کیا کہ بھارت کشمیریوں کوتا حد آسمان مزید خود مختاری دینے کے لئے تیار ہے۔ اس کے بعد بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے19 اپریل 2003 کو سرینگر میں کشمیریوں کو بات چیت کی پیشکش کی اور اعلان کیا کہ وہ انسانیت ،جمہوریت اور کشمیریت کے اصولوں کے تحت کشمیریوں کومزید خود مختاری دینے کے لئے تیار ہیںاور ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے ساتھ امن اور دوستی کے لئے ہاتھ بڑھانے کا اعلان بھی کیا ۔ کشمیریوں کو مذاکرات اور مزید خود مختاری پر آمادہ کرنے کے لئے بھارت کے اعلیٰ سطحی وفود کشمیرآتے رہے۔ ان تمام بھارتی کوششوں کے جواب میں کشمیر کے طول وعرض سے بیک آواز ایک ہی نعرہ” ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمار ا ہے” لگتا رہا مسلمانان کشمیر نے پاکستان کے بغیر کسی بھی بات چیت میں شامل ہونے اور آزادی سے کم کسی بھی بات پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے تحریک کو جاری رکھا۔ پاکستان کے ساتھ محبت کی پاداش میں بھارتی افواج اور انتہا پسند ہندوں جنونیوں نے 1947 سے لے کر آج تک ظلم وبربریت کی انتہا کر کے لاکھوں مسلمانوں کو شہید اور پاکستان ہجرت پر مجبور کیا۔مقبوضہ کشمیر میں جاری حالیہ تحریک کے دوران بھارتی افواج نے آگ اور خون کی ہولی کھیلتے ہوئے تقریباً ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا ۔ہزاروں عورتیں بیوہ اور ایک لاکھ کے قریب بچے یتیم ہو گئے۔بھارت نے تحریک آزادیٔ کشمیر کوکچلنے کی لئے کشمیری مسلمانوں کی اربوں روپے کی مالیت کی جائیدادیں جلا کر اور بارود سے اُڑاکر خاکسترکیں۔ان مصائب وآلام کے باوجودکشمیر کے مرد و زن خصوصاً نوجوان سرینگرسے لے کر بھارت کے کھیل کے میدانو ں اورتعلیمی اداروں تک پاکستانی پرچم لہرا کرتحریک آزادیٔ اور تکمیل پاکستان کے لئے سر بکف رہے۔کشمیری مسلمانوں نے ہمیشہ اپنے قول وفعل سے بھارت سے نفرت اور ملت اسلامیہ پاکستان سے والہانہ اور غیر متزلزل محبت کا تسلسل کے ساتھ ثبوت دیا ہے۔بھارتی ظلم و زیادتی کی شکار کشمیری عفت ماب مائوں، بہنوں اور بیٹیوںنے پاکستانی کے سبز ہلالی پرچم کو اپنے سروں کا آنچل اور شہیدوں کا کفن بنا دیا۔ کشمیر کی مسلم بیٹیاں ایک ہاتھ میں پتھر اور دوسرے میں پاکستانی پرچم لے کر بھارتی افواج کا مقابلہ کرتے ہوئے عالم اسلام اور پاکستان کو مدد کے لئے پکارتی رہیں۔ تحریک آزادیٔ جموں وکشمیر کو 1947سے لے کر آج تک ہمیشہ پاکستا ن عوام کی بھر پور حمایت حاصل رہی ہے پاکستانی عوام نے کشمیرکی آزادی اور تکمیل پاکستان کے لئے پاکستان کی مذہبی اور عسکری تنظیموں کے ساتھ غیر معمولی جانی اور مالی تعاون کیا کشمیر کے طول و عرض میں شہداء کے ہر قبرستان میں پاکستانی ماؤں کے لخت جگر دفن ہیں لیکن اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ حکومت پاکستان کی کمزور اور اسٹریٹجک ریسٹرینٹ کشمیر پالیسی کی وجہ سے تحریک آزادیٔ کشمیر مناسب اوقات پر مطلوبہ ا مداد اور مؤثر سفارتی ترجمانی سے محروم رہی جس وجہ سے کشمیر پر بھارتی قبضے کا خاتمہ نہ ہوسکا اور کشمیری مسلمانوں کی تاریخی اورمثالی جدوجہدکے باوجود اقوام عالم نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھائے۔ اس کے برعکس بھارتی حکومت نے مؤثر سفارت کاری سے”انکریڈیبل انڈیا” اور”شائنگ انڈیا” کے بیانیے کو فروغ دے کر دنیا بھر میںملک کی سافٹ امیج بلڈنگ کرکے دنیا بھر میں اثر و رسوخ قائم کرلیااور آج بھارت مغربی اور اسلامی دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ دفاعی اور معاشی شراکت داری کی وجہ سے ایک ابھرتی ہوئی معاشی اور دفاعی قوت کے طورابھررہا ہے۔ان ہی حالات میں بھارت نے 5اگست 2019کو آئین ہندمیں تبدیلی لا کر دفعہ 370اور 35Aکو ختم کر ے مقبوضہ کشمیر کی داخلی خود مختاری سلب کرتے ہوئے مقبوضہ ریاست کو دو یونین ٹریٹریز ” جموںکشمیر اور لداخ” میں تقسیم کر کے آزادکشمیر کو ہتھیانے کا اعلان کردیا۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کے سندھ طاس معاہدے کے خاتمے اور سی پیک کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے عزائم آشکار ہوگئے ۔ پاکستان اورکشمیر جہاں ایک دوسرے کے ساتھ تاریخی ، جغرافیائی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہیںوہاںیہ دونوں خطے معاشی اور دفاعی اعتبار سے ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں ۔ ریاست جموں و کشمیر پاکستان کے دفاع کے لئے ایک مضبوط حصار اور معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ پاکستان کے کھیتوں کو سیراب کرنے کا واحد ذریعہ کشمیر کے پہاڑوں سے بہتا ہوا پانی ہو یا پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے سی پیک کا منصوبہ ہردوکا تعلق ریاست جموں کشمیر سے ہے۔ ریاست کے صرف آزاد علاقے میں ہی اگرمناسب منصوبہ بندی کے تحت ڈیم بنا کر اور ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس لگا ئے جائیںتو پاکستان کے توانائی بحران کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ان ہی حقائق کی وجہ سے” کشمیر” کو” پاکستان کی شہ رگ” کہاجاتا ہے۔بھارت5اگست 2019کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے ،وہاں کے مسلم کلچر کو ختم کرکے کشمیر کو جسے” سرزمین اولیا “کہا جاتا ہے کو”دیوی دیوتائوں کی دھرتی “میںتبدیل کر نے کا در پے ہے۔ بھارت ریاستی دہشت گرد ی سے کشمیری مسلمانوںکو صفحہ ہستی سے مٹانے اور آزادخطے کے عوام کو پاکستان سے دور کرنے کے لئے خطر ناک اقدامات کررہا ہے ۔ بھارت کے خوفناک اقدامات اور عزائم کے باوجود حکومت پاکستان کشمیریوں اور پاکستان کے وسیع تر مفاد میںکشمیر کے لئے کوئی بامقصد اقدام نہیں اٹھارہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتیں اور آزاد کشمیر کی حکومت اور قیادت بھی خاموش ہے۔ اس پراسرارخاموشی اور منفی رویوں کے باعث پاکستان سے والہانہ محبت وعقیدت کے باوجود منقسم ریاست جموں وکشمیر کے عوام میں خدشات،بداعتمادی اور مایوسی جنم لے رہی ہے جس سے پاکستان اور کشمیر کے درمیان نظریاتی رشتے کمزور ہو رہے ہیں۔ہندوتوانظریہ کی حامل بھارتی حکومت کے خطرناک منصوبوں کے پیش نظر آج کشمیری مسلمانوں کا تشخص و قومی وجود ،تحریک آزادیٔ کشمیر کا تسلسل اوراسلامی اقدار انتہائی خطرے سے دوچار ہیں۔ ان حالات میں کشمیری مسلمان انتہائی خوف زدہ اور مایوس ہیںاور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کا حوصلہ ٹوٹ رہاہے ۔اس مایوسی کے عالم میںاگرمقبوضہ کشمیرکے مسلمان کا حوصلہ مکمل ٹوٹ گیا تووہ بھارت کی فتح ہوگی جس کے نتیجے میں پاکستان میںسیاسی عدم استحکام اورصوبائی و لسانی تعصبات میں اضافہ اور آزاد کشمیر و پاکستان کے درمیان دوریاں پیدا ہونے کے علاوہ سندھ طاس معاہدہ اور سی پیک کا منصوبہ خطرے میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ اندرایں حالات کشمیری مسلمانوں کے تحفظ، تحریک آزادیٔ کشمیر کاتسلسل مؤثر انداز سے بحال رکھنے اور خطہ کشمیر اور پاکستان کے عوام کے درمیان جذبہ اخوت ویگانگت پیدا کرنے کے لئے مؤثر اور مربوط کوششیں کرنا کشمیراور پاکستان کے اصحاب فکر و اختیار کا قومی اور ملی فریضہ نیز وقت کی پکارہے۔ایسے میں کشمیری قوم کی بقاء و آزادی کے لئے مضبوط پاکستان کی اہمیت اور پاکستان کی معیشت و دفاع کے لئے کشمیر کی اہمیت کو دونوں خطوں کے عوام میں ذہن نشین کرنے کے ساتھ پاکستانی عوام کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ تحریک آزادیٔ کشمیر در اصل تحریک تکمیل پاکستان ہے واضح رہے کہ کشمیرکا المیہ پاکستان کا المیہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں