رمضان المبارک قرآن’ تقویٰ اور جہاد کا مہینہ قسط( اول)

نوید مسعود ہاشمی
رحمتوں اور برکتوں کا موسم بہار ہمارے زخموں سے چور بدن’ غموں سے نڈھال روح اور خون میں نہائی ملت اسلامیہ پر مسیحا بن کر سایہ فگن ہو رہا ہے،رمضان کے روح پرور اور ایمان افروز ایام ہمارے جیسے گنہگار’ کمزور ایمان’ بے عمل اور کمزور قوت ارادی والے لوگوں کو نئی توانائی عزم و حوصلہ عطا کر دیتے ہیں۔ سوتے ہوئے احساس جاگ جاتے ہیں اور نئے سرے سے کمر ہمت کس لیتے ہیں۔ ہر دھڑکتا ہوا دل اس کے استقبال کے لئے بے قرار ہو جاتا ہے’ سونے جاگنے’ کھانے پینے اور صبح و شام کے معمولات یکسر بدل جاتے ہیں۔ آج سے 1444ء سال پہلے تک رمضان کا چاند ہر سال طلوع ہوتا تھا اور ماہ رمضان ہر سال آتا تھا اور چلا جاتا تھا۔ اس کی کوئی اہمیت نہ تھی لیکن اچانک ایک انقلاب آفریں رات نے اس مہینہ کو یادگار بنا دیا۔ ریگستان عرب میں بستیوں کی سردار وادی ام القریٰ مکہ میں واقع غار حرا میں اللہ نے اپنے بندوں سے براہ راست کلام کرنے کے لئے محمد مصطفی ٰ احمد مجتبیٰ ۖ کو اپنا آخری فرستادہ مقرر کیا اور محمدۖ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا۔ وہ رات ہزار راتوں سے افضل قرار پائی اور خیر من الف شہر بن گئی۔ وہ مہینہ جس میں یہ قرآن نازل ہوا سال کے 12مہینوں کا سردار بن گیا… اور جن لوگوں نے قرآن کو تھام کر زندگی کی سیاسی’ سماجی’ معاشی اور تہذیبی جنگ لڑی وہ دنیا کے امام بن گئے۔ عرب کے ریگستانوں میں بکریاں چرانے والے’ اونٹ ہنکانے والے انسانی سماج میں تغیر و انقلاب کے قائدین گئے اور انہوں نے بنی نوع انسان کو ظلم و استحصال کی زنجیروں سے نجات دلا دی۔ یہ ماہ صیام کیا ہے،ماہ صیام قرآن کا مہینہ ہے، روزوں کا مہینہ ہے، تقویٰ کا مہینہ ہے، صبر کا مہینہ ہے، انسانی ہمدردی کا مہینہ ہے، قتال فی سبیل اللہ کا مہینہ ہے… قرآن حکیم محض ایک کتاب نہیں ہے بلکہ پیغام انقلاب ہے، قرآن ظلم کے عالمی نظام کے مقابلے میں عدل کا نیا عالمی نظام ہے، قرآن وقت کے جمے ہوئے نظام کو الٹ دینے کا مکمل لائحہ عمل ہے اور رمضان قیام عدل و انصاف کی اسی انقلابی جدوجہد کے لئے مجاہد انسانوں کو تیار کرتا ہے۔ جوحقیقی عبادت کی تکمیل کا ٹریننگ کیمپ ہے۔ رمضان کے روزے مسلمانوں کی اس عبادت کے لئے تیار کرتے ہیں کہ اس جہاد کے لئے تقویٰ ضروری صفت ہے اور رمضان کے روزے تقویٰ پیدا کرتے ہیں جو ایک اکیلے اور تنہا فرد کو بھی باطل کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں: ترجمہ: ” اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروئوں پر فرض کئے گئے ہیں۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔” (بقرہ 183) اور پھر آگے چل کر اس کا مقصد بیان کیا گیا ہے کہ :ترجمہ: ”اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار کرو” لہٰذا رمضان المبارک کے یہ روزے ہم پر اس لئے فرض کئے گئے کہ ہم ساری دنیا میں اللہ کے نظام عدل کو غالب کرنے کی جدوجہد کریں۔اسلامی انقلاب کی یہی جدوجہد مومن کو تقویٰ سے قریب تر کرتی ہے۔ پھر جب تقویٰ سے معموریہ انقلابی مجاہد ظلم کے فرسودہ سیکولر نظام کو مٹا کر زندگی کے نئے نظام کی تعمیر کرتا ہے تو منصب اقتدار پر ایسے حکمران فائز ہوتے ہیں جو عوام کے حکام نہیں’ ان کے خادم ہوتے ہیں۔جو دریا کے کنارے ایک کتے کی موت پر اپنے آپ کو بھی ذمہ دار اور جوابدہ سمجھتے ہوئے لرزہ براندام رہتے ہیں۔ عوام کے پیٹ پر ایک پتھر بندھا ہو تو ان کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوتے ہیں’ جو اپنے غلام کی سواری کی نکیل تھام کر اللہ کے لئے’ اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں۔ آج انسان کے دامن میں جو بھی خیر ہے اس کی بنیادیں1444ئسال قبل کے اس دور سے وابستہ ہیں۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد انسانیت کے دامن میں جو کچھ بھی ہے انسانی تاریخ کے گمنام پتھر’ ترقی اور تہذیب کی بے بنیاد اینٹیں، لہٰذا کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں میں کلمہ گو مسلمان’ بے عمل’ بے حیثیت اور گنہگار ہونے کے باوجود خوش بخت ہیں کہ جن کی ایک مضبوط بنیاد ہے۔ اور ظلم کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی اس دنیا کو اگر اپنی فلاح چاہئے تو اس کی عمارت اسی بنیاد پر استوار ہوگی… نئی دنیا کی تعمیر’ عدل و انصاف کا حصول اور دنیا کا حسین مستقبل انہی بنیادوں پر فخر کرنے والے ”بنیاد پرستوں” سے وابستہ ہے۔ ”صائم” عربی زبان میں گھوڑے کو کہتے ہیں جسے دھوپ میں بھوکا پیاسا کھڑا کرکے جنگ کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ اہل ایمان پر رمضان المبارک کے یہ تیس روزے بھی عین اس وقت فرض کئے گئے جب انہیں ایک جنگ یعنی ”غزوہ بدر” کا سامنا تھا اور یہی موقع تھا جب قرآن نے اہل ایمان پر ”قتال” فرض کیا تھا۔ مسلمانوں پر اسلامی انقلاب کی جدوجہد کے راستے میں رمضان کے تیس روزے اور قتال بیک وقت فرض ہوئے۔ ”کتب علیکم الصیام” اور کتب علیکم التقال کے احکامات ایک ہی مرحلہ میں دئیے گئے۔ گویا کہ اصل عبادت فساد فی الارض کے خاتمہ اور غلبہ اسلام کی وہ عظم جدوجہد تھی جس کے لئے اہل ایمان پندرہ سال سے گوشت پوست کے زندہ بتوں سے برسرپیکار تھے۔ اسی لئے قرآن نے اہل ایمان کے سامنے روزوں کا مقصد یہ بیان کیا ہے کہ ولتکبر اللہ علی ماھداکم اور اس فریضہ کی تکمیل کی جدوجہد میں تمہیں آزمائشوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا … روزہ ان آزمائشوں کے مقابلہ کی طاقت اور صلاحیت دے گا۔ طاغوتی حکمران تمہیں بھوک اور پیٹ کی مار ماریں گے’ زندگی دشوار کر دیں گے’ یہ روزے آزمائشوں کو برداشت کرنے اور ہنستے کھیلتے جھیل جانے کی آسانی پیدا کریں گے۔ اسی لئے رمضان المبارک کو نبی کریمۖ نے صبر کا مہینہ قرار دیا ہے۔ یہ قوت برداشت پیدا کرنے کا مہینہ ہے۔ رمضان المبارک کے روزے انسان کی قوت ارادی کو مضبوط کر دیتے ہیں اور وہ بھوک’ نیند اور شہوات کی کمزوریوں پر قابو پانے کی قوت حاصل کرلیتا ہے۔ رمضان روح اور بدن کی ازسرنو تطہیر و تعمیر کا مہینہ ہے۔ خواہشوں کو گھٹانے اور ضرورتوں کو کم کرنے کا مہینہ ہے۔ اللہ کے راستے کی جدوجہد میں اللہ کے قریب ہونے کا مہینہ ہے۔ چنانچہ جب روزہ کی جہادی روح سے سرشار 313بے سروسامان انقلابی مجاہد اور نظام ظلم کے یہ باغی میدان بدر میں سر پہ کفن باندھ کر نکلے تو اللہ کے فرشتے ان کی مدد کے لئے آسمان سے اتر آئے’ فتح ان کا مقدر بنی… اور نصرت الٰہی نے ان کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی ننھے معصوموں’ نہتے مجاہدوں اور بظاہر کمزور و ناتواں لوگوں نے تاریخ کے بڑے بڑے جابر سرداروں’ سرمایہ داروں اور نظام ظلم و جہل کے علمبرداروں کا سرتکبر سے خاک میں ملا دیا اور اسلامی انقلاب کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ منور ہو گیا،(جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں