پاکستان میں معاشی صورتحال روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے،سیاسی رہنما اپنی سیاست چمکانے کیلئے ملک کو داﺅ پر لگانے سے بھی نہیںچوکتے،ایک دوسرے پر الزامات کی بھرمار ہی ان کا مقصدبن چکی ہے۔آج پاکستان کی یہ حالت ہے کہ غریب کو دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہو رہی،ہر شخص پریشان ہے اور پاکستان مستقبل بارے ابہام کاشکار نظر آتاہے،کسی کو سمجھ نہیںآ رہا کہ آگے کیا ہو گا اور معاشی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔اس صورتحال بارے معروف کالم نگار اور تجزیہ کار حذیفہ رحمان نے قومی اخبارروزنامہ ”جنگ“ میں لکھے گئے اپنے کالم میں کہا کہ ”پاکستان میںآج کاروبار مکمل زبوںحالی کا شکار ہے،انڈسٹریز سے رئیل سٹیٹ تک ہر شعبہ سسکیاں لے رہا ہے۔سٹاکسٹ کا دھندہ عروج پر ہے۔پورے ملک میں ریاست کی رٹ بہت کمزور ہے۔9مئی کے بعد ریاست کی رٹ آہستہ آہستہ نظر آنا شروع ہوئی مگر رہی سہی کسر عدلیہ پوری کردیتی ہے۔آج سمجھا جاتا ہے کہ عمران خان کے ساڑھے تین برسوں نے معیشت کو اس حال پر پہنچا یا ہے مگر حقائق یہ ہیں کہ اتنا نقصان عمران خان کے دورِ اقتدار میں معیشت کو نہیں پہنچا ،جتنا عمران خان نے گزشتہ ایک سال میں معیشت کو پہنچایا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ انہوں نے زمان پارک میں بیٹھ کر جو کچھ پاکستان کی معیشت کے ساتھ کیا ،اس کا عشر ِعشیر بھی وہ وزیراعظم ہاوس میں بیٹھ کر نہ کرسکے۔پاکستان جیسی ترقی پذیر معیشت میں سب سے اہم کردار یہاں کے مقامی سرمایہ داروں اور بزنس مینوں کا ہوتا ہے۔ معیشت میں ان سرمایہ داروں کا پیسہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ٹیکس کا نظام کمزور ہونے کی وجہ سے ریاست انہی سرمایہ داروں کے پیسے کی روز مرہ ٹرانزکشن کے ذریعے بلواسطہ یا بلاواسطہ ٹیکس وصول کرکے معیشت چلاتی ہے۔انہی سرمایہ داروں کے پیسے سے صنعتیں اور رئیل اسٹیٹ کا کاروبار چلتا ہے۔اس سے نہ صرف روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں بلکہ ملک میں معاشی استحکام کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔عمران خان جب تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزیراعظم ہاوٓس سے بے دخل ہوئے تو انہوں نے پہلے کچھ ہفتے بنی گالہ میں گزارے پھر پنجاب حکومت کی واپسی کی یقین دہانی کے بعد لاہور زمان پارک کو اپنا مستقل مسکن بنا لیا۔زمان پارک میں ان کی باقاعدہ یہ روٹین رہی کہ وہ روزانہ کی بنیادوں پر کاروباری حضرات اور بڑے صنعتکاروں سےملتے تھے۔عمران خان کی کمیونیکیشن صلاحیتوں سے تو سب واقف ہیں۔جس طرح وہ پراعتماد انداز میں روز اپنی بائیس سالہ جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہیں،اسی طرح وہ پورے اعتماد سے تمام کاروباری حضرات کو پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی نوید سناتے تھے۔عمران خان دلیل سے بھرپور لیکچر میں سامنے بیٹھے کاروباری اشخاص کو یہ یقین دلادیتے تھے کہ آئندہ چند روز میں پاکستان کے ڈیفالٹ کو کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے بعد ڈالر کئی سو روپے اوپر چلا جائے گا اور روپیہ بوریوں میں بھر کر بکے گا۔اس ساری بریفنگ میں حماد اظہر،شوکت ترین او ر اسد عمرجلتی پر تیل کا کام کرتے اور بطور سابق وزیر خزانہ مختلف اعدادو شمار کے ذریعے عمران خان کے دعوئے کو عملی جامہ پہناتے تھے۔ جب وہ کاروباری شخص زمان پارک سے واپس اپنے گھر پہنچتا تھا تو سب سے پہلے تو وہ گلوکوز کی ڈریپ لگواتا اور پھر ہوش و حواس میں آکر سوچتا کہ اب اسے کیا کرنا چاہئے۔یہ کام عمران خان صاحب اور انکی ٹیم نے سو سے ڈیڑھ سو کاروباری افراد کیساتھ کیا۔یہ سب وہ کاروباری افراد تھے جن میںسے ہر ایک کی 80سے 100ارب روپے کی حیثیت تھی۔ ان سب کاروباری افراد نے اپنا پیسہ مختلف انداز سے بینکوں سے نکالا اور بڑے مارجن پر ہنڈی والوں کے ذریعے ملک سے باہر بھیج دیا اور وہاں تمام سرمایہ کاری فارن کرنسی میں منتقل کردی اور کچھ سرمایہ داروں نے یہیں پر ڈالر اور سونا خرید لیا اور عمران خان کے بقول دیوالیہ ہونیوالے پاکستانی روپےسے اپنی جان چھڑ و ا لی۔ایسا کرنے سے دو نقصان ہوئے،ایک تو اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی ڈیمانڈ بڑھ گئی اور ڈالر راتوں رات تیسری سنچری بھی مکمل کرگیا جبکہ دوسرا ملک کی رئیل اسٹیٹ مکمل ڈوب گئی۔انٹیلی جنس اداروں کے محتاط اعداد و شمار کے مطابق اس دوران 7سے8ہزار ارب روپیہ پاکستان سے سے باہر منتقل ہوا اور یوں پاکستان کی معاشی بنیادیں ہل کر رہ گئیں۔جبکہ معیشت کی رہی سہی کسر عمران خان صاحب کی انتشار پسندانہ سیاسی حکمت عملی نے پوری کردی۔ا?ئی ایم ایف جیسے ادارے کو ایک بہانہ فراہم کردیا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام تک ا?ئی ایم ایف کوئی قسط جاری نہیں کرے گا اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تک ا?ئی ایم ایف براہ راست عمران خان کی امداد کے لئے برملا میدان میں کود پڑا۔
پاکستان میں ہمیشہ سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماوٓں میں اختلافات رہے ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کاروائیاں بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک شخص کو اقتدار واپس نہیں دیا گیاتووہ ملکی معیشت سمیت ہر چیز تباہ کرنے پر تیار ہے۔ پی پی پی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کی شدید مخالف رہی ہیںلیکن کبھی کسی جماعت نے اقتدار کے حصول کی خاطر ملکی معیشت سے نہیں کھیلا۔اگر عمران خان اس ملک میں واقعی حقیقی سیاست کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ دیوالیہ نواز شریف یا شہباز شریف کو نہیں ہونا بلکہ دیوالیہ اس پاکستان کو ہونا ہے جس کے وہ دوبارہ وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔خدارا ا?ئی ایم ایف سمیت تمام کاروباری حضرات کو واضح پیغام دیں کہ پاکستان میں آنے والی ہر حکومت پچھلی حکومت کے معاشی فیصلوں کو تسلسل سے آگے چلائے گی اور پاکستان کا دیوالیہ ہونا ملک کے دشمنوں کا ایک خواب ہے جو خواب ہی رہے گا۔ان شااللہ
