M Raheel Moavia

جامعات میں نشہ و جنسی استحصال کیوں بڑھ رہا ہے؟


محمد راحیل معاویہ
کچھ عرصہ قبل چئیرمین ایچ ای سی پنجاب ڈاکٹر شاہد منیر سے ایک ملاقات کے دوران میں نے پوچھا کہ جامعات میں منشیات کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ کیوں ہوتا جارہا ہے؟
نوجوان لڑکیوں کو یہ لت زیادہ لگ رہی ہے.
موصوف نے پاءوں پر پانی ہی نا پڑنے دیا اور میرے اس سوال کو محض خام خیالی،الزام اور جامعات کے خلاف پروپیگنڈہ قرار دے دیا.
گزشتہ دنوں جنوبی پنجاب کی سب سے پرانی،تاریخی اور اہم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے جو خبریں،انکشافات اور واقعات سامنے آرہے ہیں اس نے پورے ملک کو تشویش لاحق کر دی ہے.
مائیں اپنا زیور بیچ کر،باپ اپنی خاندانی زمین کے بدلے یا خون پسینے کی کمائی لوٹا کر،گھر والے اپنا پیٹ کاٹ کر اور سارے علاقے کی طرح طرح کی باتیں سن کر، اپنے دل پر پتھر رکھ کربچیوں کو اعلی تعلیم و تربیت کے لیے یونیورسٹیوں میں بھیجتے ہیں لیکن جب وہاں سے ایسی خوفناک خبریں آئیں کہ ہزاروں بچیوں کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز نکل آئی ہیں تو ان پر کیا گزرتی ہوگی؟
اعلی تعلیم و تربیت کے حصول کے لیے یونیورسٹی بھیجی گئی بچی اگر وہاں سے منشیات کی عادی،جنسی ہراسگی یا اپنی مرضی سے جنسی تعقات کو اپنا حق سمجھنے کے مرض میں مبتلا ہوکر نکلے گی تو والدین کے لیے یہ انتہائی تکلیف کا باعث ہوتا ہے.
ہمارے معاشرے کو اخلاقیات کی اس پستی تک لانے میں سب سے زیادہ گندا کردار احساس کمتری کےمارے اس طبقے نے کیا ہے جسے مغرب کی ہر گندگی و غلاظت بھی جدت و ترقی نظر آتی ہے اور وہ ہر موقع پر ناجائز جنسی تعلقات،منشیات کا استعمال اور دیگر قباحتوں کو ذاتیات قرار دے کر اس بنیاد پر انسان کو اچھا یا برا قرار دینا دقیانوسی اور قدامت پسندی سے تعبیر کرتے ہیں.
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں اعجاز شاہ نامی سیکیورٹی انچارج گرفتار ہوا تو پولیس نے اس سے منشیات و جنسی استعمال کی ادویات برآمدگی کا دعوی کیا. پولیس کے مطابق اس سے 5500 کے قریب تصاویر اور ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں جن کو فرانزک لیب بھجوا دیا گیا. اس گرفتاری کے بعد باقاعدہ پورے گینگ کے ہونے کا انکشاف ہوا جس کے بعد مزید گرفتاریاں ہوئیں،انتہائی خوفناک انکشافات ہوئے،سنگین الزام لگے اور پولیس نے منشیات فروشی و جنسی غلط کاری میں ملوث پائے جانے کا دعوی کیا.
پولیس کے سنگین الزامات کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کو ماننے سے انکار کردیا اور تاحال وہ اس کو اپنے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں .
وائس چانسلر کا کہنا ہے اس نے اس یونیورسٹی میں 25 نئے ڈیپارٹمنٹ بنا کر یونیورسٹی میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ قائم کیا ہے اور مزید یہ کہ یونیورسٹی کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے میرے خلاف یہ سازش تیار کی گئی.
یونیورسٹی انتظامیہ نے نا صرف اپنی صفائی دی بلکہ پولیس کے لگائے گئے الزامات کے مرکزی ملزم اعجاز شاہ کے بارے میں بھی کھلے الفاظ میں گواہی دی کے وہ شخص گزشتہ 8 سال سے یونیورسٹی کا ملازم ہے لیکن اس دوران آج تک اس شخص کے خلاف کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی.
پولیس کے دعوے اور انتظامیہ کے موقف میں الجھنا فطری سی بات تھی کیونکہ یہاں رنجش کا بدلہ لینےکا جھوٹے مقدمات سے بہتر کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہوتا. جھوٹے مقدمہ سے کسی کو اس کی سوچ سے زیادہ ننگا،گندا اور تنگ کیا جاسکتا ہے.
اس معاملہ میں بہتر جامع اور مظبوط موقف اس یونیورسٹی کے بچوں اور بچیوں کا ہوسکتا ہے جن کے بارے میں یہ تمام الزامات اور معاملات بیان کیے جارہے جارہے ہیں.
اس دن کے بعد میں نے یونیورسٹی کے متعدد طلباﺅ طالبات سے رابطے کیے اور ان کا موقف لینے کی کوشش کی.
طالبات سے بات کرکے ایک بات کا شدت سے احساس ہوا کہ بچیاں بہت خوفزدہ اور ڈری ہوئی ہیں اور لوگوں کے عجیب و غریب رویے اور سوالات سے خوفزدہ ہیں.
بہت ساری طالبات نے گھر والوں کی پریشانی کی بابت بھی آگاہ کیا کہ وہ بہت پریشان ہیں کہ پتا نہیں آنے والے دنوں میں کس کس کی بیٹی کی عزت تباہ ہوگی اور کس کس کی ویڈیو نکل آئے گی. بہت ساری طالبات کے والدین نے مارے خوف کے بچیوں کو یونیورسٹی بھیجنا چھوڑ دیا ہے.
طلباءو طالبات کی اکثریت نے یونیورسٹی میں منشیات کے استعمال اور جنسی استحصال کی بابت لگے الزامات کو عرصہ دراز سے جاری معمول کے واقعات قرار دیا.
زیادہ تر نے بتایا کہ جو لڑکیاں ایسے کام کرتی ہیں وہ ایسے کاموں کے عوض اپنے ناجائز مطالبات بھی منواتی ہیں اور یونیورسٹی میں اپنا ایک خصوصی مقام بنوانے یا غیر معمولی اہمیت حاصل کرنے کے لیے متعلقہ لوگوں کے بھی ناجائز مطالبات تسلیم کرلیتی ہیں.
کچھ لڑکیاں اچھے نمبروں کے لالچ،فیس …

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں