نفیر قلم محمد راحیل معاویہ
5 اگست 2019 کا وہ تاریک دن ہے کہ جس روز بھارت نے اپنے ہی آئین و قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی.
مودی نے اپنے بانیوں کی طرف سے کشمیریوں کا سودا کرنے والوں سے کیا گیا وعدہ بھی پاش پاش کردیا اور جن شرائط پر نام نہاد الحاق نامہ تیار کیا گیا تھا ان سے بھی مکر گیا.
بھارت کے آئین کے آرٹیکل 370 کی روح سے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی. کشمیر کی لولی لنگڑی پارلیمنٹ تھی اور وہ اپنا آئین بنانے میں بااختیار تھی.
یہ آرٹیکل کشمیر میں غیر کشمیریوں کی آبادکاری میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا.
مودی سرکار نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے ساری ریاست میں کرفیو نافذ کیا اور پوری دنیا کے انسانی حقوق کے دعویداروں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ شروع کردیا.
کشمیر کا پوری دنیا سے ہر قسم کا رابطہ منقطع کر کے ہزاروں لوگوں کو شہید کیا لاکھوں کی تعداد میں غیر کشمیری متعصب ہندوو¿ں کو لاکر کشمیر میں آباد کیا.
فار ہیومن رائٹس ان جموں و کشمیر کی رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2022 بھارت نے تین درجن سے زائد قوانین کو ختم کردیا ہے کہ جو قوانین کشمیریوں کے کسی نا کسی حد تک معاشی،سیاسی اور سماجی حقوق کے ضامن تھے.
اس دوران جموں و کشمیر میں 500 ارب روپے سے زائد کا کشمیریوں کا نقصان کیا گیا ہے.
2023 کے صرف سات ماہ کے اندر اندر 130914 اسلحہ کے لائسنس جاری کیے گئے ہیں اور یہ لائسنس ویلج ڈیفنس کمیٹیوں کو ڈیفنس گارڈ کا درجہ دے کر ان ہندو¿وں کو دیے گے ہیں جنہیں سرکاری ملازمت کے بغیر ہی بھارت نے لاکر کشمیریوں کے سر پر مسلط کردیا ہے کہ وہ جو چاہیں کریں.
وہ لوگ جس کو چاہتے ہیں قتل کردیتے ہیں جس کا چاہتے ہیں مکان گرا دیتے ہیں اور جس کی عزت سے کھیلنا چاہیں انہیں کھلی چھوٹ حاصل ہے.
اس عرصے میں 5000 سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں نابالغ بچے،صحافی،سیاسی و سماجی کارکن اور خواتین بھی موجود ہیں.
پبلک سیفٹی ایکٹ کے نام پر سینکڑوں صحافیوں کو گرفتار کیا گیا اور 651 پر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی خبر دینے پر فرد جرم عائد کی گئی.
کشمیر کی جیلوں میں صرف 3600 قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ ان میں 5300 قیدی رکھے ہوئے ہیں.
مسلم اکثریت والے علاقوں میں حلقے بڑے کرکے سیٹیں کم اور ہندو اکثریت والے علاقوں میں حلقے چھوٹے کرکے سیٹیں بڑھائی گئی ہیں تاکہ زیادہ ہندو الیکشن جیت سکیں.
پرانے قانون کے مطابق کشمیر کے مستقل اور پرانے رہائشی ہی ووٹ کاسٹ کرسکتے تھے جبکہ اس قانون کو بھی ختم کردیا گیا ہے اور ہر نئے آنے والے کو ووٹ کا حق دے دیا گیا ہے.
7 لاکھ 70 ہزار سے زائد نئے ووٹوں کا اندراج کروادیا گیا ہے.
بھارت نے 1947 میں کشمیریوں کی مرضی کا قتل کرکے اور تقسیم کے لیے بنائے گئے تمام اصول پس پشت ڈال کر کشمیر پر قبضہ کیا تھا.
کشمیر کے خطے کو اس سے پہلے ڈوگروں نے خریدا تھا اور وہ 15 اگست 1931 سے ڈوگروں کی حکومت کے خلاف وہاں تحریک چل رہی تھی.
تقسیم کے دنوں میں مہاراجہ ہری سنگھ اقتدار سے فارغ ہوچکا تھا اور وہ مفرور تھا اسی اثنائ میں اس نے چال چلی اور بھارت کے ساتھ الحاق نامے پر دستخط کردیے اور بھارت نے وہاں اپنی فوج اتار دی.
باو¿نڈری کمیشن نے طے یہ کیا تھا کہ جس ریاست میں ہندو¿ں کی اکثریت ہوگی اس کا الحاق بھارت سے اور جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہوگی اس کا الحاق پاکستان سے کیا جائے گا اور اس ضمن میں جغرافیائی تعلق کو بھی مدنظر رکھا جائے گا.
کشمیر جغرافیائی طور پر مکمل پاکستان کے ساتھ منسلک تھا.
اس کی واحد ریلوے لائن سیالکوٹ سے گزرتی تھی،اہم اور سب سے بڑی شاہراہ راولپنڈی سے گزرتی تھی اور اس سے آنے والے نالے و دریا بھی پاکستان کی طرف بہتے ہیں.
وادی میں 90 فیصد اور ریاست میں 80 فیصد مسلمانوں کی اکثریت تھی جو آج تک پاکستان سے اپنا الحاق چاہتی ہے لیکن قادر پٹیل اور لارڈ ماو¿نٹ بیٹن کی ساز باز نے کشمیریوں کو ان کے بنیادی انسانی حق سے محروم کردیا.
بھارت کو کشمیر جانے کے لیے ایک اور مسلم آبادی کی اکثریت والا ضلع گورداس پور دے دیا جس کے علاوہ بھارت کے پاس کشمیر جانے کا کوئی زمینی راستہ نہیں تھا.
گورداس پور کی ایک تحصیل شکرگڑھ پاکستان کے حصے میں آئی جس کو باب کشمیر کہا جاتا ہے اور ذرا سا مطلع صاف ہو تو یہاں سے کشمیر کے پہاڑ صاف نظر آتے ہیں.
قائد اعظم نے بھی پاکستان کے حصے میں آنے والی فوج کے سربراہ جنرل گریسی کو بھارت کی جارحیت کے بعد کشمیر کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا لیکن اس نے عمل درآمد نہیں کیا.
بھارت کی کشمیر پر پہلے سے ہی لالچی نظر تھی کیونکہ انہوں نے تقسیم کی دستاویزات پر دستخط ہونے سے پہلے ہی کشمیر پر قبضہ کرلیا تھا.
یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں گیا تو انہوں نے جنگ بندی کرواکر یہاں ریفرنڈم کے ذریعے لوگوں کی رائے کے مطابق فیصلہ کرنے کی قراردادیں پاس کیں لیکن بھارت نے آج تک ان قراردادوں کو جوتے کی نوک پر ہی رکھا ہے.
2019 کے بعد تیزی سے بھارت اس خطے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے میں مصروف ہے تاکہ جب بھی ریفرنڈم ہو تو اس میں ہندوو¿ں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہونے کی وجہ سے نتیجہ بھارت کے حق میں لے سکے.
