بیرسٹر امجد ملک
نوے لاکھ سے زائداوورسیز پاکستانی ہماری قوت اور ہمارا فخر ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز ان کے عزم، وطن کے لئیے محبت اورریاست پاکستان کے لیئے ان کے حصے کی قدرکرتی ہے۔ ہماری شدید خواہش ہے کہ ان کے بنیادی مسائل حل ہوں جیسا کہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں متناسب نمائندگی کا دعوی، ون ونڈو شکایات سیل کے ذریعے ان کی شکایات کا اژالہ، پاکستان میں ان کی سرمایہ کاری، زمین جائیداد اور جان کا تحفظ اور اپنے آبائی وطن آنے اور واپس جانے کے لئیے محفوظ سفر اور ڈومیسائل کے حصول کو تیزی، ایمانداری اور منصفانہ طریقے سے یقینی بنائے جانے جیسے معاملات شامل ہیں ۔
ہم ان مقاصد کے حصول کے لئیے بھرپور کاوشیں جاری رکھیں گے۔
پارلیمان میں نشستیں : اوورسیز پاکستانی ایک قابل قدر سرمایہ ہیں کو آواز دینے کی خاطر ،پاکستان مسلم لیگ نواز دونوں ایوانوں میں ان کی نمائندگی کے حق کی تجویز دیتی ہے۔ سیٹوں کی تعداد کا تعین ان کے جغرافیائی خدوخال، خطے، ان کی حصہ داری اور دلچسپی پر منحصر ہے۔ انکے خدوخال اور مسائل جنوبی ایشیا، گلف، سعودی عرب، برطانیہ۔ یورپ سے لے کر امریکہ تک ہر خطے کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ ایسا کرنے کے لئیے مطلوب طریقہ کار پر تمام پارٹیوں کے مابین آزادانہ بحث پارلیمان کی متعلقہ کمیٹیوں میں کروائی جا سکتی ہے تا کہ تمام قانونی ضروریات کو پورا کر کے موثر قانون سازی کی جا سکے۔ ہم نمائندگی کو صحیح معنوں میں یقینی بنانے کے لئیے اوورسیز کے لئیے سیٹوں کی حمایت کرتے ہیں۔
ووٹ کا حق : اصولی طورپر، ہم تارکین وطن پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کی حمایت کرتے ہیں اگر وہ عام انتخابات کاحصہ بننا چاہتے ہیں اورپاکستان میں لوکل حلقوں میں ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اوورسیز ووٹر کی براہ راست ووٹنگ ممکن ہے اگر ان کا نام لوکل ووٹر لسٹ میں موجود ہے تو وہ پاکستان وزٹ کے دوران یا پاکستان میں رہتے ہوئے ووٹ دے سکتے ہیں۔ اصولی طور پر ایک ہی ووٹ کی اجازت ہوتی ہے۔ اگرریاست بیرون ملک رہتے ہوئے اوورسیز کو ووٹ کا حق دینے کی خواہش رکھتی ہے تو ہمیں تمام سیاسی پارٹیوں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی محتاط شعوری باہمی مشاورت کی ضرورت ہے۔ اسٹیک ہولڈرز اس بات کاتعین کریں گے کہ کس طرح اوورسیز پاکستانی اپنے ووٹ کے حق کا استعمال کریں گے، کیا طریقہ کار استعمال کیا جائے گا، اور وہ کسے ووٹ کریں گے۔ آیا وہ ووٹ سیاسی جماعتوں کو کریں گے، اوورسیز حلقہ بندیوں میں یا اوورسیز امیدوار کو۔ تارکین وطن کومایوس کرنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کے لیئے ان ایشوزپر محتاط شعوری بحث کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی ہو گی کہ گلف ممالک میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے اور ہم اوورسیز کو مزید دو گروہوں میں تقسیم نہیں کر سکتے ایک وہ جو سیاسی عمل کا حصہ بن سکتے ہیں اور ایک وہ جو مقامی قوانین کی وجہ سے سیاسی عمل کا حصہ نہیں بن سکتے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز اپنے ان اوورسیز بھائیوں اور بہنوں کو مایوس نہیں کرے گی جو بیرون ملک انتھک کام کرتے ہیں اور قومی خزانے میں کروڑوں کا سرمایہ بھیجتے ہیں۔ ان کی خدمات شاندار ہیں اور موثر و مثبت ردعمل کی مستحق بھی۔
ایک نظر پاکستان مسلم لیگ نواز کی کارکردگی :
پاکستان مسلم لیگ نواز ہمیشہ اوورسیز پاکستانیوں کوسراہتی اور ان کی خدمت کرتی آئی ہے۔ خواہ ن لیگ کی وفاقی حکومت کی سر پرستی میں اوورسیز پاکستانی فاونڈیشن کی از سر نو تشکیل سازی ہو یا باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے خادم اعلی پنجاب کی صوبائی حکومت کی سر پرستی میں پنجاب اوورسیز پاکستانی کمیشن جیسے رول ماڈل کی بنیاد، ہم نے ہمیشہ اپنے عہدوں کا پیمان کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کو آزاد جموں کشمیر اسمبلی میں متناسب نمائیندگی کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کو نمائندگی دینے پر فخر ہے۔ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ اوورسیز پاکستانیوں کی خدمت کی ہے اور انشاءاللہ ہم خدمت کے عزم پر قائم رہیں گے۔ اللہ کے فضل سے ہم مستقبل میں بھی اپنے نوے لاکھ سے زائد اوورسیز پاکستانیوں کو مایوس نہیں کریں گے۔
مندرجہ بالا تجاویز/اقدامات برائے فلاح و شمولیت اوورسیز پاکستانیز درج ذیل ہیں :-
1
اوورسیز پاکستانیوں کی پارلیمان میں نمائندگی کو یقینی بنانا
چاہیے اوورسیز پاکستانیوں کوموثر آواز دینے کے لئیے ان کی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں موثر نمائندگی کے لئے معنی خیز و بامقصد قانون سازی کی جانی چاہیے۔
2
اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات کے ازالے کے لئیے صوبائی سطح پر اوورسیز کمیشن کی تشکیل
اوورسیز پاکستانیوں کے تحفظات کو حل کرنے کے لئیے اور زمین پر قبضہ کی جائز شکایات کے اژالے کیلئے پنجاب اوورسیز کمیشن کی طرز پرآزاد جموں کشمیراور گلگت بلتستان سمیت ہر صوبے میں کمیشن تشکیل دئیے جانے چاہیے تا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے کلیم اور شکایات کا تعین اورداد رسی جا سکے۔
3
تارکین وطن کی سرمایہ کاری کے لئیے سہولتوں کو ہموار کرنا: اوورسیز پاکستانی سرمایہ کاری کے لئیے مطلوبہ معلومات سے لے کر عملی جامہ پہنانے تک ہر مرحلے میں رہنمائی کے لئیے ون ونڈو طرز کے پراجیکٹ بنانے وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے ہم مستفید ہو سکیں گے. کمرشل جھگڑوں کے فیصلوں کے لئیے متعلقہ وزارت سے مشاورت کے ساتھ ایک فورم تشکیل دیا جانا چاہیے ۔
4
اوورسیز پاکستانیوں کی وطن واپسی میں جامع مدد: اوورسیز پاکستانیوں کو وطن واپس آنے کے لئیے سفر سے سیاحت تک، چھٹی منانے سے مفید سرمایہ کاری تک یا جلدی ریٹائرمنٹ کے لئے ہر مرحلہ پر سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ ان کے تجربے، خدمات اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور تحفظ کیا جائے۔ او پی ایف اوراو پی سی پنجاب جیسے موجودہ فورمز کے ذریعے ہر ڈسٹرکٹ میں مواقع فراہم کئیے جائیں تا کہ اوورسیز پاکستانی اپنے تجربہ، ترسیلات زر اور ہنر کی سرمایہ کاری کر سکیں.
5
اوورسیز پاکستانیوں کے لئیے مختص بنکوں کی تشکیل:
اگر اپنا بینک ہو تو اوورسیز پاکستانی اوورسیز کے لئیے مختص بنکوں سے مستفید ہوسکیں گے اور اس سے پاکستان کی بھی خدمت ہو گی۔ اس مقصد کے حصول کے لئیے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کو متحرک کیا جائے تاکہ ایسی تجاویز کا نفاذ کرے جس کے ذریعے ہر نائیکوپ کارڈ ہولڈرجدید ٹیکنالوجی اور مصدقہ ڈیجیٹل سروسز کے ذریعے پاکستان زر کی ترسیل کر سکیں۔
6
تارکین وطن پاکستانیوں کے لئیے بہتر ائیر پورٹ سہولیات اور مخصوص امیگریشن کاونٹرز کا قیام:
پورے پاکستان میں انٹرنیشنل ائیرپورٹس پر مخصوص امیگریشن کاؤنٹرز آمد اور روانگی کو ہموار بنانے میں کار آمد ہوں گے۔ جہاں اوورسیز پاکستانیوں کی پرتپاک آمد اور الوداع کو یقینی بنایا جائے۔
7
عالمی روابط کو بہتر بنانے کے لئیے قومی ائیر لائن کی بحالی: قومی ائیر لائن کسی بھی قوم کے لئیے باعث فخر ہوتی ہے۔ قومی ائیر لائن کی برطانیہ، یورپ، گلف اور امریکہ فلائٹس کو روک دیا جانا معشیت کے لئے بہت نقصان دہ فعل ہے۔ آئیندہ حکومت قومی ائیر کی سستی اور موثرفلائٹس کے اجراء کے لئیے بھرپور اقدامات کرے ۔ ہم ایک بار دوبارہ قومی ائیرلائن کو بہترین کارکردگی کا نمونہ بنائیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کی میت کی بلا معاوضہ وطن واپسی کو پھر سے یقینی بنایا جائے۔ لوگ تنگ ہیں ۔
8
جائیداد سے متعلق تحفظات کی ہمواری:
اوورسیز پاکستانیز کی جائیداد سے متعلق تحفظات کے حل کے لئیے تمام صوبوں میں چیف سیکریٹریز اور اسلام آباد میں چیف کمشنر کے زیر نگرانی مختص کردہ ہاٹ لائن سے مستفید ہو سکیں ۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ قانونی معاملات عدالتوں میں تیزی کے ساتھ چلیں۔
9
تارکین وطن پاکستانیوں کے لئیے مخصوص عدالتوں اور کمرشل کورٹس کی تشکیل: اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضوں کے خاتمے کے لئیے اوورسیز مخصوص عدالتوں سے مستفید ہو نے چاہیے ۔ کمرشل کورٹس تشکیل دی جائیں جو تجارتی کمیونٹی کے کمرشل جھگڑوں کی مقررہ مدت کے اندر اندر فیصلہ سازی کریں ۔ مختص عدالتیں اسلام آباد اور تمام صوبوں میں اوورسیز کے لئیے موثر قانونی طریقہ کار کو یقینی بناتے ہوئے پراپرٹی سے متعلقہ مسائل کےحل کو تیز کریں ۔
10
تارکین وطن پاکستانیوں کے لئیے جھگڑوں کے حل کے متبادل طریقہ کار کا نفاذ : سول اور فیملی معاملات کے کورٹس سے باہرتیزرفتارحل کے لئیے آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن کا طریقہ کار متعارف کروایا جائے تو بھاری اخراجات کے بغیر جھگڑوں کا تیز اور منصفانہ حل نکالا جا سکے گا ۔ کلیم کے تیز رفتار تدارک اور مہنگی قانونی چارہ گوئی سے بچ نکلنے کے لئیے ثالثی سنٹرز فراہم کئیے جانے چاہیے ۔
11
تارکین وطن پاکستانیوں کا قومی حج کوٹہ میں شمار
پاکستان سے اپنے خاندان کے ساتھ حج کے لئیے جانے کے خواہشمند اوورسیز کو حج کوٹہ میں شمار کیا جائے۔
12
تارکین وطن پاکستانیوں کے لئیے مراعات کے ساتھ مخصوص رہائشی کوٹہ: پبلک سیکٹر ہاوسنگ اسکیموں میں اوورسیز کے لئیے دس فیصد کوٹہ مختص کیا جائے ۔ بیرونی کرنسی اور بینکنگ چینل کے ذریعے ادائیگی کی صورت میں پانچ فیصد رعائت ملنی چاہیے۔
13
ترسیلات زر میں ٹاپ پر رہنے والے پاکستانیوں کو سراہنے کے لئیے پروگرام کا آغاز۔ قومی دن اور تہواروں پرسب سے زیادہ سرمایہ بھیجنے والے ٹاپ دس غیر معمولی اوورسیز کو ممتاز ایوارڑز دے کر سراہا جانا چاہیے ۔ ان کا تعین سالانہ بنیادوں پر متعلقہ وزارتوں کےساتھ مل کر اسٹیٹ بنک آف پاکستان کرے۔
14
تارکین وطن پاکستانیوں کے لئیے مخصوص قومی بچت اسکیم کا آغاز:اوورسیز کے لئیے قومی بچت کے مرکزی ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے پر کشس شرح منافع پر مخصوص قومی بچت اسکیموں کا آغاز کیا جائے۔
15
تارکین وطن پاکستانیوں کے لئیے کاغذات کی تصدیق کے عمل کو ہموار کرنا: وزارت خارجہ کاغذات کی تصدیق کے لئیے آن لائن تصدیق کا سسٹم تشکیل دے جو کہ اس کی افادیت اور رسائی کوبڑھائے گا۔ وزارت خارجہ پاکستان کے اہم خطوں میں مخصوص کیمپ تشکیل دے جہاں ممتاز اوورسیز پاکستانیوں کی موجودگی کاغذات کی تصدیق اور اس سے متعلقہ دوسری خدمات کو سادہ اور آسان بنایا جائے۔
16
تارکین وطن پاکستانیوں کے بلیک لسٹڈ پاسپورٹس کی مقررہ مدت کے بعد خود کار بحالی کا نظام تشکیل دینا
بلیک لسٹڈ پاسپورٹس کی متعین شدہ مدت کے بعد خودکار بحالی کا نظام سفری تجربات کی ہمواری کو یقینی بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
17
تارکین وطن پاکستانیوں کے لیئے آن لائن بائیومیٹرک تصدیق کا نفاذ: اوورسیز پاکستانیوں کے لئیے آن لائن بائیو میٹرک تصدیق کا طریقہ کار متعارف کروایا جائے جو کہ پنشنز، بنک اکاونٹس اور جائیداد کی منتقلی جیسے عوامل کو ہموار کرے ۔
18
سفارت خانوں میں جامع قونصلر سپورٹ اور انسٹنٹ سروسز کو یقینی بنانا: اوورسیز کو سفارت خانوں اور قونصلیٹ کے ذریعے فراہم کردہ سروسز کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جائے۔اس میں نادرا اور پاسپورٹ کی سہولتوں کو بڑھانا، کمیونیٹی ویلفیئر اتاشی سسٹم کی اصلاح، قانونی چارہ جوئی کی فراہمی، اور آن لائن کونسلنگ سروسز کی تشکیل شامل ہیں۔
19
کاغذات کے اجرا کو موثر بنانے کے لئیے نادرا اور یونین کونسل کا انضمام: نادرا اور یونین کونسل کا انضمام شادی، طلاق، پیدائش اور موت کے سرٹیفیکیٹس جیسے اہم کاغذات کے اجراء میں سہولت دینی چاہیے ۔
20
تارکین وطن پاکستانیوں کے بچوں کے لئیے ہائر ایجوکیشن میں مخصوص کوٹہ اور اسکالرشپ پروگرام: اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کے لئیے ہائر ایجوکیشن کے اداروں میں پانچ فیصد کوٹہ مختص کیا جانا چاہیے۔ نیز مستحق تارکین وطن پاکستانی طلبا کے لئیے ضرورت کی بنیاد پراور میرٹ اسکالرشپ کا اجراء کیا جائے۔
21
تارکین وطن پاکستانیوں کے لیئے سفر و سیاحت کا فروغ اور ترقی: تارکین وطن پاکستانیوں کی سہولت کے لئیے سفر و سیاحت کو فروغ دیا جائےاور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو بڑھانے اور نئی نسلوں میں پاکستان کی خوبصورتی اور ورثے کو فروغ دینے کے لئیے خصوصی زون تشکیل دئیے جائیں۔
22
دوہری شہریت رکھنے والوں کے لئیے قانون سازی کو ہموار کرنا: پاکستان برادرانہ ممالک اور عالمی دنیا کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے۔ اور دہری شہریت کو موثر بنانے کے لئیے درجنوں ممالک کے ساتھ دو طرفہ معاہدے کر چکا ہے۔ اس میں مزید بہتری اور دوہری شہریت کے خلاف تنقید اور بے ضابطگی کو ختم کرنے کے لئیے قانون سازی کی جائے تا کہ اوورسیز پاکستانی پاکستان ملکی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکیں۔سرکاری ملازمت میں حائل رکاوٹیں بھی دور کی جانی چاہیے ۔
23
تارکین وطن پاکستانیوں کے لیئے ووٹ کے حقوق اور نمائیندگی میں سہولت کاری: پاکستان مسلم لیگ نواز اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق کو سپورٹ کرتی ہے اور اس کے لئے ایسی پالیسیاں تشکیل دی جانی چاہیےجس سے اوورسیز کمیونٹی پاکستان میں آکر عام انتخابات میں شرکت کویقینی بناسکیں۔
24
تارکین وطن پاکستانیوں کے لیئے ہنر مندی اور کاروبار کے فروغ کے لئیے اقدامات: اوورسیز پاکستانیوں کو نوکریاں ڈھونڈھنے کے روایتی کردار سے تبدیل کر کے ہنر مند پیشہ وروں اور کاروباروں کا آغاز کرنے والوں میں تبدیل کیا جائے تاکہ وہ جن ممالک میں رہائش پذیر ہیں وہاں ان کی شراکت اور پاکستان کا امیج بڑھایا جا سکے۔ اس میں عالمی سطح پر مطلوب ہنروں کی تربیت فراہم کرنا، نئے کاروباروں کے آغاز کی حوصلہ افزائی اور مقامی قوانین و اخلاقیات کی پابندی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
25
تارکین وطن پاکستانیوں میں پاکستانی مصنوعات کے کاروبار کی سہولت کاری اور ترقی : ایسے اوورسیز علاقے جو پاکستانی ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، کھیلوں کا سامان، جراحی کے آلات اور دستکاری وغیرہ کی برآمدات پر فوکس کررے ہیں وہاں ان کاروباروں کے فروغ اور آغاز کے لئیے متحرک اور جامع پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔
26
تارکین وطن پاکستانیوں کے مابین آئی ٹی کے کاروبار کی حوصلہ افزائی: آئی ٹی کے شعبوں میں بزنس کرنے کے لئیے اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ تعاون اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔
27
خدمات کی برآمدگی کی بہتری کے لئیے اوورسیز ایمپلائیمنٹ کارپوریشن کو جدید خطوط پر استوار کرنا: اوورسیز پاکستانی ایک مناسب اوورسیز ایمپلائممٹ کارپوریشن سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ استدعا ہے کہ مسلم لیگ ن اور آنے والی حکومت ادویات سے لیکر انجنیئرنگ اور آئی ٹی تک قابل اداروں کے ذریعے خدمات کی برآمدات کے لئیے تربیت یافتہ عملہ کی موجودگی کو یقینی بنائے ۔
28
پاکستانی کاروباری اور ماہر پیشہ وروں کے لئیے عالمی روابط اور کمیونیٹی بلڈنگ کا سسٹم متعارف کروانا
پاکستان مسلم لیگ نواز پاکستانی پروفیشنلز اور کاروباری افراد کے لئیے مضبوط گلوبل نیٹ ورک کی تشکیل کے لئیے اقدامات کرےجو کہ سکل ڈویلوپمنٹ، نیٹ ورکنگ اور کمیونیٹی بلڈنگ میں مواقع کے لیئے معاون ثابت ہوں۔ اس کا مقصد پاکستانی تارکین وطن کے مابین اور لوکل کمیونیٹیز کے ساتھ ان کے روابط کو مضبوط کرنے کے لئیے مختلف ممالک میں کلب اور پلیٹ فارمز کی تشکیل ہے۔
29
ثقافتی ورثے اور تعلیمی تبادلے کا فروغ:
آنے والی نسلوں کی نظر میں پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کے لئیے اوورسیز پاکستانیوں کی مدد کی جائے ۔ سٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرام کو دوبارہ سے شروع کیا جائے اور سفارت خانوں کے تعاون سے سیاحتی مقامات اور ثقافتی ورثے کے دوروں کا اجراء کیا جائے۔
30
تارکین وطن کی شمولیت کے لئیے تھنک ٹینکس اور ایڈوائزری کونسل کی تشکیل:
مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں اوورسیز پاکستانی وفاق میں او پی ایف اور پنجاب میں او پی سی جیسی ایڈوائزری کونسلز سے مستفید ہو چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن اور مستقبل کی حکومت اوورسیز سے فیڈ بیک لینے کے لئیے تھنک ٹینکس تشکیل دے تاکہ بیرون ممالک مقیم ہمارے سرمائے سے مناسب فیڈ بیک لیا جا سکے۔
31
ممتاز تارکین وطن کے لئیے بیرون ملک سفارتخانوں میں ہال آف فیم کی تشکیل: ہال آف فیم بیرون ملک پاکستانی مشنز کو تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع فراہم کرے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کی نمایاں خدمات اور کامیابیوں پر متعلقہ وزارتوں سے منظوری کے ذریعے اعزازی طور پر سراہا جائے۔ اعزازی مشیران لوگوں میں سے مقرر کیا جائے گا جنہوں نے سرمایہ کاری،رضاکارانہ خدمات اور بنی نوع انسان کی مدد کے لیے کوئی ڈھانچہ تشکیل دینے جیسا کام کیا ہو انکو قومی اعزازات کے ساتھ نوازاجائے اور یسے ہیروز کے ناموں کو تسلیم کیا جائے۔
32
اوورسیز پاکستانی فاونڈیشن کے تحت تعلیمی خدمات کا فروغ : یہ تجویز دی جاتی ہے کہ لوکل شراکت کاری سے اوپی ایف کے تحت اسکولوں میں ماسٹرز اور مرحلہ وار پی ایچ ڈی کا آغاز کیا جائے تا کہ اوورسیز کے بچے مستفید ہو سکیں۔ مقامی یونیورسٹیوں سے گلف ایجوکیشنل اسٹیبلشمنٹ کی سر پرستی کے لئیے کہا جا جائے ۔اوورسیز میں آن لائن/ای لرننگ کے جذبے کو فروغ دیا جانا چاہئیے۔
33
تارکین وطن پاکستانیوں میں زرعی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی: اوورسیز پاکستانیوں کو بنجر زمینوں کی آباد کاری کے لئیے زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لئیے آرگینک کاشت کاری اور شجرکاری کو فروغ دیا جائے ۔
34
تارکین وطن پاکستانیوں کے مابین قومی سالمیت کو برقرار رکھتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی۔
پاکستانی سالمیت اور قوانین کا پاس رکھتے ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کو مختلف شعبہ جات میں جامع امداد مہیا کرنے کے لئیے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے ۔ ایسے اقدامات اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستانی حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ تعاون کے لئے پر عزم ہےاور یہ توقع کرتی ہے کہ تارکین وطن قومی وقار کو بلند رکھیں گے اور ایسی کسی بھی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے جس سے ریاست پاکستان کا ملک سے باہر امیج خراب ہو۔ بیرون ملک پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کے لئیے با معنی و بامقصد اقدامات کئیے جانے چاہیے۔
مسلم لیگ(ن) کا منشور تیاری کے آخری مراحل میں ہے، انتخابی منشور ہمیشہ کی طرح قابل عمل اور مسائل کاحل ثابت ہوگا۔ الحمدللہ مسلم لیگ (ن)نےہمیشہ وعدے پورے کئے ہیں،اب پھر سے کریں گے، ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر عوام کی زندگیوں میں آسانیاں لائیں گے۔ انشااللہ ۔ یہ تجاویز حتمی نہیں ہیں ان میں بہتری کی گنجائش موجود رہے گی۔
بیرسٹر امجد ملک سابق چئیرمین اوورسیزپاکستانیز فاونڈیشن ہیں اور برطانیہ سے اوورسیزکے معاملات پر کہری نظر رلھتے ہیں اور انسانی حقوق کا 2000 کا ایوارڈ رکھتے ہیں ۔ بیرسٹر امجد ملک مسلم لیگ ن کی منشور کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔