تین عورتیں،تین کہانیاں اور سب دی ماں

تحریر :خالد شہزاد فاروقی


جب تاریخ لکھی جائے گی تو مریم نواز کی ایک سالہ حکومت کے تذکرے میں”تین خواتین“کا ذکر ضرور ہو گا۔۔یہ” تین عورتیں،تین کہانیوں“کا استعارہ ہیں جو پاکستانی سیاست کے موجودہ دور کی تلخ حقیقتوں کو عیاں کرتی ہیں۔۔۔پہلی کہانی خود مریم نواز کی ہے،جو بالآخر اُس”سیڑھی“پر قدم رکھ چکی ہیں جس کی تیاری سالوں سے ہو رہی تھی۔۔۔ انہیں”فارم 47“کے نتیجے میں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ تو ملی ہے لیکن ساتھ میں ایک بحران زدہ معیشت،بدترین طرزِ حکمرانی اور عوام کی طرف سے”بے پناہ غصہ“ بھی ورثے میں ملا۔۔۔ان کا ایک سال کبھی”چارٹر آف اکانومی“کے نعرے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتا رہا تو کبھی”چارٹر آف امپورٹڈ سیاست“کا شکار ہوتا رہا۔۔۔ مہنگائی کے طوفان میں عوام کی چیخیں آسمان تک پہنچ گئیں لیکن اقتدار کے نشے میں مخمور”شہزادی“ نے”سب اچھا ہے“کی گردان جاری رکھی ۔۔لگتا تھا کہ اقتدار کا”ہنی مون پیریڈ“کبھی ختم نہیں ہو گا مگر عوام کی بد دعائیں اور آٹے کی قیمت میں ہونے والے ہوشربا اضافے نے یہ”نشہ “توڑ دیا۔۔۔وہ میک اَپ زدہ خواب جسے”شیرنی کی للکار“کہا جا رہا تھا،حقیقت میں عوام کے لیے خوفناک”مہنگائی کے عفریت“اور”بے قابو جن“کی صورت“میں سامنے آیا ہے۔۔۔

کہتے ہیں کہ ایک ”ماں“ کا سایہ اپنے بچوں کے لیے رحمت ہوتا ہے مگر جب”ماں“ماڈلنگ کے شوق میں اپنی تصویروں کے ذریعے خزانے کے اربوں روپے جھونکنے لگے تو بچوں کے لیے یہ سایہ کسی ٹھنڈے درخت کا نہیں بلکہ کسی”تپتے ہوئے صحرا “کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔۔۔آج کل ہمارے دیس میں بھی ایک ایسی ہی”سب دی ماں“قابض ہیں،جو ہر اخبار،ہر ٹی وی چینل،ہر بل بورڈ اور شاید ہر خواب میں بھی اپنی”فوٹو شوٹ زدہ تصویر“کے ساتھ مسکراتی نظر آتی ہیں۔۔۔ایسا لگتا ہے کہ ملکی مسائل چاہے سر سے گزر جائیں،مہنگائی چاہے سانس لینا مشکل کر دے مگر”سب دی ماں“کی چمک دمک میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے۔۔۔جب ملک میں آٹے کی قیمت سنچری مکمل کر لے،جب پٹرول عوام کی پہنچ سے دور ہو جائے،جب غریب کے گھر میں فاقے ہوں اور جب کسان کی کھیتیاں پانی کو ترس رہی ہوں،تب بھی”سب دی ماں“کے اشتہارات کا سیلاب تھمنے کا نام نہیں لیتا۔۔۔اخبارات کھولو تو رنگین صفحات پر”سب دی ماں“کی جھلک،ٹی وی آن کرو تو”سب دی ماں“کی مسکراہٹ اور بل بورڈز پر نظر دوڑاو تو ”سب کی ماں“کا جلوہ،جیسے پوری قوم کو یہی بتایا جا رہا ہو کہ اگر کسی چیز کی واقعی کمی ہے تو وہ ”سب دی ماں“کی مزید تصویریں ہیں۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس”تصویری سرکس“کا کوئی فائدہ بھی ہے؟کیا ان اشتہارات سے غریب کی بھوک مٹ سکتی ہے؟کیا یہ چمکدار تصاویر ملک کے بنیادی مسائل کا حل دے سکتی ہیں؟یا یہ سب کچھ صرف اپنی ”مصنوعی چمک دمک“دکھانے کے لیے کیا جا رہا ہے؟کیونکہ اس اشتہاری مہم سے نہ تو بے روزگاری ختم ہو گی،نہ معیشت سنبھلے گی اور نہ ہی عوام کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے گا۔البتہ”سب دی ماں“کی شخصیت کو ضرور ایک ایسی”ماڈل“ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے،جسے عوام کے حقیقی مسائل سے کوئی غرض نہیں۔۔۔

سیاست کو اگر خدمت سمجھا جائے تو عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا عمل سب سے اہم ہوتا ہے،نہ کہ اپنی تعریفوں کے گن گانے کے لیے قومی خزانے کو جھونک دینا مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے،جہاں حکمرانوں کی پہلی ترجیح عوامی خدمت کے بجائے اپنی”مصنوعی چمک“بڑھانا ہے۔۔۔اربوں روپے کے یہ اشتہارات عوام کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہیں، جو یہ بتا رہے ہیں کہ”ہمیں تمہاری بھوک،تمہاری بے بسی اور تمہاری تکلیفوں سے کچھ لینا دینا نہیں،ہمیں بس اپنی خوبصورتی کو برقرار رکھنا ہے“۔دوسری کہانی ایک عام پاکستانی عورت اور”حقیقی ماں“کی ہے،جو مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دب چکی ہے۔۔۔اس عورت اور” حقیقی ماں“ کے لیے آٹا،چینی،دوائی اور اپنے بچوں کی فیسیں پوری کرنا ایک پہیلی بن چکی ہے،جس کا حل شاید آئی ایم ایف کے پاس بھی نہیں۔۔۔۔مقتدرہ اور طاقت کے ایوانوں کی” باقیات “نے جو تباہی مچائی،اس پر مریم نواز کے وزراء نے”ورثہ“ ہونے کا لیبل چسپاں کر دیا لیکن عام پاکستانی عورت اور ”حقیقی ماں “کے لیے اس ورثے نے بھوک،افلاس اور مایوسی کے سوا کچھ نہ چھوڑا۔۔۔حکومتی ترجمان”آ گئی اے،آ گئی اے،سب دی ماں آ گئی اے “کی مالا جپتے رہے مگر عوام کو جب پیاز بھی سونے کے دام میں ملنے لگا تو وہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ اب گھر چلائیں یا ”شہزادی کے خوابوں“کو حقیقت بنتے دیکھیں۔۔۔۔

تیسری کہانی اس عورت کی ہے جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔۔۔بشریٰ بی بی،جو کبھی پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر کی اہلیہ تھیں،آج ایک قیدی کی حیثیت سے انصاف کی تلاش میں اسیر ہیں۔۔۔نیب،ایف آئی اے اور حکومت کی”خاتون لیڈر“سب مل کر اس”پردہ دار خاتون“کو سبق سکھانے میں مصروف ہیں۔۔۔۔انسانی حقوق کے نعرے لگانے والے جو ماضی میں مریم نواز کی گرفتاری پر آسمان سر پر اٹھا لیتے تھے،آج ”چپ کا روزہ“ رکھے بیٹھے ہیں،انصاف،جسے کبھی”اندھا“کہا جاتا تھا،آج سر عام”حکومتی غلام“نظر آتا ہے۔۔۔قانون،جو پہلے ہی”بندے دیکھ کر حرکت میں آتا تھا“ اب تو صرف ”حکم نامے“دیکھ کر چلتا ہے۔۔۔یہ”تین کہانیاں“ہمیں بتاتی ہیں کہ مریم نواز کا ایک سالہ دور حکومت محض اقتدار کا کھیل تھا،جس میں عوام پس گئے،مخالفین کچلے گئے اور”انصاف کا جنازہ“دھوم دھام سے نکلا۔۔

پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ ہی نت نئے نعرے،دعوے اور وعدے عوام کے کانوں میں انڈیلے جاتے رہے ہیں مگر جو منظر آج کل دیکھنے کو مل رہا ہے،وہ اپنی مثال آپ ہے۔۔۔حکومتی ایوانوں میں ایک ہی نعرہ گونج رہا ہے”سب دی ماں آ گئی اے“یہ نعرہ سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ملک کو اچانک کوئی ایسی ہستی نصیب ہو گئی ہے جو ہر مسئلے کا حل نکال لے گی،ہر غریب کو روٹی دے دے گی اور ہر بے روزگار کے ہاتھ میں نوکری کا پروانہ تھما دے گی لیکن حقیقت کیا ہے؟؟؟حقیقت یہ ہے کہ اِس”ماں“کے آتے ہی مہنگائی نے مزید دھاوا بول دیا،بجلی کے بلوں نے عوام کے گھروں میں ماتم برپا کر دیا اور آٹے کی قیمت میں ایسا اضافہ ہوا کہ لوگ”سب دی ماں“کے ساتھ ساتھ اپنے مقدر کو بھی کوسنے لگے۔۔۔۔یہ”سب دی ماں“اپنے درباریوں کے جھرمٹ میں عوام کو سوشل میڈیا پر جذباتی تقاریر اور میک اپ زدہ تصویروں کے ذریعے”حقیقت“دکھانے کی کوشش کر رہی ہے مگر بازار میں چینی،آٹا اور سبزی کی قیمتیں عوام کو اصل حقیقت روزانہ آئینہ دکھا رہی ہیں۔۔۔

ایک طرف”مقتدرہ“سے”سیاسی ہدایات“موصول ہو رہی ہیں تو دوسری طرف”معیشت کی نیا“آئی ایم ایف کے بھنور میں مزید پھنستی جا رہی ہے۔۔۔پرانے حکمرانوں پر الزام لگانے والی”سب دی ماں“جب اقتدار میں آئی تو اسے بھی پتہ چل گیا کہ ٹوئٹر پر چلنے والی”انقلابی سیاست“اور حقیقت میں ملک چلانے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔کسی نے خوب کہا ہے کہ”حکومت کرنے کے لیے عقل چاہیے،جذباتی نعرے نہیں“لیکن اس دیس میں تو ہمیشہ”نعرے“ہی حکومت کرتے رہے ہیں ۔۔۔لوگ پوچھ رہے ہیں کہ”اگر سب دی ماں واقعی آ گئی ہے تو عوام کے حالات کیوں بدتر ہو گئے؟“مگر ان سوالوں کا جواب دینے کے بجائے سرکاری مشینری اور درباری وزراء ان کو” سازشیں“اور ”پراپیگنڈا“قرار دے کر خاموش کروانے میں مصروف ہیں۔۔۔یہ تماشا کب تک چلے گا؟عوام کب تک”سب دی ماں“کی چمکدار تصویریں دیکھ کر اپنی غربت بھولنے کی کوشش کریں گے؟شاید تب تک جب تک”سب دی ماں“کے اشتہارات کے پیچھے لگا یہ پیسہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا یا پھر جب عوام اپنی آنکھیں کھول کر حقیقت کو دیکھنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔تب تک،ہم سب کو الیکٹرانک،پرنٹ اور سوشل میڈیا میں”سب دی ماں“کی نئی تصویروں کے ساتھ ایک نیا جھوٹا خواب بیچنے کی کوشش کی جاتی رہے گی۔۔۔۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام کب تک”سب دی ماں“کے سائے تلے قربانی کا بکرا بنتے رہیں گے یا پھر وہ دن آئے گا جب حقیقت پسندانہ سیاست اس”تماشے“کا خاتمہ کر دے گی؟اقتدار کے نشے میں چور حکمرانوں کو شاید یہ یقین تھا کہ عوام ہمیشہ”روٹی،کپڑا،مکان“ جیسے کھوکھلے نعروں میں الجھے رہیں گے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ”مصنوعی اقتدار“ زیادہ دیر قائم نہیں رہتا اور جب عوام کا صبر ٹوٹتا ہے تو تخت الٹنے میں بھی دیر نہیں لگتی۔۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کہانی کیسے ختم ہوتی ہے؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں