نیوز روم/امجد عثمانی
ایک اور ستمبر”اشکبار”ٹھہرا۔۔۔۔دل میں بسے دوست حافظ ظہیر اعوان کی جدائی کو دو سال ہو گئے۔۔۔۔زندگی تلخ و شیریں سفر کا نام ہے اور دن ہفتے مہینے اور سال اس کے “سنگ میل”۔۔۔۔۔۔کوئی “راہ گیر”ایک سنگ میل پر”سفر تمام” کرتا تو کسی مسافر کو دوسرے موڑ پر “شام”ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔نو ستمبر دو ہزار اکیس وہ دن ہے جس کی شام۔۔۔۔شام غم۔۔۔۔میں بدل گئی۔۔۔۔۔حافظ ظہیر نے صحافی کالونی سے عصر کے وقت مجھے حسب عادت ہنستے مسکراتے فون کیا کہ گھر والے کہتے ہیں آپ بڑے لاپروا آدمی ہیں۔۔۔۔امی ابو بھی امریکہ سے آگئے ہیں۔۔۔میں عمر ہسپتال” سٹنٹس”ڈلوانے جا رہا ہوں۔۔۔۔دعا کیجیے گا۔۔۔۔۔شومئی قسمت کہ پھر وہ بغیر ملے ہی وہاں چلے گئے جہاں جانے والے پھر کبھی ملنے نہیں آتے۔۔۔۔حسن اتفاق دیکھیے کہ نو ستمبر کی صبح فیس بک کھولتےہی دس سال پہلے کا ایک کالم صفحے پر ابھرا۔۔۔۔جس میں برادرم حافظ ظہیر کے خلوص کی چاشنی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔یہ دو ہزار تیرہ کی بات ہے۔۔۔تب وہ ڈسکہ سے خصوصی طور پر ایک “صلح”میں میری مدد کے لیے شکر گڑھ آئے اور ہم مصالحتی مشن میں کامیاب ہوگئے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں:اسے جمہوریت کا حسن کہہ لیں یا مکروہ چہرہ
یادش بخیر۔۔۔۔ہم دو ہزار تین کی ایک صبح دوپہر کے ایک اخبار میں ملے۔۔۔۔میرے صحافتی کیرئیر کے بہترین دوست جناب حافظ ظہیر اعوان اس وقت “ایویں ای”دو نوکریاں کرتے کہ وہ پیسے تو اور بھی گھر سے لے آتے اور خرچ کر دیتے۔۔۔۔رات کو صبح کے ایک اخبار کے چیف نیوز ایڈیٹر تھے۔۔۔۔ادھر سے فارغ ہو کر اس دوپہر کے اخبار میں آجاتے۔۔۔۔مجھے بھی نیوز روم کی ذمہ داری سنبھالے کچھ دن ہی ہوئے تھے۔۔۔۔۔وہ ادھر آکر سو جاتے۔۔۔۔۔ایک دن تعارف ہوا تو ہم دونوں سیالکوٹی نکلے۔۔۔۔ایک ہی تحصیل پسرور کے باسی۔۔۔۔پھر بس جناب سوتے ہی تھے۔۔۔۔میں بھی انہیں صرف ناشتے کے لیے اٹھاتا۔۔۔۔۔۔کبھی دل کرتا تو دو چار سرخیاں بنا دیتے۔۔۔۔۔انہوں نے دلچسپی سے جس موضوع کی سرخیاں جمائیں وہ تب” کلنٹن مونیکا سکینڈل” تھا۔۔۔۔۔شرارتی تھے۔۔۔۔”جوش قلم” میں ایک سرخی کی دس دس ضمنیاں بنا دیتے۔۔۔۔۔۔تب دوپہر کے اخبار یہی “چسکا”بیچتے تھے جیسے اب چینلز بریکنگ نیوز۔۔۔۔۔خیر پھر وہ مجھے اور میں انہیں”عزیز” ہو گیا۔۔۔۔۔اتنے عزیز کہ ایک دوسرے بغیر ایک دن نہ گذرتا۔۔۔۔۔۔یہ رفاقت اٹھارہ برس چلی اور خوب چلی۔۔۔۔ انہیں ہمیشہ چہکتے ہی دیکھا۔۔۔۔۔کسی نے تعریف کی ہنس دیے کسی نے تنقید کی تو قہقہیے بکھیر دیے۔۔۔۔ایک مرتبہ سردیوں میں امریکہ سے آیا عجیب سا “ہڈ” پہن آئے۔۔۔۔۔میں نے کہا آج تو “سانتا کلاز” لگ رہے۔۔۔۔۔خوب ہنسے۔۔۔۔نوشین کہنے لگیں نہیں “سامری جادوگر”لگ رہے۔۔۔۔۔لوٹ پوٹ ہو گئے۔۔۔۔۔میں کبھی برہم ہو بھی جاتا تو وہ ہنس دیتے۔۔۔۔۔۔ہماری آخری ملاقات پنجاب کارڈیالوجی میں ہوئی۔۔۔۔ہم وارڈ سے لان میں آکر بیٹھ گئے۔۔۔۔ادھر بھی وہی لاابالی پن۔۔۔۔کہنے لگے پریس کلب چلیں۔۔۔۔۔میں نے کہا حضور آپ ادھر ایڈمٹ ہیں۔۔۔۔کہنے لگے چلیں آپ کہتے ہیں تو ٹھیک ہے ویسے میں ایک دن پہلے چکر لگا آیا تھا۔۔۔۔میں نے سر پکڑ لیا اور موصوف ہنس دیے۔۔۔۔۔میں نے کہا آپ کو دل کا مسئلہ ہو نہیں سکتا۔۔۔۔کہنے لگے میرا بھی یہی خیال ہے رپورٹس سے کچھ نہیں نکلے گا۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں:مغالطہ گر دماغ اور شاہ جی کی “کنکریاں”
حافظ ظہیر ” منچلے” آدمی تھے۔۔۔۔وہ گھر میں بڑے تھے لیکن گھر والے ان سے چھوٹے بچوں سا سلوک کرتے۔۔۔بھائی بہنیں اور بیوی ان کے لاڈ اٹھاتے۔۔۔۔وہ بتایا کرتے کہ میں ابا جی کے ساتھ بیٹھ کر کش لگا لیتا ہوں۔۔۔۔اپنی”خاتون اول” کے قصیدے کہتے کہ وہ مجھے آتے ہوئے جیب خرچ دیتی ہیں۔۔۔۔واقعی بھابھی ان سے ایسے ہی پیار کرتی تھیں اور کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔دو ہزار چھ میں عمرے پر گئے تو بتایا کہ بیگم نے جمع پونجی اللہ کی راہ میں لٹادی ہے۔۔۔۔مجھے یاد ہے تب وہ مکہ مدینہ میں ہمارے دوست حافظ یعقوب کے ہوٹل میں ٹھہرے۔۔۔۔واپسی پر وہ سیدھے میرے پاس لارنس روڈ پر روزنامہ آج کل کے دفتر میں آئے۔۔۔۔تب ادھر ہماری ٹریننگ چل رہی تھی۔۔۔۔۔پھر کچھ دن بعد انہوں نے بھی یہ ادارہ جوائن کر لیا۔۔۔۔جناب تنویر عباس نقوی نے عمرہ پر جانے سے پہلے ڈسٹرکٹ نیوز ایڈیٹر کی سیٹ ان کے لیے “مختص”کر دی تھی۔۔۔۔کچھ سال پہلے وہ حج پر گئے تو بتایا کہ بیگم نے ایک بار پھر جمع پونجی اللہ کی راہ میں لٹا دی ہے۔۔۔۔اب کی بار مدینہ میں ڈاکٹر احمد علی سراج ان کے میزبان ٹھہرے۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب انہیں ایک درویش آدمی سمجھتے اور بہت پیار کرتے۔۔۔۔حج سے واپسی پر اللہ نے حافظ صاحب اور بھابھی پر ایک خاص کرم فرمایا اور انہیں شادی کے سولہ سال بعد ایک گڑیا عطا فرمائی جس کا نام زینب ہے۔۔۔۔۔میں انہیں کہتا کہ بھابھی کو اللہ نے کچھ خدمات کا صلہ دیا ہے تو وہ کہتے یہ بات سو فیصد ٹھیک ہے۔۔۔۔حافظ صاحب کے ساتھ ایک مرتبہ مصلے پر ہی ہاتھ ہو گیا۔۔۔۔۔یہ ستائسویں کی شب تھی۔۔۔۔۔وہ لاہور سے پسرور گھر گئے۔۔۔۔۔رات خوب نوافل پڑھے۔۔۔۔بیٹھے بیٹھے بھابھی نے پوچھ لیا حافظ صاحب سچ بولنا ہے۔۔۔۔۔عقد ثانی فرمایا ہوا ہے؟؟؟حافظ صاحب کیا کرتے۔۔۔۔جائے نماز اور ستائسویں شب۔۔۔۔کہا جی۔۔۔۔اگلے دن ہنستے ہوئے فون آیا بھائی جی بیگم نے بڑی تکنیک سے مجھے پکڑ لیا ہے۔۔۔۔میں نے کہا کہ بھائی اب بھگتیں ۔۔۔۔میں اور مجاہد اقبال صاحب نے تو آپ کو مثالیں دے دے کر سمجھایا تھا۔۔۔۔۔خیر ان کی “خاتون اول” نے جس سگھڑ پن سے یہ” کیس “ہینڈل کیا وہ ایک مشرقی اور اسلامی مزاج والی خاتون ہی کر سکتی ہیں۔۔۔۔۔حافظ صاحب نے آخری ملازمت خبریں میں بطور نیوز ایڈیٹر اسلام آباد ڈیسک پر کی۔۔۔۔ایک دن ہم دفتر سے پریس کلب آئے۔۔۔۔۔ایک “بندے” نے ہمیں دیکھتے ہی کہا جوڑی پھر اکٹھی ہو گئی۔۔۔۔۔پھر کچھ دن بعد انہیں بوجوہ نوکری چھوڑنا پڑی۔۔۔۔۔شاید یہ نظر بد تھی کہ پھر انہوں نے کبھی جاب نہیں کی۔۔۔۔۔مجھے لگتا ہے کسی بدخواہ کی نظر بد ہی نوکوی کی طرح ان کی زندگی بھی کھا گئی۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں:شملہ پہاڑی سے کرتار پور تک
حافظ ظہیر لاہور پریس کلب کے سنئیر کونسل ممبر اور صحافیوں کی سیاست میں بھی کافی متحرک تھے۔۔۔۔۔۔یہ دو ہزار آٹھ یا نو کی بات ہے۔۔۔۔۔ہم روزنامہ آج کل میں تھے تو میں نے جناب تنویر عباس نقوی سے مشورہ کر کے حافظ صاحب کو میدان میں اتار دیا۔۔۔۔۔یہ جناب ارشد انصاری کے جرنلسٹس گروپ کے برے دن تھے جیسے آج کل ہیں۔۔۔۔یہ گردش ایام ہے اور ہر کوئی اس مرحلے سے گزرتا پے۔۔۔۔مجھے یاد ہے لائبریری روم میں گروپ میٹنگ تھی۔۔۔۔۔وہاں کئی “جعاددی لیڈر” تھے مگر ان حالات میں کوئی الیکشن لڑنے کو تیار نہیں تھا۔۔۔۔۔یار لوگوں نے گھیر گھار کر جناب اسرار وڑائچ کو صدر کا امیدوار ڈکلئیر کر دیا۔۔۔۔۔ہمارے مدمقابل جناب معین اظہر کا پروگریسو گروپ تھا اور جناب محسن گورائیہ صدر کے امیدوار۔۔۔۔۔۔ہمیں خازن کی نشست ملی۔۔۔۔۔۔نا جانے عباس اطہر صاحب نے کیا پھونک ماری کہ الیکشن مہم شروع ہونے سے پہلے ہی اسرار وڑائچ صاحب پر اسرار طور پر دستبردار اور گورایہ صاحب بلا مقابلہ صدر منتخب ہو گئے۔۔۔۔۔پہلے سے نڈھال جرنلسٹس گروپ کی کمر ٹوٹ گئی۔۔۔۔۔۔امیدوار دل ہار بیٹھے۔۔۔۔علامتی سا الیکشن رہ گیا۔۔۔۔۔۔نقوی صاحب کی قیادت میں ہم نے خزانچی کی نشست پر مزاحمت کا اعلان کر دیا۔۔۔۔۔حافظ صاحب کے مقابلے میں دھیمے مزاج کے برادرم زاہد عابد امیدوار تھے۔۔۔۔۔۔پھر اس نشست پر اتنا کانٹے کا مقابلہ ہوا کہ بلامقابلہ جیتے گروپ کو خزانچی کی سیٹ پر الیکشن لڑتے پسینے چھوٹ گئے۔۔۔۔۔۔انہوں نے اس دن اس ایک نشست پر ہی ووٹ مانگے۔۔۔۔۔۔نتیجہ آیا تو زاہد عابد صاحب ساٹھ ستر ووٹوں سے جیت گئے۔۔۔۔۔ہم ہارے لیکن مقابلہ کر کے۔۔۔۔۔اس الیکشن میں حافظ صاحب کے سیاستدان کزن جناب ڈاکٹر نعیم نذیر بھی ہمارے شانہ بشانہ تھے جبکہ مہم کے دوران روزنامہ جنگ کے باہر سے حافظ صاحب کی گاڑی بھی چوری ہو گئی جو آج تک نہیں ملی لیکن اللہ نے انہیں اس سے بڑی گاڑی دیدی۔۔۔۔۔۔۔لاہور پریس کلب کی تاریخ میں خواتین صحافیوں نے ایک ہی “خود مختار” وزٹ کیا ہے جس کے میزبان سیالکوٹ میں ہمارے صحافی دوست جناب ڈاکٹر شمس جاوید اور نوازش قریشی کے علاؤہ حافظ صاحب تھے۔۔۔۔۔نوشین نقوی کی سربراہی میں یہ ہیڈ مرالہ کا یادگار ٹور تھا۔۔۔۔مجھے یاد ہے کہ ہم نے لاہور پریس کلب کے ممبرز اور ملازمین کے لیے عمرہ پروگرام شروع کیا تو تیسرے سال نوشین نقوی نے خواتین کے لیے بھی عمرہ پیکیج کی تجویز دیدی۔۔۔۔میں نے کہا کہ چونکہ حافظ صاحب ‘حقوق نسواں” کے علم بردار ہیں۔۔۔۔۔۔لہذا جناب ہی مینج کرینگے۔۔۔۔حافظ صاحب نے یہ تجویز قبول کرلی اور اپنی جیب سے قرعہ اندازی کے تحت ایک عمرہ پیکیج دیا۔۔۔۔۔حافظ صاحب آخری وقت تک پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے ایک دھڑے کے فنانس سیکرٹری تھے۔۔۔۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔۔۔۔۔۔۔۔