تحریر:جاوید اقبال
جب مورخ پاکستان بحریہ کی تاریخ کا درخشاں باب لکھے گا تو 20 جولائی 2023 کی روداد جلی حروف سے لکھی جائے گی۔۔۔کیونکہ اس دن چین کے اشتراک سے تعمیر شدہ دو نئے ٹائپ 054 A تباہ کن بحری جنگی جہاز پی این ایس شاہ جہاں اور پی این ایس ٹیپو سلطان ایک ساتھ پاکستان کے بحری بیڑے میں شامل کیے گئے۔۔۔۔ یوں اس طرح چار نئے ٹائپ 054 A تباہ کن جنگی جہازوں کی تیاری کا منصوبہ کامیابی سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔۔۔ جلد ہی ترکی کے اشتراک سے تعمیر شدہ چار نئے ملجم کلاس تباہ کن بحری جہازاورہالینڈ سے خرید شدہ دو کورویٹ پاکستان کے بحری بیڑے میں شامل ہو کر پاکستان کے بحری دفاع میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا کردار ادا کریں گے۔۔۔۔ چین کے اشتراک سے آٹھ نئی آبدوزوں کا منصوبہ بھی تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے۔۔۔۔ یوں ہماری آنکھوں کے سامنے ایک نئی بحریہ وجود میں آرہی ہے جو حربی صلاحیتوں میں کسی جدید مغربی بحریہ سے کم نہیں۔۔۔۔اور دشمن بحریہ کے مذموم عزائم سے نہ صرف نپٹنے بلکہ گھر میں گھس کر وار کرنے کی بھی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔۔۔۔ پاکستان بحریہ افواج پاکستان کا ایک اہم ستون ہے۔۔۔ پاکستان کی 1000 کلومیٹر طویل بحری سرحدوں اور تقریبا تین لاکھ مربع کلومیٹرپرمحیط سمندری علاقے میں سطح آب اور زیر آب پھیلے ہوئے بحری مفادات کی حفاظت اسکے اولین فرائض میں شامل ہے۔۔۔۔آج پاکستانی بحریہ اپنے ماٹو ”ہمت کا علم، اللہ کا کرم، موجوں پہ قدم” کی عین تصویر بن چکی ہے۔۔۔۔

مگر ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔۔۔۔۔جب سن سینتالیس میں پاکستان آزاد ہوا تو پاکستان بحریہ کے حصے میں گنے چنے چند پرانے جہاز آئے۔۔۔۔ساحلی تنصیبات یعنی ڈاکیارڈ اور گودیاں وغیرہ بھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔۔۔۔ 23 جنوری 1948 کو جب قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے پی این ایس دلاور میں بحریہ کے افسروں اور جوانوں سے خطاب کیا تو حالت دیدنی تھی۔ ۔۔۔ قائد اعظمؒ جیسے عظیم رہبر کے سامنے بحریہ کا تابناک مستقبل روز روشن کی طرح عیاں تھا۔۔۔۔انہوں نے فرمایا جسکا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے”پاکستان اور اسکی مسلح افواج بشمول بحریہ ابھی عہد طفولیت میں ہیں مگر یہ نونہال جلد جوان ہونا چاہتا ہے اور اللہ کی رحمت سے انشااللہ یہ بعض لوگوں کے اندازوں سے بہت جلد ایک طاقتور نوجوان بن کر ابھرے گا”۔۔۔۔ پھر وہ پاکستان بحریہ کے افسروں اور جوانوں سے براہ راست گویا ہوئے اور فرمایا ”آپ کو اپنے(یعنی بحریہ کے)حجم میں کمی کا ازالہ اپنی بہادری اور بے لوث فرض شناسی سے کرنا ہو گا۔۔۔۔ کیونکہ زندگی خود کوئی معنی نہیں رکھتی،جب تک اسے شجاعت،استقامت اور اوولولعزمی سے عبارت نہ کیا جائے۔۔۔۔اقوام عالم کے لوگ کراچی بندرگاہ کا دورہ کرتے ہیں اور دنیاکی نظریں آپ(بحریہ) پر ہیں۔۔۔مجھے یقین ہے کہ آپ اپنے طرز عمل سے کبھی پاکستان کا سر نگوں نہیں ہونے دیں گے۔۔۔اور یہ کہ آپ دنیا کی عظیم اقوام کی طرح ہمیشہ اپنی اعلی بحری اقدار کا پاس کرتے ہوئے پاکستان کی عزت اور عظمت کو چار چاند لگائیں گے”۔۔۔۔

قائدؒ کی اس بات کو مشعل راہ مان کر پاکستان بحریہ نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔۔۔۔محدود وسائل اور ماہر افرادی قوت کی کمی کو خاطر میں لائے بغیر بتدریج ایک مضبوط بحریہ کی بنیاد ڈال دی گئی۔۔۔۔۔۔۔دنیا بھر میں بحری افواج کو عرف عام میں سنڈریلا کے کہانی کردار سے تشبیہ دی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔یہی چیلینج شروع میں پاکستان بحریہ کو بھی ملحوظ خاطر رہا۔۔۔۔۔۔۔۔چونکہ بحریہ کے زیادہ تر معمولات دور گہرے سمندر میں عوام کی نگاہوں سے پرے ہوتے ہیں۔۔۔اس لیے بحریہ اور بحری دفاع کی اہمیت اکثر زیر بحث رہتی ہے۔۔۔۔یوں اولین دور میں بجٹ کی کمی کے باعث پاکستان بحریہ کا انحصار بھی زیادہ تر پرانے بحری جنگی جہازوں پر رہا جنہیں کم داموں خرید کر اور ان پر کچھ جدید ہتھیار نصب کرکے ان کو بحری دفاع کے قابل بنایا جاتا رہا۔۔مگر انہی پرانے جنگی جہازوں نے 1965 میں بھارت کے ساحلی ریڈار سٹیشن دوارکا پر گولہ باری کر کے اسے نہ صرف نیست و نابود کیا بلکہ آبدوز غازی کی دہشت سے بھارتی بیڑہ بمبئی کی بندرگاہ میں محصور ہو کر رہ گیا۔۔۔۔۔ 1971 کی جنگ کا احاطہ چند سطور میں کرنا مشکل ہے مگر یہاں بھی پاکستانی آبدوز ہنگور نے کمانڈر احمد تسنیم کی قیادت میں بھارت کے پانیوں میں گھس کر بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس کُکری کو نہ صرف ڈبویا بلکہ آئی این ایس کرپان پر بھی گہری ضرب لگائی۔۔۔۔۔

اکہتر کی جنگ کے اسباق کے نتیجے میں بحری بیڑے کے ہوائی بازو کو بالخصوص تقویت دی گئی۔۔۔۔اور ساحلی پٹی پر نگرانی کے لیے ریڈارز کا جال بچھایا گیا۔۔۔۔۔اورماڑہ کے مقام پر جناح نیول بیس کی تعمیر بھی کی گئی۔۔۔۔۔۔اسی طرح گوادر بندرگاہ پر بھی نصب بحری تنصیبات میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا تا کہ خلیج سے دشمن کے تجارتی و جنگی جہازوں کی آمدورفت کو مسلسل نگرانی کے ذریعے کسی بھی وقت نشانہ بنایا جا سکے۔۔۔۔۔سی پیک کے تناظر میں خاص طور سے گوادر بندرگاہ اور اس پر لنگر انداز ہونے والے تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کے لیئے ایک الگ ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔۔۔یہاں یہ کہنا بجا ہے کہ بھارت نے اپنی بحریہ کی استعداد میں گونا گوں اضافہ کیا ہے۔۔۔ اور جہاز سازی کی صنعت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرکے کافی حد تک خود انحصاری حاصل کر لی ہے۔۔۔۔۔بھارتی بحریہ نے اپنے بیڑے میں دو ائرکرافٹ کیرئر بھی شامل کر رکھے ہیں جو کہ پاکستانی عوام میں اکثر زیر بحث آتے ہیں۔۔۔۔۔

یہاں ہم یہ بتاتے چلیں کہ ائر کرافٹ کیرئر کا استعمال وہ ملک کرتے ہیں جن کے جارحانہ عزائم میں بہت دور کے ممالک پر حملہ یا طاقت کی دھونس ڈالنا شامل ہو۔۔۔۔۔ چونکہ بھارت اپنے آپ کو عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے شانہ بشانہ دیکھنا چاہتا ہے اور چین کی برابری کرنا چاہتا ہے، اس لیئے وہ اپنے بحری بیڑے میں ائر کرافٹ کیرئر کی شمولیت ضروری سمجھتا ہے۔۔۔ مگر پاکستان سے دو بدو مقابلے کی صورت میں اسکے ائر کرافٹ کیرئر بجائے خود پاکستان بحریہ کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔اسی طرح پاکستان بحریہ نے ماضی قریب میں بھارتی آبدوزوں کو بارہا نشانے پہ رکھ کے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ بھارتی سورما کسی مغالطے میں نہ رہیں۔۔۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ بحری جنگ کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔۔۔۔۔۔ہائبرڈ یا مخلوط بحری جنگ میں دشمن کی حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ وہ ساحلی علاقوں اور بندرگاہوں میں دہشت گردی کے واقعات رونما کروا کے ملکی بحری تجارت پہ کاری ضرب لگائے اور یوں ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے اور کوئی موقع پا کر یا بنا کر سرعت سے وار کرے اور جشن فتحیابی منا کر اپنا قد اونچا کرے۔۔۔۔بھارتی بحریہ کا حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو اسی کام پر معمور تھا مگر پاکستانی انٹیلی جنس اداروں نے بروقت اس کے دانت کھٹے کر دیے۔۔۔۔مگر نہ جانے اور کتنے کلبھوشن یادیو اس کام پر مامور ہوں؟؟؟اس لیے مخلوط بحری جنگ میں پاکستان بحریہ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔۔۔۔وقت کے تقاضوں کے پیش نظر پاکستان بحریہ اپنی استعداد میں روز بروز اضافہ کر رہی ہے۔۔۔۔خود انحصاری کو باضابطہ فروغ دیا جا رہا ہے۔۔۔۔بین الاقوامی روابط بڑھا کر گہرے سمندر میں غیر قانونی سرگرمیوں مثلاً منشیات کی تجارت،تارکین وطن کی غیر قانونی ہجرت وغیرہ کا سد باب کیا جا رہا ہے۔۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان بحریہ ساحل پر بسنے والے غریب مچھیروں کی فلاح و بہبود کے لیئے ہمہ تن کوشاں ہے۔۔۔۔پاکستان بحریہ کے قائم شدہ سکول و ہسپتال ساحلی پٹی کے پسماندہ باشندوں کے لیئے کسی فرشتہ رحمت سے کم نہیں۔۔۔۔سمندری طوفان و سیلاب کے متاثرین ہوں یا کسی قدرتی آفت کے شکار۔۔۔پاکستان بحریہ ہمہ وقت انکی مدد کے لیے تیار ہے۔۔۔۔