عمران خان کی گرفتاری مکافات عمل ہے ۔سیاستدان بحیثیت ادارہ جمہوریت کو مضبوط کریں اور اصلاحات کی راہ اختیار کریں

تحریر:بیرسٹر امجد ملک

عمران خان کی بے ایمانی ثابت، چوری پکڑی گئی جرم ثابت ہو گیا۔ ۳ سال کی سزا اور ایک لاکھ جرمانہ۔ بہت آسان سا سبق ہے کہ “اے انسان اللہ سے ڈرتا رہے ، زمین پر اکڑ کر مت چل” ۔ توشہ خانہ کیس : 42سے زائد سماعتیں مجرم چار مرتبہ پیش ہوا ۔ الیکشن کمیشن نےنےفئیر ٹرائل کے لیے سیشن کورٹ بھجوایا صفائی کا پورا موقع دیاگواہیاں آئیں گواہوں پر ملزم کے وکلاء نے جرح کی۔ جج کو ملزم کے وکلاء نے گالیاں دیں حتمی دلائل سے فرار اختیار کیا جھوٹ بولا وکیل احتساب عدالت میں ہے ۔ پانامہ کیس ۔ سپریم کورٹ نے پہلے درخواست مسترد کی پھر خود کہہ کر لگائی جے آئی ٹی بنائی سارا شریف خاندان بشمول وزیر اعظم پیش ہوا رسیدیں دیں تین نسلوں کی تلاشی دی 100سے زیادہ پیشیاں بھگتیں سزا پر موت وحیات کی کشمکش میں اہلیہ کو چھوڑ بیٹی کا ہاتھ پکڑ گرفتاری دی ۔ جیل بھگتی۔ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان جو اقتدار کے ون پیج سحر کا ہائی پیڈسٹل پر سوار تھے انہوں نے اس اقتدار کے نشے اور ضعم میں اپنی حزب اختلاف کا ایک بھی سرکردہ لیڈر جیل سے باہر نہیں چھوڑا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف 347 دن جیل میں رہے۔ سابق وزیراعلی شہباز شریف اور صدر مسلم لیگ ن 207 دن جیل میں رہے اور انکے بیٹے حمزہ شہباز شریف 627 دن جیل میں رہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی 222 دن جیل میں رہے۔ سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق 462 دن جیل میں رہے۔ سابق وزیر دفاع خواجہ آصف 176 دن جیل میں رہے۔ مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر پلاننگ احسن اقبال 66 دن جیل میں رہے۔ سابق وزیر قانون پنجاب اور پارٹی عہدیدار رانا ثناء اللہ جعلی ہیروئن رکھنے کا مقدمہ بھگتے اور 174 دن قید میں رہے ۔ تب ہی یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مکافات عمل ہے۔ آج کی گرفتاری مکافات عمل ہے آپ جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں ، توشہ خانہ کے تحائف بیچنا قابل شرم عمل تھا ۔ ریاستی طور پر تحفے دینا اور لینا مروجہ بین الاقوامی روائت ہے اور مسلمان ریاستوں میں سنت رسول ُاللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے۔ ہر ریاستی سربراہ دوسرے کو اپنے ملک اور عوام کی نمائیندگی کرتے ہوئے تحائف دیتا ہے ۔ اس عزت افزائی سے ایک دوسرے کے تاریخ تعلقات اور انکی ماہیت اور سٹیٹس کا پتہ چلتا ہے۔ تمام تحائف سرکاری توشہ خانہ میں جمع ہوتے ہیں ۔ آپ ذاتی استعمال کیلئے قانون پر عمل کرکے رکھ سکتے ہیں لیکن مارکیٹ میں اجلت میں بیچنا یا انکی عوامی طور پر بے قدری کرنا صریحاً ناقابل تلافی و معافی جرم ہی گردانا جاتا ہے۔ تحفے بیچنا جرم ہے ہی لیکن تمام ملکی ادارے بھی اپنا احتساب کریں کہ انکی ناک کے نیچے یہ سب ہورہا تھا اور وہ چپ سادھے بیٹھے رہے۔ ڈبے اٹھانے اور تبدیلی کو زور بازو نافذ العمل کرنے کے معاملے کی تحقیق ہی سمت کا تعین کرنے میں مددگار ہوگی ۔ عمران خان اپنے انجام کو پہنچ گیا، وہ عمران خان جو نیب کو سیاسی مخالفین کے خلاف بے دردی سے استعمال کرتا تھا وہ آج توشہ خانہ چوری میں پکڑا گیا۔ نا کوئی سیاسی انتقام نا کوئی سیاسی گرفتاری ۔آج پاکستان کاسوشل میڈیا و ٹک ٹاکر گرفتار ہوگیا، نا کوئی اسکے لئے باہر نکلا نا کوئی احتجاج ۔ عوام اس سیاسی مسخرے کو جان چکی ہے۔ آج تحریک انصاف کا مکافات عمل اور یوم استحصال ہے۔ آج قائد مسلم لیگ ن نوازشریف کی بات نے اپنا سچ منوالیا ہے جب انہوں نے کہا تھا کہ میں اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں ۔آج اس سازش کے سب کردار زلیل و رسوا ہورہے ہیں۔اور نوازشریف آج بھی مقبول عوامی لیڈر ہیں۔ سیاستدان بحیثیت ادارہ سیاست اور جمہوریت کو مضبوط کریں اور اصلاحات کی راہ اختیار کریں۔ عدالتی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ سیاستدان معنی خیز مزاکرات کے زریعے قوم کو اقتصادی بحران سے نکالیں ۔اس مذاکرات کی میز پر تحریک انصاف کو بھی ہونا چاہیے اور انکے لیڈر کے پیشکش کو رد نہیں کرنا چاہیے۔ بامقصد مزاکرات نگران حکومتیں بنانے اور فری فئیر اور منصفانہ الیکشن منعقد کروانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اس تمام کاروائی سے سبق یہی ہے کہ جو تنقید نگار ہیں انکی بھی عزت کریں اور اصلاح کا پہلو تلاش کریں ۔ عزت دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں لیکن اختیار ملے تو عاجزی اختیار کرنا چاہیے کیونکہ ؀ صراحی سر نگوں ہوکر بھرا کرتی ہے پیمانہ۔ اللہ پاک سب کی عزت میں اضافہ کریں آمین – وہی عزتوں کا محافظ اور ہمارا پالن ہار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں