تحریر:بیرسٹر امجد ملک
جسٹس عمر عطابندیال ریٹائر ہورہے ہیں۔قاضی فائز عیسیٰ نئے چیف جسٹس کا حلف اٹھا رہے ہیں۔پاکستان کو ویسے ہی لڈیاں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔کرسی سے اترنے کی دیر ہے۔۔۔سب ہول سیل میں گالیاں شروع کردیتے ہیں۔۔۔ہم بحیثیت معاشرہ اپنے کپڑے پھاڑنے میں مشہور ہوتے جارہے ہیں۔۔۔۔جو کہنا ہے اسکے منہ پر اسکی سیٹ پر ہوتے ہوئے کہیں وگرنہ چپ رہیں تاریخ دان خود ہی کوڑے میں پھینک دیں گے۔کرمنل ٹرائل آپ سے ہوتا نہیں ہے۔مک مکا سے چل چلاو ہے۔نیب کیسز میں ضمانت کیسز پر سپریم کورٹ پہلے ہی سلوک شرمناک قرار دے چکی ہے۔سیاستدانوں کو رگڑا لگانے کا شوق پالا ہوا ہے،ججز پر قانون کا اطلاق نہ ہونے کے برابر ہے۔جرنیل ابھی بھی آرٹیکل پانچ کی تشریح اور اپنے حلف پر اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔تمام اشرافیہ کے اللے تللے کم ہونے کا نام نہیں لیتے لیکن ہم تو ہم ہیں قانون نہ ہم نے بہتر کرنا ہے نہ عدالتی پراسس بہتر کرنا ہے اور نہ ہی معیار انصاف میں تبدیلی لانا ہے۔رہنا نیچے سے اوپر ہی ہے تو یہ فیصلہ بھی ججز عوام اور حکمرانوں نے خود ہی کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی گرفتاری مکافات عمل،سیاستدان بحیثیت ادارہ جمہوریت کو مضبوط اور اصلاحات کی راہ اختیار کریں
عوام کی انصاف کی فراہمی اور معیار اور کوالٹی آف انصاف اور تشویش پر ایک دفعہ پھر یاد دہانی ہے۔قاضی فائز عیسیٰ ایک فریش سٹارٹ لیکر تناو ختم کر سکتے ہیں۔وہ اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ کا کانٹا تھے۔۔۔عوام کی آنکھ کا تارا بن سکتے ہیں۔۔۔وہ رول آف لاء کیلئے سیاست میں عدالتی اور فوجی مداخلت ختم کر کے فری الیکشن اور مضبوط پارلیمان اور عدالتی اصلاحات کی بنیاد اور قائد کے پاکستان کی طرف پیش قدمی کروا سکتے ہیں۔چائے کی پیالی پر سیاست کا وقت ہوا چاہتا ہے۔۔۔وہی عوام کی فلاح اور سمت کا راستہ ہے۔انشاءاللہ
عدالت عظمی اصلاحات کیلئے پیش رفت کرے۔جوڈیشل کمیشن کے ذریعے آنے والی پارلیمان کے ذریعے قانون سازی کی راہ ہموار کرے۔حکومت کو مفید مشورے دے۔پولارایزیشن/عدالت کو سیاسی معاملات میں الجھانے کی بجائے جو سیاسی معاملات باعث نزع ہیں انکو واپس پارلیمان بھیجے تاکہ بہتر قانون سازی ہو سکے۔عدالت عظمی ازخود نوٹسز پر حتمی ایڈوائزری جاری کرے اور اپیل کا حق مقدم رکھے۔آرٹیکل 10 اے کی منشاء یہی ہے کہ سائل بغیر اپیل کے نہ رہے۔اسکے لئے عدالتی نظیر اور پارلیمانی آئینی ترمیم کی بنیاد رکھے۔جنرل مشرف کے دور سے ہی عدلیہ نشانے پر رہی ہے۔افتخار چوہدری کی تحریک نے رول آف لاء کیلئے جدوجہد کا آغاز کیا لیکن منتقی انجام تک نہیں پہنچایا۔عدلیہ بار سے ملکر وکلاء اور پروفیشن کے وقار کو بلند کرنے کیلئے انکے سلیبس ٹریننگ اور وکلاء کو اچھے جج بنانے کیلئے راہ ہموار کرے۔ججز کا احتساب کا نظام اور معیار ناقص اور غیر معیاری ہے۔۔۔یہ نہیں ہو سکتا کہ سو کے قریب ججز خلیفہ کی طرح ایکٹ کریں۔۔۔سپریم جوڈیشل کونسل کو فعال کیا جائے۔۔۔چھ ماہ میں تمام شکایات کا فیصلہ ہو۔۔۔ججز بنانے کا نظام اوور ہال انکی ملازمت کا تحفظ اور چادر اور چاردیواری محفوظ ہو یقینی بنایا جائے۔۔۔۔پاکستان میں قانونی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان میں اس وقت نچلی سطح پر انصاف کی فراہمی کا نظام بے حد تضادات کا شکار ہے۔موجودہ صورتحال انصاف میں تاخیر،کرپشن،جانبداری،غیر پیشہ روانہ رویوں اور انصاف کی راہ میں رکاوٹوں کی وجہ سے سول اور کرمنل دونوں شعبوں میں اصلاحات کی متقاضی ہے۔۔۔۔تفتیش اور استغاثہ میں سیاسی مداخلت کے تاثر پر ازخود نوٹس لینا درحقیقت ہرحکومت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔۔۔
مغرب از خود نوٹسز سے جان چھڑا چکا ہے۔تاثر یہ بھی ہے کہ گذشتہ سالوں میں بین الاقومی رینکنگ میں عدلیہ کی کارکردگی اور ساکھ انڈیکس میں نیچے آئی ہے۔۔۔اس پر فل کورٹ ریفرنس بنتا ہے تاکہ عام سائل کیلئے اصلاحات ہوں۔عدالت اگر چاہتی ہے کہ فیصلوں کی عزت ہو تو عوام کے کیسوں پر جلد فیصلے کریں۔۔۔۔معنی خیز قانون سازی اور اصلاحات کیلئے تجاویز دیں۔۔۔سیاسی معاملات سے دور رہیں۔۔۔از خود نوٹس ضرور لیں لیکن متعلقہ ہائی کورٹ بھیجیں تاکہ کہ وہ فیصلہ کریں،سپریم کورٹ اپیل سن سکے۔انصاف کریں تاکہ تاریخ آپکے ساتھ انصاف کر سکے۔۔۔ملزمان کی مجرمان میں عدالتی ٹرائل کے ذریعے تبدیلی کی شرح انتہائی کم ہے جسکی وجہ غیر معیاری تفتیش اور پراسیکیوشن کا علیحدہ نہ ہونا ہے اور ججز کی کمی کے ساتھ ساتھ ایک جج کے معیارات میں کمی اور جاری تربیت اور نچلی سطح پر عدالتی نظام کو زمانہ جدید کے خطوط پر آراستہ نہ کرنا ہے۔سول نظام تو بیٹھتا محسوس ہوتا ہے کیونکہ مقدمات سول جج کی عدالت میں سالوں چلتے ہیں۔۔۔ ہم نے انہیں کسی وقت کا پابند نہیں کیا،اصلاحات کی دہائی ضرور دی لیکن پارلیمنٹ میں اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو نہ ہو سکی اور ہوئی بھی تو سیاسی مقاصد حائل آئے اور وہ نتیجہ خیز نہ ہوئی۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں:عوام کے دل سے فوج کی محبت اور دشمن کے دل سے پاک فوج کا خوف کوئی ختم نہیں کرسکے گا
نظام پے در پے ایک متفقہ سمت کا متلاشی رہا اور آئین ہونے کے باوجود اسکا تحفظ قومی کاز اور مقصد نہ بن سکا۔۔۔رہی سہی کسر نیب نے پوری کر دی۔برطانیہ نے بھی سول نظام میں خرابیوں کو 1995 میں ایک سپریم کورٹ کے جج لارڈ ولف کے نام پر ولف ریفارمز کے ذریعے سیدھا کیا۔۔۔انہوں نے کیس مینجمنٹ کا نظام متعارف کروایا جس سے ایک کاونٹی یا قصبے/ضلعے میں ایک ہی عدالت کے ذریعے جدید ذرائع کے ساتھ مقدمات کا اندراج اور اخراج شامل تھا۔اس تمام کارروائی کو چھ ماہ میں مکمل کرنے کا خودکار نظام وضع کیا۔کیس سے پہلے کچھ شرائط لازماً قرار دیں،ٹرائل سے پہلے سمجھوتے کے امکان اور اسکے لئے ایک نظام کو متعارف کیا،چھوٹے،درمیانے اور بڑے مقدمات کے لئے گزارشات مرتب کیں اور انصاف کے حصول کے متبادل ذرائع کو استعمال کرنے کے لئے(اے ڈی آر )آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیشن کا پورا نظام کھڑا کیا۔۔۔اس نظام کے ذریعے دونوں پارٹیوں کے درمیان مفاہمت،سمجھوتہ اور صلح صفائی اور باہم رضا مندی سے عدالت جائے بغیر مقدمات کا حل موجود تھا۔ہم ابھی تک آربیٹریشن اور مصالحاتی کمیٹی جیسی عدالتی اصلاحات کے پاس سے بھی نہیں گزرے،گرچہ ہمارا دیہی پنچائت کا نظام اسی اصول پر کار فرما تھا لیکن ہم نہ اِدھر کے رہے نہ ادھر کے۔کچھ عرصہ سے ہندوستان میں“لوک عدالتوں“کے ذریعے چھوٹے مقدمات ایک دو پیشیوں میں حل کرنے کا نظام رائج ہے اور رواج پکڑ رہا ہے۔برصغیر کے ممالک میں کیسوں کو لمبے عرصے تک لٹکا کر انصاف کی تاخیر انصاف کی نفی یا عدم دستیابی کے مترادف ہے۔سیاست جوا نہیں ہے۔سیاست میں شرطیں نہیں لگانی چاہیے۔جو کہتے تھے کہ پرانے سیاست دان تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں وہ آج ناخن چبا رہے ہیں۔کبھی بھی،کہیں بھی کچھ بھی ہونا سیاست میں ممکن ہے۔سیاست ہے ہی ناممکنات کو ممکن بنانے کا کام اور ممکنات کو یقینی بنانے کا کام ہے۔کچھ کر گزریں تاکہ لوگ آپکو یاد رکھیں وگرنہ تاریخ کا کوڑے دان طاقتوروں کے قصوں سے بھرا پڑا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ “ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے۔
(بیرسٹر امجد ملک برطانوی وکلاء کی تنظیم ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز کے چیئرمین اور برطانیہ میں انسانی حقوق کا سن 2000 کے بہترین وکیل کا ایوارڈ رکھتے ہیں،وہ ہیومن رائٹس کمیشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان کے تا حیات اعزازی ممبر بھی ہیں)