لاہور (ایجوکیشن رپورٹر)پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو دوبارہ چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے پنجاب یونیورسٹی کول سنٹر میں سوا کروڑ کی مدد سے پانچ سو کلو واٹ بجلی بنائی،کپاس کی ٹہنیوں،کوئلہ اور گنے کے چھلکوں کی مدد سے توانائی بنا سکتے ہیں، ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی تجویز کردہ ٹیکنالوجی اور تھر کوئلہ سے ایک میگاواٹ بجلی بھی نہیں بن سکی اور نہ ہی آئندہ بن سکے گی،اس ضمن میں ڈاکٹر ثمر مبارک کو میں نے پہلے بھی چیلنج دیا تھا اور وہ آج بھی برقرار ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کی وہ بڑی یونیورسٹی جس نے شہدا کے بچوں کے لئے مفت تعلیم کا اعلان کر دیا
”پاکستان ٹائم‘کے مطابق ا نسٹی ٹیوٹ آف انرجی اینڈ انوائرمینٹل انجینئرنگ پنجاب یونیورسٹی کی نئی بلڈنگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پروفیسر شاہد منیر کا کہنا تھا کہ میں نے عزم کیا تھا کہ برطانیہ اور امریکہ سے بہتر توانائی کا انسٹی ٹیوٹ پاکستان کو دوں گا اور تحدیث نعمت کے طور پر کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کو کئی نئے ادارے اور تعلیمی پروگرام دیے،پنجاب یونیورسٹی میں 98 کروڑ کی مدد سے انسٹی ٹیوٹ آف انرجی سنٹر کا قیام کیا۔ڈاکٹر شاہد منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئلے کے مجموعی ذخائر 185 ملین ٹن جبکہ صرف تھر میں 175 ملین ٹن کے ذخائر ہیں جبکہ اس سے بجلی کی پیداوار 0.6 فیصد ہے،معاشی اور تکنیکی حوالے سے تھر کوئلے کو زیر زمین جلا کر بجلی بنانا ممکن نہیں بلکہ اسے ایک ہزار فارن ہائٹ تک جلانے سے ناصرف نیچے تباہی ہو گی بلکہ خطرناک گیسز کے اخراج کو روکنا بھی ممکن نہیں رہے گا،ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے قوم کا پیسہ اور وقت ضائع کیا،ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی تجویز کردہ ٹیکنالوجی سے تھر کوئلہ سے ایک میگاواٹ بجلی بھی نہیں بن سکی اور نہ ہی آئندہ بن سکے گی،اس ضمن میں ڈاکٹر ثمر مبارک کو میں نے پہلے بھی چیلنج دیا تھا اور وہ آج بھی برقرار ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر کا کہنا تھا کہ 27 ٹریلین کا کوئلہ پاکستان میں موجود ہے،ہوا،سورج،پانی اور کوئلے کے ذخائر سے پاکستان کو بہت بہترین بجلی مہیا ہو سکتی ہے،چین دس لاکھ میگا واٹ اوربھارت دو لاکھ میگا واٹ بجلی کوئلے سے بناتا ہے،پاکستان 17 ارب ڈالر امپورٹ ڈیزل،فرنس آئل،ایل این جی اور آر ایل این جی پر خرچ کر رہا ہے،اگر یہی پیسہ پاکستان اپنے توانائی ذرائع کو کارآمدبنانے پر خرچ کرے تو بہترین نتائج مل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:یونیورسٹیز میں امن اور روادری کا فروغ،ڈاکٹر شاہد منیر نے 34 نکاتی امن فارمولہ پیش کر دیا