لاہور (ایجوکیشن رپورٹر ) پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن(پی ایچ ای سی) یونیورسٹیز اساتذہ کی دانشورانہ املاک کے حقوق کے تحفظ کا فریم ورک تیار کر ے گی، جسکے تحت اختراع اور تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اورپیٹنٹ فائل کرنے والے اساتذہ کومالی مراعات اورانعامات دیے جائیں گے۔
یہ بات چیئرمین پی ایچ ای سی ڈاکٹر شاہد منیرنے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز میں یونیورسٹیوںپیٹنٹ فائلرز کے لیے انٹلیکچوئل پراپرٹی اور پیٹنٹ فائلنگ پر دو روزہ سی پی ڈی ٹریننگ ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ورکشاپ کا مقصد شرکاءکو پیٹنٹ کی درخواست کے عمل کو موثر طریقے سے نیویگیٹ کرنے، ان کی دانشورانہ املاک کی حفاظت، اور ان کے آئی پی حقوق کو نافذ کرنے کے لیے درکار علم اور مہارت فراہم کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب بھر کے انٹرمیڈیٹ پارٹ 2 سالانہ امتحانی نتائج کا اعلان
ورکشاپ میں مختلف سرکاری یونیورسٹیز کے 60 فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد آئی پی او پاکستان میں پیٹنٹ کی سینئر ایگزامینر شاکرہ خورشید ، ڈاکٹر تنویرقاسم ، ڈاکٹر آصف منیر نے بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر شاہد منیر اپنے خطاب میں کہاکہ پی ایچ ای سی فیکلٹی ممبران کو اپنے علمی سرمائے کی حفاظت کرنے اور جامعات میں تحقیق اور اختراع کو آگے بڑھانے میں بااختیار بنائے گی اور مالی سرپرستی بھی کرے گی۔ انہوں نے یونیورسٹی اساتذہ کی املاک ودانش کے حقوق کے تحفظ میں سہولت فراہم کرنے میں اورک کے کردار پرروشنی ڈالی کہاکہ ہم تعلیمی برادری میں جدت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے دانشورانہ املاک کے حقوق اور پیٹنٹ سے متعلق قانونی پہلووں اورموثر طریقے سے بچانے کے لیے عملی حکمت عملی بیان کی اور اس امر پر زور دیا کہ پیٹنٹ فائلنگ میں پیچیدگیوں کو دور کرکے اسے آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ تحقیق نیا علم، نئی مصنوعات اور نئے طریقہ کار پیدا کرتی ہے اور پیٹنٹ کا حصول تحقیق کے نتیجہ میں ہونے والی ایجاد یا اختراع کی انفرادیت کا مظہر ہے، اس لئے اگر ہم تیزی سے ترقی کرتی دنیا میں اپنے لئے معزز اور با وقار مقام کے خواہاں ہیں تو ہمیں پنے ہاں تحقیق کے لئے موزوں ماحول کی آبیاری کرنا ہوگی اور اپنی تحقیق کے معیاراور مقدارکو تخلیقی نقطہ نظر سے مضبوط کرنا ہوگا، ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم تحقیق کو صرف سند اور محکمانہ ترقی کے حصول کا ذریعہ نہیں بنائیں گے بلکہ اس تمام عمل کو ملک اور انسانیت کی بہتری کا باعث بنانے اوراس حوالے سے اپنی جامعات کو معیاری تحقیقی سرگرمیوں کا مرکز بنانے میں بطور طالب علم، استاد اور پالیسی ساز اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:چائنیز کالج نے کراچی انسٹی ٹیوٹ میں ای کامرس شارٹ کورس کا آغاز کر دیا
انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں ہونے والی علمی ، سائنسی اور طبی تحقیق سے ہمارے معاشرے پر براہ راست کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے، ہمارے سکالرز کو چاہیئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے مقامی، علاقائی اور ملکی مسائل کو اپنی علمی تحقیق کا موضوع بنائیں پھر اسے کمرشلائز کریں تاکہ ہماری اکانومی نالج بیس بن سکے، ہمیں تھریٹیکل کی بجائے عملی ریسرچ کی ضرورت ہے۔انہوں نے ٹریننگ ورکشاپ کے انعقاد میں تعاون کرنے پر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے اختتام پر چیئرمین نے شرکا میں سرٹفیکیٹ بھی تقسیم کیے۔