لاہور(کرائم رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کی ریلی کے دوران جاں بحق ہونے والے کارکن علی بلال عرف ظل شاہ کے قتل کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
”پاکستان ٹائم “ کے مطابق پولیس میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آنے کے بعد مقتول علی بلال کے قتل کی گتھیاں واضح طور پرسلجھتی دکھائی دے رہی ہیں۔مقتول علی بلال کو مردہ حالت میں ہسپتال چھوڑنے والے دو نوجوانوں کا سراغ لگاتے ہوئے پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا ہے،ممکنہ طور پر آج (ہفتے کے روز)کسی بھی وقت نگران کابینہ میں شامل وزیر اور اعلیٰ پولیس افسران مشترکہ پریس کانفرنس میں زیر حراست نوجوان کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے ثبوت پیش کریں گے۔پولیس ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے علی بلال کو سروسز ہسپتال چھوڑ کر فرار ہونے والے دو نوجوانوں عمر اور جہاں زیب کا شناخت کرنے کے بعد حراست میں لیا ہے۔زیر حراست نوجوانوں نے اپنے ابتدائی بیان میں اعتراف کیا ہے کہ علی بلال کی موت ایک حادثے میں ہوئی اور یہ حادثہ فوٹریس برج پر پیش آیا،پولیس ملزموں سے مزید تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے،آج(ہفتے کے روز )کسی بھی وقت انہیں میڈیا کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں بتایا ہے کہ وہ فوٹریس برج سے اتر رہے تھے کہ اچانک علی بلال ان کی گاڑی کے سامنے آ کر زخمی ہو گیا،ہم نے فوری طور پر اپنے ڈالے میں زخمی علی بلال کو لے کر سروسزہسپتال پہنچے،جب زخمی کو سٹریچر پر لٹایا تو ایدھی رضاکار نے اس کے انتقال کا بتایا تو ہم فوری طور پر گاڑی لے کر رفو چکر ہو گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کا معمہ حل ہو گیا ہے،پولیس نے ملزموں کو گرفتار کرتے ہوئے کالے رنگ کے ڈالے کو بھی قبضے میں لے لیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ علی بلال سمیت اسکے ساتھ پکڑے جانے والے چار افراد کو فوٹریس برج کے پاس قیدیوں والی گاڑی سے اتار دیا گیا تھا،وہاں سے علی بلال سڑک کراس کرتے ہوئے گاڑی سے ٹکرا گیا،اسے کسی نے قتل نہیں کیا۔
