اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ملک میں جاری شدید سیاسی بے یقینی اور کشیدگی کے حوالے سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک بار پھر متصادم سیاسی قوتوں کے درمیان ثالثی کرانے کی پیشکش کردی ہے۔
”پاکستان ٹائم “کے مطابق ایک طرف جب لاہور پولیس پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی لاہور کی رہائش گاہ کو محاصرے میں لے کر ان کی گرفتاری کی کوشش کر رہی تھی تو دوسری جانب صدر مملکت نے اپنی ہی جماعت پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں سے بات چیت شروع کرے، صدر مملکت نے پاکستان کے آئین کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری تاریخ ثابت کرتی ہے کہ انتخابات میں تاخیر سے جمہوریت کو نقصان پہنچا۔
ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ملک کی خاطر کسی بھی شخص یا سیاسی جماعت سے ملنے کو تیار ہوں، پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی دیگر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنے کا کہا، حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، صدر مملکت نے کہا کہ پختہ یقین ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا، بہتر اور موثر مالیاتی انتظام ملک کو درپیش معاشی مشکلات پر قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے، صدر نے کہا کہ کرپشن کے خلاف ہوں کیونکہ اس نے پاکستان کو بری طرح نقصان پہنچایا، اسی لیے نیب ترمیمی بل واپس کیا۔
بعد ازاں ایک ٹوئٹ میں کہا کہ صدر مملکت نے کہا کہ آج کے واقعات سے مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔غیر ضروری انتقامی سیاست۔ ایسے ملک کی حکومت کی ناقص ترجیحات جس کو عوام کی معاشی بدحالی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، انہوں نے کہا کہ ’کیا ہم بڑے خطرناک سیاسی منظر نامے کی طرف جارہے ہیں؟ مجھے تمام سیاستدانوں کی طرح عمران خان کی حفاظت اور عزت کی بھی برابر فکر ہے‘۔یاد رہے کہ اس سے قبل صدرمملکت نے کئی ملاقاتیں بھی کیں جو بے سود رہیں جب کہ فریقین نے سیاسی کشیدگی کم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
