لاہور(سٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری سے ملاقات ہوئی ہے ہمارے معاملات طے پا چکے ہیں، آج عمران خان عدالت پیش ہونگے جبکہ پولیس انہیں سیکیورٹی دے گی ۔
پاکستان ٹائم کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ لاہور میں آج امن لاہور ہائیکورٹ کی وجہ سے ہے، جسٹس طارق سلیم شیخ کو اسکا تمام کریڈٹ جاتا ہے، عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب سے ہماری رات کو ملاقات ہوئی ہے ، آج جو حل تلاش کیا عدالت میں بتائیں گے، آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری سے ملاقات ہوئی ہے ، ہمارے معاملات طے پا چکے ہیں ، پنجاب پولیس عمران خان کو سکیورٹی دینے کے لیے تیار ہے۔
بعدازاں فواد چوہدری نے لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوکر بتایا کہ ہم نے کل آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب سے ملاقات کی، تین اہم معاملات پر بات ہوئی، پہلا معاملہ عمران خان کی سکیورٹی سے متعلق تھا، ہم نے عمران خان کی سیکیورٹی پر بات چیت کی، پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ ہم عمران خان کو قانون کے مطابق سیکیورٹی دیں گے، دوسرا معاملہ اتوار کے جلسے کا تھا ہم اتوار کے بجائے پیر کے روز لاہور میں جلسہ کریں گے، ہم ریلی نہیں نکالیں گے، ہم جلسے کے لیے پانچ دن پہلے انتظامیہ کو آگاہ کریں گے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے صرف 133 پولیس اہلکاروں پرتحفظات ظاہر کئے، ہم چاہتے ہیں پولیس کی جانب سے زیادتی کرنے والوں کےخلاف کارروائی ہونی چاہیے، عمران خان کو لاہور ہائیکورٹ تک محفوظ آنے کی اجازت دی جائے۔
آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ہمارا فیصلہ ہوا ہے کہ تحریک انصاف کا ایک فوکل پرسن ہو گا، ہم نے کہا ہے کہ کسی علاقے کو نو گو ایریا نہیں بننے دیا جائے گا، ہم چاہتے ہیں کہ اگر ہم کوئی سرچ آپریشن کریں تو کوئی رکاوٹ نہ ہو، سرچ وارنٹ آنے کےبعد ہمیں قانونی کارروائی کی اجازت ہونی چاہیے۔
آئی جی پنجاب عثمان انور نے کہا کہ اگر سرچ وارنٹ آتاہے تو ہم ان کی کمیٹی سے بات کریں گے اور انہیں عمل درآمد کی ہدایت کی جائے، ہم عدالت کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ میرٹ پر تفتیش ہوگی، کسی بے گناہ کو ملوث نہیں کریں گے، میں گارنٹی دیتا ہوں انتقامی کارروائی نہیں ہوگی ، یہ اپنا کوئی فوکل پرسن بنادیں
