اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ غیر معیاری تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا،کمیٹی نے قائد اعظم یونیورسٹی میں جھگڑے اور بندش پر بھی تشویش اظہار کا اظہار کیا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل کر کے یونیورسٹی میں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے۔
پاکستان ٹائم کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کااجلاس چیئرمین کمیٹی مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔کمیٹی ممبران مہناز اکبر عزیز، نثار احمد چیمہ،چوہدری محمد حامد حمید،ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی،کرن عمران ڈار،زہرا وددو فاطمی، ڈاکٹر ثوبیہ اسلم سومرو،مسز فرخ خان کے علاوہ ایچ ای سی حکام اور مختلف جامعات کے وی سی شریک ہوئے۔ قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ غیر معیاری تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہکر لیا۔
گجرات یونیورسٹی بریفنگ کے دروان ممبرکمیٹی محمد حامد حمید نے سوال اٹھایا کہ گجرات یونیورسٹی میں سٹڈی سنٹرز منظور کرنے کا طریقہ کار اور فیس کیا ہے۔ جس پر وی سی گجرات یونیورسٹی کمیٹی کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہ ہوئے ، کمیٹی نے دو دو کمروں پر مشتمل غیر معیاری تعلیمی اداروں پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ ایچ ای سی ایگزیکٹو ڈائریکٹر شائستہ سہیل نے کمیٹی کو بتایا کہ یونیورسٹیوں کو تعلیمی ادارے منظور کرنے اور نئے اداروں کو منظور کرنے پر پابندی کا خط ہفتہ قبل لکھ دیا گیا ہے۔کمیٹی ممبر ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو اپنے اپنے متعلقہ اضلاع یا ڈویژن تک محدود کیا جائے چونکہ منظوری کے بعد ان غیر معیاری اداروں کی باقاعدہ مانیٹرنگ نہیں کی جاتی جس کے باعث تعلیم کا معیار بری طرح گر رہا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے معاملہ ذیلی کمیٹی کو ریفر کرتے ہوئے ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی، ذیلی کمیٹی میں ایم این اے ذوالفقار بھٹی ، حامد حمید اور ثوبیہ اسلم شامل ہونگے۔ کمیٹی نے قائداعظم یونیورسٹی میں جھگڑے اور بندش پر بھی تشویش اظہار کا اظہار کیا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرکے یونیورسٹی میں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ انہوں نے کمیٹی کا ایک اجلاس قائداعظم یونیورسٹی میں رکھنے کا فیصلہ بھی کیا۔ قائداعظم یونیورسٹی کے نئے تعینات شدہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کمیٹی کو بتایا کہ 27فروری کو بلوچ اور پشتون گروپوں کے درمیان جھگڑا ہوا ، جس میں دو درجن طلبا زخمی اور کئی گرفتار ہوئے۔ جس پر کارروائی کرتے ہوئے جامعہ نے کئی طلبا کو یونیورسٹی سے خارج کر دیا ہے۔ اس جھگڑے کے باعث یونیورسٹی بند ہے، پروگرام آن لائن چلائے جار ہے ہیں۔طلبا گروہوں کی غیر قانونی سرگرمیوں اور ہاسٹل میں قبضے کے باعث بدنظمی پید ا ہورہی ہے۔ اس موقع ایم این اے محسن داوڑ بھی کمیٹی میں پیش ہوئے اور یونیورسٹی سے بے دخل کئے جانے والے طلبا کے لئے سفارش کی اور یونیورسٹی کا کھولنے کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی چیئرمین نے اس موقع پر ہدایت کی طلبا یونیورسٹی قواعد اور احترام اساتذہ پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔ انہوں معاملہ کو جلد حل کرنے اور آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس کو پیپر فری کرنے کے حوالے سے ابھی ہدایت جاری کی۔