نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف امریکی جریدے بلوم برگ نے اپنی ایک رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی قبل از وقت انتخابات کی خواہش نے پاکستان کو آئینی بحران میں دھکیل دیا ہے، وفاقی حکومت چیف جسٹس کی انتخابات میں مداخلت کو قبول کرنے پر تیار نہیں،چیف جسٹس اور وفاقی حکومت کے درمیان تصادم کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق معروف امریکی جریدے کی جانب سے شائع کیے جانے والے آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کی قبل از انتخابات کی خواہش کے باعث پاکستان ایک آئینی بحران کا شکار ہورہا ہے، جبکہ اس معاملے میں چیف جسٹس عمر عطاءبندیال مرکزی کردار بن چکے ہیں، جنہوں نے سابق وزیراعظم کی جانب سے دو صوبوں کی اسمبلیوں کو تحلیل کیے جانے کے بعد ازخود نوٹس لے کر انتخابات کا حکم جاری کیا مگر وفاقی حکومت چیف جسٹس کی جانب سے اس مداخلت کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہے، عمران خان تیزی سے پاکستان کو بحران اور انتشار کی جانب دھکیل رہے ہیں، بحران کے نتیجے میں پاکستان میں جمہوری عمل کے مستقبل کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وفاقی حکومت نے ازخود نوٹس لینے کے معاملہ پر چیف جسٹس کے اختیارات کو محدود کرنے کیلئے قانون سازی کی ہے جبکہ چیف جسٹس نے 8 رکنی بینچ تشکیل دے کر اس قانون سازی کو مکمل ہونے سے قبل ہی روکنے کا حکم جاری کروایا۔ جس کے بعد چیف جسٹس اور وفاقی حکومت کے درمیان ایک تصادم کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، عمران خان کی ناکام خارجہ پالیسی اور ملک کی ڈوبتی اقتصادی صورتحال نے تحریکِ عدم اعتماد کا راستہ اپنایا، حکومت کے مطابق اس وقت عمران خان کے پیدا کردہ حالات کی وجہ سے ڈیفالٹ سے بچنے، آئی ایم ایف پروگرام بحالی کی ضرورت ہے۔بلوم برگ کے مطابق پاکستان کی سپریم کورٹ میں تقسیم نظر آرہی ہے، تشدد کی فضا قائم ہونے کا بھی خدشہ ہے، عمران خان ملٹری اسٹیبلشمنٹ، امریکہ سے دوبارہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
