تحریر:بیرسٹر امجد ملک

جب پارلیمنٹ غیر فعال ہوتی ہے،تو تمام غیر آئینی طرز عمل اور ادارے پہلے سے طے شدہ منشور پر متحرک ہو جاتے ہیں۔اس کا حل صرف پارلیمنٹ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سب وہ کرے جو اسکا دائرہ اختیار ہے، چاہے وہ انتخابات کی تاریخ دینا ہو جو کہ خالصتاً ایک سیاسی سوال ہے، کسی بھی تصفیے یا کھیل کی شرائط کے لیے سیاسی مکالمہ کرنا ہو، مستقبل کے لیے قوم کو سمت دینا ہو، قانون سازی کو فعال بنانا ہو یا عدالتی اور آئینی تقرریاں اور احتساب کا معاملہ ہو۔ ہر سوال کا جواب پارلیمنٹ کے پاس ہے جسکے پاس حل کی کنجی ہے۔
اب پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) سربراہ کے مطابق سابق آرمی چیف (جنرل باجوہ) تمام برائیوں کی ماں ہیں۔ وہ اپنی انتظامیہ میں ماضی کے تمام گناہوں اور برائیوں کا ذمہ دار سابقہ آرمی چیف کو گردانتے ہیں۔ بادی النظر میں سابق وزیراعظم انکے تمام مشورے سن رہا تھا اور محض ایک کٹھ پتلی کی طرح رسی کے کھچاو¿ پر مطلوبہ کرتب دکھاتا تھا، حالانکہ یقین کرنا مشکل تھا اور مشکل ہے۔ ان کے حروں کی فوج کو سلام جو اسکی ہر چیز کو آنکھیں بند کرکے قبول اور مقبول کرتے ہیں۔ اگرچہ” سکے کا رخ بدل گیا ہے“ لیکن اب تک پالیسی ایک ہی نظر آتی ہے، عدلیہ وہی کرتی ہے جو ملٹری اسٹیبلشمنٹ 1973 کے آئین کے آغاز کے بعد سے کھلے عام نہیں کر سکتی یا (نظریہ ضرورت) کا اعتراف نہیں کر سکی۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) یا تو بلف زدہ ہے یا وہ خود کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ ان کا انتخابی ستارہ ملک سے باہر ہے اور ان کے بغیر انتخابات اپوزیشن لیڈر اور 3 سابق انٹیلی جنس چیفس کے لیے فری کا میلہ ثابت ہوں گے جو پچھلے کچھ سالوں سے بے لگام جوکر کی سرکس چلا رہے ہیں۔ چند ریٹائرڈ لاءلارڈز بھی ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ گڈ پولیس بری پولیس ایکشن میں ہے۔ قوم اور سیاسی قائدین کو طویل سفر کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
مغربی میڈیا دکھا رہا ہے کہ عمران خان مسیحا سنڈروم کے قہر میں مبتلا ہیں۔ حالانکہ وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف نعرہ چرا کر مقبولیت کے بلند گھوڑے پر سوار ہے۔انہوں نے افراتفری اور بدحالی چھوڑ دی۔اب عملیت پسندی اور حقیقت پسندی پاکستان کے لیے آخری امید ہے۔نواز شریف کا دیرینہ وژن پاکستان کو جنوب مشرقی ایشیا میں صنعت و تجارت کا مرکز بنا کر وسطی ایشیا اور عالمی معیشت سے جوڑنا ہے،یہی راستہ ہے۔آگے جنوبی ایشیا مواقع کے لیے ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے اور ذہنوں کی ایک مکمل جنگ کے لیے لکیریں کھینچی جا رہی ہیں۔ اب تمام اور متفرق افراد نقصان پر قابو پانے کی مشق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور CPEC اور TAPI پاکستان کی معیشت کو آگے بڑھانے کے راستے کے طور پر ایک بار پھر کارڈ پر ہے۔ لیکن اس موٹی بلی کو کون گھنٹی لگائے گا جو اپنی سیاہ سرمایہ کاری کو بچانے کی کوشش میں آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے ہے۔
عمران کا ملٹی ملین پاونڈ سوشل میڈیا مغربی ذہنیت،فلسفے اور تجربے سے گونج رہا ہے۔وہ گوئبلز کے وضع کردہ سنہری اصول پر عمل پیرا اتنی ثابت قدمی سے جھوٹ بولتے ہیں کہ سچ لگنے لگتا ہے۔گوئبلز کے.نظریے کی روح پاک سرزمین میں عملی طور پرنظر آ رہی ہے۔سیاسی رہنماوں کو اعلیٰ سطح کے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تین سٹیجز میں تربیت حاصل کرنی چاہیے۔آپ کم وسائل، ناکافی نمائش اور تجربے کے فقدان کے ساتھ دلدل میں جیت نہیں سکتے۔ اگر اس تجربے کی کمی ہے تو یہ کسی بھی دن،کسی بھی وقت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔بے نظیر بھٹو اور سینئر بھٹو انگلش کالم نگاروں کو بھی انفرادی طور پر وقت دینے کا شعور رکھتے تھے۔میرے نزدیک انٹرویو کرنے والے موضوعات پر سوالات کی فہرست ایک اچھا آغاز ہے اور اس پر تحقیق لازمی ہے۔میڈیا کے معاونین کو اچھی طرح سے مہارت اور کام کے لیے موزوں ہونا چاہیے۔آج کل لوگ مد مقابل کو شکست دینے کے لیے کلاس کے سب سے ٹاپر کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔
دنیا تیز رفتاری سے اپنی سمت تبدیل کر رہی ہے.پاکستان آج بھی جمود کا شکار یے.پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کسی عنقریب پھٹنے والے بم سے کم نہیں.پاکستان کی 50 فیصد سے ذیادہ آبادی جو کہ خواتین ہیں، کمزور ایجنسی کی وجہ سے اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار نہیں۔۔۔یہاں کے قانون،کلچر اور خواتین کے معاملات میں مذہب کی غلط اور من پسند تشریح کی وجہ سے فیملی پلاننگ اور فیلمی کنٹرول جیسے اہم معاملات آج تک حل طلب ہیں۔۔۔جس کا نتیجہ 1.4 ملین ناپسندیدہ پیدائشیں, 2.2 ملین ابارشن اور اس سے بھی کہیں ذیادہ تعداد میں زچگی کے دوران اموات ہیں۔۔۔۔آج بھی ہم اپنی ریاست کی معیشیت کی طرح وسائل کی کمی،پرفارمنس کی کمی اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔۔۔ہمیں اس خاموشی سے رینگتے ہوئے ٹیومر کو آپریشن کے ذریعے ختم کرنے کے لئیے خدائی مداخلت کی ضرورت ہے۔۔۔”اور اللہ انھی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں“۔
سیاست میں مذاکرات کا آپشن ہمیشہ موجود ہوتا ہے،سیاسی تصفیہ کے لیے, مذاکرات کے لیے یا الیکشن کرانے کے لیے فوجی لاٹھی یا عدالتی حکم کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔براہ راست یا بالواسطہ طور پر ریاست کی خاطر بامقصد بات چیت ہونی چاہیے۔۔۔اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ/کمیٹیاں موجود ہیں۔۔۔قومی حکمت عملی اور اپروچ کو ہموار کرنے کے لیے اپوزیشن سے رجوع کرنے کو کبھی نہ نہ کہیں۔۔یہ مجھے تجربہ کار سیاستدان مرحوم نوابزادہ نصر اللہ خان کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے کبھی بھی انا اور سیاسی انتقام کو بامعنی سیاسی مکالمے کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔۔۔۔۔
میں جنرل ضیاء کی طرز کی مداخلت کی سن گن لے رہا ہوں کیونکہ موجودہ سیاسی قیادت پرانی اور غیر موثر ہے اور ٹاپ گھوڑا ابھی غیر معلوم اور تازہ دم ہے اور پی ڈی ایم کے پاس پارلیمنٹ اور سڑکوں کے ذریعے عمران خان کی حمایت یافتہ قوتوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت، وسائل اور عزم کا فقدان ہے۔۔۔یہ صورت حال نواز شریف کے پاکستان آنے تک جوں کی توں رہتی نظر آتی ہے۔۔۔پاکستان کو شہباز شریف جیسے ذہین چیف ایگزیکٹیو کی سربراہی میں جمہوری نظام کی طویل مدت کی ضرورت ہے جہاں نوجوان لیڈرشپ کو دوران ملازمت تربیت دی جاتی ہے جیسا کہ یہ اس وقت جاری ہے۔
بھٹو کی افسوسناک رخصتی سے طویل مدتی سیاسی تقسیم اور ’چارٹر آف ڈیموکریسی، جیسے معاہدے پر کام رک گیا تھا اس میں سبق ہے۔۔۔کیا عمران خان ان لیڈران کی پیش رفت کو روک سکتے ہیں یہ سوال نہیں ہے،کیا “اصل طاقتور”سٹیک ہولڈرز”سیاست دان کو گلی دے سکتے ہیں جب کہ ڈنڈا انکے ہاتھ میں ہو؟یہ صحیح سوال ہے جو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔۔۔۔اگلے چند ہفتے اور مہینے دلچسپ ہوں گے کیونکہ ہم ہر دس سال بعد اسی پرانی کہانی کو دہراتے ہیں۔۔۔۔وہی پرانی بیان بازی،وہی پرانی قومی سلامتی کے تقاضے،خالی پیٹ اور خزانہ،جنوبی ایشیا ایک بڑی سرگرمی کے لیے تیار ہورہا ہے اور جمہوریت کی وہی پرانی خواہش۔۔۔احتیاط سے آگے بڑھیں،خریدار ہوشیار رہیں کیونکہ کھیل جاری ہے۔
امجد ملک ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائرز(برطانیہ)کے چیئرمین ہیں جو سال 2000 کے انسانی حقوق کے نوجوان وکیل ایوارڑ کے وصول کنندہ ہیں اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اعزازی رکن ہیں۔