لیبیا سے اٹلی جانے والی 2 کشتیاں ٹکرانے سے پاکستانیوں سمیت 57 افراد ہلاک

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لیبیا سے اٹلی جانے والی دو کشتیاں ٹکرا گئیں جس کے باعث پاکستانیوں سمیت 57 افراد چل بسے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کے مختلف قصبوں کے قریب بحیرہ روم میں تارکین وطن کی دو کشتیاں ٹکرانے کے باعث ڈوب گئی جس کے باعث 57 افراد لاشیں بہہ کر ساحل پر پہنچ گئیں۔ مصر سے تعلق رکھنے والے زندہ بچ جانے والے بسام محمود نے بتایا کہ یورپ کے لیے روانہ ہونے والی کشتی میں 80 کے قریب مسافر سوار تھے، کشتی ڈوبنے کی وجہ سے جھگڑا ہوا لیکن انچارج شخص نے رکنے سے انکار کر دیا، ہم اس وقت تک لڑتے رہے جب تک کہ کوئی ہمیں پکڑ نہ لے،منظر خوفناک تھا ، اسی دوران کچھ لوگ میرے سامنے (پانی میں) مر گئے۔کوسٹ گارڈ افسر فتحی الزیانی نے بتایا کہ مشرقی طرابلس کے قرابلی سے بچے سمیت گیارہ لاشیں برآمد کی گئیں۔ تارکین وطن کا تعلق پاکستان، شام، تیونس اور مصر سے تھا۔مغربی طرابلس کے صبراتہ میں ہلال احمر کے امدادی کارکن نے بتایا کہ انھوں نے چھ دنوں میں ساحل سے 46 لاشیں برآمد کی ہیں اور یہ سب ایک ہی کشتی سے غیر قانونی تارکین وطن تھے، آنے والے دنوں میں مزید لاشیں نکالے جانے کی توقع ہے۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے کہا کہ رواں ماہ 441 تارکین وطن اور پناہ گزین 2023 کے اوائل میں شمالی افریقہ سے بحیرہ روم کو عبور کرتے ہوئے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہوئے ڈوب گئے، جو کہ تین ماہ کے عرصے میں گزشتہ چھ سالوں میں سب سے زیادہ اموات ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں