اسلام آباد(وقائع نگار خصوصی)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے ہیڈ آف میڈیا افیئرز فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے 8 ججز ن لیگ کے نشانے پر ہیں،عوام سپریم کورٹ کے ججز کے ساتھ کھڑے ہیں،ججز کسی کی بلیک میلنگ میں نہ آئیں،آج مذاکرات کا آخری روز ہے،الیکشن کی تاریخ نہ دی گئی تو مارچ ہوسکتا ہے،آپ انتخابات کو 14 مئی سے آگے نہیں لے کر جا سکتے،عمران خان کی اہلیہ نے کبھی سیاست میں عمل دخل نہیں کیا،مریم نواز نے ان پر الزامات لگائے، بشریٰ بی بی پہ الزام لگانے پر مریم نواز کیخلاف فوجداری کا مقدمہ دائر کر رہے ہیں،مریم نواز کو آج نوٹس بھیجا جا رہا ہے۔
”پاکستان ٹائم“ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا ڈنڈے پر کبھی عزت نہیں کرائی جا سکتی، عزت کرانے کیلئے آپ کو اپنا کام بہتر کرنا پڑتا ہے،ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے فنڈنگ کیسز کسی کو کیوں یاد نہیں؟ تماشہ لگا ہوا ہے کہ صرف تحریک انصاف کے لوگوں پر کیسز چلانے ہیں، سندھ ہاوس میں انسانوں کی منڈی لگائی اس پر کیوں چپ ہیں؟ آرٹیکل 221 کے تحت الیکشن کمیشن میں تعیناتیوں کا کام الیکشن کمیشن کا تھا، الیکشن کمیشن کی وجہ سے اوورسیز پاکستانی ووٹ کے حق سے محروم ہیں ، شفاف الیکشن نہ کرانے میں الیکشن کمیشن کا ہاتھ ہے، 6 کروڑ سے الیکشن کمیشن نے اپنا نیا دفتر بنوایا،ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں زہر کھانے کے پیسے نہیں دوسری طرف آپ پیسے اڑا رہے ہیں،ہم نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا ہوا ہے،پاکستان میں عدالتی احکامات کی پرواہ نہیں کی جا رہی،پاکستان میں عدالتی نظام کو منظم طریقے سے ختم کیا جارہا ہے،تمام ادارے آرٹیکل 190 کے تحت سپریم کورٹ کے احکامات کے پابند ہیں،پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر یو این سرگرم ہے۔
فواد چوہدری نے کہاپرویز الٰہی کے کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے،میں لاہور ہائیکورٹ سے مطالبہ کرتا ہوں فیصلے پر عملدرآمد کرایا جائے،عدلیہ جو فیصلے کر ے اس پر عمل درآمد بھی کرائے،سپریم کورٹ کے ججز کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے،سپریم کورٹ کے 8 ججز ن لیگ کے نشانے پر ہیں،این آر او ٹو کو بچانے کیلئے سپریم کورٹ کے ججز کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے،مخصوص آڈیوز جاری کی جارہی ہیں۔فواد چوہدری نے کہا پاکستان کے عوام سپریم کورٹ کے ججز کی طرف دیکھ رہے ہیں،عوام سپریم کورٹ کے ججز کے ساتھ کھڑے ہیں،ججز کسی کی بلیک میلنگ میں نہ آئیں، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرانا پاکستان کے عوام کا کام ہے،پاکستان کے لوگ اپنے حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتے تو ہم قوم کہلانے کے لائق نہیں ہیں،اگر آئین پر عمل درآمد نہ کیا تو عوام سڑکوں پر نکلیں گے،آئین بچانا صرف سپریم کورٹ کا نہیں پاکستان کے عوام کا بھی فرض ہے،عدالتی احکا مات پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو پھر سڑکیں اور گلیاں فیصلہ کریں گی کہ ملک کا مستقبل کیا ہو گا؟سپریم کورٹ نے آج بالکل درست فیصلہ کیا ہے،بینچ بنانا چیف جسٹس کا اختیار ہے،چیف جسٹس اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے بینچ بنائیں،مرضی کا بینچ بنوانے کا شوق پرانا ہے، جوڈیشری کا مقابلہ ایک مافیا سے ہے۔
انہوں نے کہا ہم نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا ہوا ہے،کل نیا ریفرنس چیف الیکشن کمشنر کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 74 سال میں پی ٹی آئی جیسی حکومت پہلے آئی نہ آتی نظر آ رہی ہے،عمران خان نے پاکستان میں سادگی کی روایت قائم کی،تحریک انصاف کی حکومت شفاف تھی،عمران خان کیخلاف مالی بد دیانتی کا ایک بھی کیس نہیں،عمران خان کے دوروں پر 17 کروڑ روپے خرچ ہوئے،نواز شریف کے دوروں پر 4 ارب 31 کروڑ روپے خرچ ہوئے،آصف زرداری کے دوروں پر 3 ارب 16 کروڑ روپے خرچ ہوئے،شہباز شریف کے دوروں پر 8 ارب 72 کروڑ روپے خرچ ہوئے،شاہد خاقان عباسی نے 35 کروڑ اوریوسف رضا گیلانی نے 24 کروڑ روپے خرچ کیے،حکومت نے بلاول بھٹو کے دوروں پر ہونے والے خرچے کی تفصیلات دینے سے انکار کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا پنجاب میں الیکشن آگے لے جانے کیلئے آئین میں ترمیم کرنا ہو گی،چیف جسٹس نے کہا آپس میں بات کر کے حل نکالیں،اگر آئین ختم ہوتا ہے تو پاکستان کا فیصلہ عوام سڑک پر آ کر کریں گے،ن لیگ کی انٹرنل سیاست مذاکرات کو نقصان پہنچا رہی ہے،جاوید لطیف،احسن اقبال اور اسحاق ڈار وغیرہ مذاکرات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔