اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات سے متعلق سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف دائر درخواستوں پر گزشتہ سماعت کا 4 صفحات پر مبنی تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔
”پاکستان ٹائم“ کے مطابق عدالت عظمیٰ نے اپنے تحریری حکم نامے میں تمام فریقین کوآٹھ مئی تک جامع جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس اور قائمہ کمیٹیوں کا ریکارڈ فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔تحریری حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں دو مٔی کو آٹھ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی،ایکٹ بننے کے بعد داخل نئی درخواستوں پر بھی فریقین کونوٹس جاری کر دیا گیا،درخواستوں میں اہم آئینی نکات اٹھائے گئے ہیں جن پر فریقین 8 مئی تک جامع جواب جمع کروائیں۔سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو بل سے متعلق قومی اسمبلی سمیت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس اور قائمہ کمیٹیوں کا ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔حکمنامے کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ پر سپریم کورٹ کا حکم امتناع برقرار رہے گا۔عدالتی حکمنامے میں پاکستان بارکونسل کی جانب سے آٹھ رکنی بنچ پراعتراض کا کوئی تذکرہ شامل نہیں۔بار کونسل نے فل کورٹ بنچ تشکیل دینے اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی بنچ میں موجودگی پر اعتراض اٹھایا تھا۔درخواستوں پر مزید سماعت 8 مئی کو ہو گی ۔
