لاہور(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بنچ کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے بھی پنجاب کی جامعات میں وائس چانسلرزکی تقرری کا عمل روک دیا، لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے27 جون تک حکم امتناعی جاری کردیا۔درخواست گزار راجہ علی رضا نے پنجاب کی جامعات میں مستقل وائس چانسلرز کی تقرری کو چیلنج کیا تھااور آئین کے آرٹیکل 199 کے مطابق درخواست دائر کی تھی۔درخواست گزار کے وکیل کے مطابق جامعات میں مستقل وائس چانسلر ز کی تقرری کا عمل الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست ایڈووکیٹ سپریم کورٹ محمد اسد بٹر اور ایڈووکیٹ ہائی کورٹ دیبا تسنیم انور کی وساطت سے دائر کی گئی۔ پنجاب کی نگران حکومت نے 19 یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز کی تقرری کا عمل شروع کررکھا تھا۔
ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی سرچ کمیٹی نے22 مئی سے وائس چانسلرز کے انٹرویوز شروع کیے تھے۔قبل ازیں 22 مئی کولاہور ہائی کورٹ بہاولپور بنچ کے جج جسٹس عاصم حفیظ نے بھی اس کیس میں حکم امتناعی جاری کررکھا ہے۔
