اسلام آباد(ایجوکیشن رپورٹر)چیئر پرسن پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن (پی ایچ ای سی) پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے جامعات میں امن اور روداری کے فروغ کے لیے 34 نکات پر مشتمل امن فارمولہ پیش کردیا ۔
”پاکستان ٹائم“ کے مطابق اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں ملک بھر کی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کی ”قومی امن کانفرنس منعقد ہوئی ،کانفرنس کا اہتمام ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، پاکستان، نیشنل کاو¿نٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) اور شعور فاونڈیشن فار ایجوکیشن اینڈ اویئرنیس(ایس ایف ای اے) نے مشترکہ طور پر کیا۔کانفرنس کا تھیم “انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے پر اکیڈمک ڈسکورس – دی وے فارورڈ” امن،ایڈوکیسی اور کمیونٹی انگیجمنٹ تھرو ٹالرنس پروجیکٹ کے نفاذ میں ایک اہم سنگ میل ہے،جو ایچ ای سی پاکستان،نیکٹا،ایس ایف ای اے اور دیگر پالیسی سطح کے سٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔

وائس چانسلرز قومی امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئر پرسن پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن (پی ایچ ای سی)پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے جامعات میں امن اور روداری کے فروغ کے لیے 34 نکات پر مشتمل امن فارمولہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ احترام انسانیت اور رواداری تعلیم یافتہ معاشرے کی پہچان ہے،امن اوررواداری کے بغیر اعلی تعلیم کو فروغ نہیں دیا جا سکتا،قوموں کی ترقی کے لیے ہم آہنگی اور مساوات ناگزیر ہے،پی ایچ ای سی نے جامعات میں امن اور روداری کے فروغ کے لیے 34 نکات پر مشتمل امن فارمولہ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر شاہد منیر کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کے پاس تھنک ٹینک ہیں جو درپیش چیلنجز کی روشنی میں سفارشات تیار کرتے ہیں اور اپنے ممالک کو بحرانوں سے نکالتے ہیں۔ہمیں اپنے ملک میں ماہرین پر مشتمل ایک “مارل تھنک ٹینک” کی ضرورت ہے جومتوازن معاشرے کے قیام کے لیے سفارشات تیار کرے اور رول ماڈل کے طور پر کام کرے،ہمیں معاشرے سے عدم برداشت کے خاتمے کے لیےامن اور رواداری کو فروغ دینا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کا اصل مقصد ایسے پاکیزہ معاشرےکی تشکیل ہے جو ہمدردی،غمگساری اور خیر سگالی کے جذبات سے معمور ہو،ایک متوازن شخصیت کی تعمیر کے لیے جامعات میں مکالمے،افہام و تفہیم کا کلچر پیدا کرنے کی ضرورت ہے،پوری دنیا کو غربت، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلیوں اور مختلف تنازعات کا سامنا ہے،زینو فوبیا،اسلامو فوبیا،نسل پرستی اور تفرقہ بازیاں ایسے انتہا پسند رویے معاشروں کو توڑتے ہیں،ہمیں انسانوں اور معاشروں کو جوڑنا ہے،ایک دوسرے کے قریب لانا ہے،ترقی کے لیے تہذیب اور رواداری پیدا کرنی ہے،ہم نے انسانی وسائل کو بڑھانے کے مواقع پیدا کرنے ہیں،عدم برداشت کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں،ترقی خانہ جنگی کی فضا میں نہیں ہوسکتی،سیاسی،سماجی،مذہبی راہنماوں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو اچھے اخلاق سکھائیں۔
تقریب کی ایک اہم بات نیکٹا اور ایچ ای سی پاکستان کے درمیان لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط تھے جس میں یونیورسٹی کیمپس میں امن،رواداری اور شمولیت کے مقصد کے لئے شراکت داری کے عزم کی تجدید کی گئی۔یہ شراکت داری علاقائی سطح پر منعقدہ چار وی سیز کانفرنسوں کے دوران ہونے والی پیشرفت کو مزید مضبوط اور برقرار رکھے گی۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے معاشرے میں تنازعات کے اہم مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ڈائریکٹر جنرل نیکٹا دورِ مکنون نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح نیکٹا پالیسیاں،ایکشن پلان بنا کر اور مسلسل تحقیق اور موافقت پذیر اختراع میں شامل ہو کر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ردعمل کو متحد کرنے کے لئے انتھک محنت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے تعلیمی اداروں میں امن و ہم آہنگی کی حمایت کے لئے حکمت عملی کی تیاری ایک بنیادی کوشش ہوگی۔ سی ای او ایس ایف ای اے راجہ شعیب اکبر نے حاضرین کو شعور فاو¿نڈیشن کی تاریخ اور مقاصد سے آگاہ کیا۔کانفرنس کےنتیجہ میں 30 یونیورسٹیوں میں وسیع تحقیق پر مبنی سفارشات تیار کی گئیں۔