اسلام آباد(کامرس رپورٹر) وفاقی حکومت نے اپنے آخری بجٹ 2023-24 میں تعلیم کے فروغ اقدامات اور مستحق طلبہ کو ایک لاکھ لیپ ٹاپ دینے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ تعلیم کی اہمیت پر کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے Current Expenditure میں 65 ارب اور Development Expenditure کی مد میں 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ گو کہ یہ Subject صوبائی ذمہ داری ہے لیکن وفاق اس کی ترویج میں اپنا بھر پور حصہ ڈالتا ہے۔
سب سے معتبر اور سب سے مستند خبروں، ویڈیوز اور تجزیوں کے لیے ”پاکستان ٹائم‘ کے فیس بک اور ٹوئٹر پیج کا وزٹ کریں
اس سلسلے میں مندرجہ ذیل اقدامات کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں مالی معاونت کے لیے پاکستان انڈومنٹ فنڈ کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس کے لیے بجٹ میں 5 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ یہ فنڈ میرٹ کی بنیاد پر ہائی سکول اور کالج کے طلبہ و طالبات کو وظائف فراہم کرے گا۔ ہمارا ہدف ہے کہ کسی ہونہار طالبعلم کو وسائل میں کمی کی وجہ سے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم نہ ہونا پڑے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ لیپ ٹاپ سکیم جس کو پنجاب میں 18-2013 کے دوران بڑی کامیابی سے چلایا گیا تھا۔ رواں مالی سال میں وفاقی حکومت نے 1 لاکھ لیپ ٹاپ مستحق طلبہ میں تقسیم کا اجراءکیا۔