education health

سندھ حکومت نے شعبہ تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں کے لئے خزانے کا منہ کھول دیا ،اتنی خطیر رقم مختص کہ پنجاب بھی دنگ رہ جائے

کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے 2247 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں شعبہ تعلیم اور صحت کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے خطیر رقوم مختص کی گئیں ہیں جبکہ ساتھ ہی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی بڑا اضافہ کردیا ہے۔
”پاکستان ٹائم “ کے مطابق سندھ کے پیش کردہ بجٹ میں شعبہ تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 34.69ارب مختص کئے گئے،شعبہ صحت کی ترقیاتی سکیموں کیلئے 19.739ارب روپے مختص کئے گئے۔وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کیلئے صوبائی ترقیاتی اخراجات 5 ہزار 248 منصوبوں پر مشتمل ہے،تین ہزار 311 جاری منصوبوں کی مد میں 291.727 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ 1937 نئے منصوبوں کیلئے بھی 88.273 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،ہماری توجہ جاری سکیموں کی تکمیل پر ہے جس کیلئے بجٹ کا 80 فیصد مختص کیا گیا ہے، صوبائی ٹیکس وصولی وفاقی منتقلی اور صوبائی محصولات کا مجموعہ ہیں،ہمارے وسائل کا بڑا حصہ سندھ وفاقی منتقلی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے،این ایف سی کی مد میں براہ راست منتقلی صوبوں سے شیئرنگ فارمولے کے تحت تقسیم کی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں:کوئی انقلابی فیصلہ نہیں کیا ،بدترین بجٹ پیش کرکے قوم کو “ماموں”بنایا


وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال تعلیم کے شعبے میں 312.245 ارب روپے مختص کئے ہیں،جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد زائد ہے،رواں سال محکمہ تعلیم ایک بھرتیوں کا سال رہا ہے،آئی بی اے کے تحت 58 ہزار پرائمری و مڈل سکول ٹیچرز بھرتی کئے گئے،تمام اساتذہ کو تعیناتی سے قبل تربیت،شرح کی پالیسی کے تحت سکولوں میں مقرر کیا گیا،شعبہ تعلیم کو مزید مضبوط بنانے کیلئے 2 ہزار 582 اساتذہ کی آسامیاں پیدا کی گئیں،نئے بھرتی کئے گئے اساتذہ کو گریڈ 9 سے 14 میں اپ گریڈ کیا جائے گا، 27 پرائمری سکولوں کو مڈل سکول اور مڈل سکولوں کو سیکنڈری سکول کا درجہ دیا گیا، 150 سکولوں کو ہائر سیکنڈری سکولوں میں اپ گریڈ کیا جائے گا، 846 ملین روپے کی لاگت سے 892 نئی ملازمتوں کی منظوری دی جائے گی،سندھ بھر کے کالجز کیلئے 26.78 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، 400 ملین روپے فرنیچر اینڈ فکسچر، 425 ملین روپے کالجز عمارات کی مرمت کیلئے رکھے گئے ہیں،سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے 1500 لیکچرارز بھی بھرتی کئے جائیں گے،آئندہ مالی سال کیلئے 23 نئے کالجز قائم کئے جائیں گے،جس سے 445 نئی اسامیاں پیدا ہوں گی، 403 ملین روپے کی لاگت سے سامان خریدا جائے گا۔

مزید پڑھیں:سندھ وفاق سے بازی لے گیا،بنیادی تنخواہ میں بڑا اضافہ کر دیا


وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو مزید مستحکم بنانے کیلئے 987.8 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں،یونیورسٹیز کی گرانٹ 569 ملین روپے سے بڑھا کر 987.8 ملین روپے کی گئی ہے،سرکاری جامعات کی گرانٹ 17.4 ارب روپے سے 25.2 ارب روپے بڑھائی گئی ہے،سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن کے بجٹ کو 15.60 ارب روپے کر دیا گیا ہے،سندھ حکومت نے ایس ای ایف کے تحت ایکسیلریٹڈ ڈیجیٹل لرننگ پروگرام متعارف کرایا ہے،مذکورہ پروگرام سے سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں کمی آئے گی،صوبہ بھر میں 125 مائیکرو سکولز قائم کئے جائیں گے،ان سکولز میں 12 ہزار 500 طلبہ کو تربیت فراہم کی جائے گی،صوبہ بھر میں مفت کتب کی تقسیم کیلئے 2.53 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کیلئے وظیفے دیئے جائیں گے،اس کی مد میں 800 ملین، خصوصی بچوں کیلئے 140 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں،تبادہ شدہ سکولوں کی بحالی کیلئے 30 کروڑ روپے،یورپی یونین کے منصوبے (ASPIRE( کے سالانہ 2.161 ارب روپے بجٹ کو 4.114 ارب روپے کر دیا گیا ہے،وفاقی حکومت کے 5125 اساتذہ کو سالانہ 1.537 ارب روپے تنخواہوں کیلئے مختص کئے ہیں،تجویز شدہ اداروں سے موصول تعلیمی اثاثوں کیلئے 1.605 ارب روپے رکھے ہیں،پبلک سکول گرانٹ کو 140 ملین روپے سے بڑھاکر 400 ملین روپے کر دیا گیا ہے،پبلک اسکولز کی مرمت کیلئے 5 ارب روپے اور پبلک کالجز کی مرمت کیلئے 425 ملین روپے رکھے گئے ہیں،سٹیوٹا کیلئے سالانہ گرانٹ 2 ارب روپے اور بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسورسز اینڈ ریسرچ ڈیولپمنٹ بورڈ کیلئے 1.250 ارب روپے گرانٹ رکھی گئی ہے۔

سب سے معتبر اور سب سے مستند خبروں، ویڈیوز اور تجزیوں کے لیے ”پاکستان ٹائم‘ کے فیس بک اور ٹوئٹر پیج کا وزٹ کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں