سانحہ بہاولپور یونیورسٹی ،وائس چانسلر کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا

بہاولپور(وقائع نگار)اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورمیں پیش آنے والے”سکینڈل“ کی بازگشت ابھی تھمی نہیں اور ملک بھر سے شرمناک واقعہ کے ذمہ داران کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے،ایسے میں وائس چانسلر (وی سی)ڈاکٹر اطہر محبوب کے خلاف بھی گھیرا تنگ کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کا چیف سیکیورٹی آفیسر ریٹائرڈ میجر شرمناک الزام میں گرفتار،قوت بخش جنسی ادویات اور طالبات کی فحش ویڈیو برآمد
”پاکستان ٹائم“کے مطابق منشیات اور نازیبا ویڈیو سکینڈل کے معاملے پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کیخلاف مقدمے کی درخواست دائر کردی گئی۔ وائس چانسلر کے خلاف تھانہ سٹی میں شہری کی جانب سے مقدمہ کے اندراج کیلئے درخواست دی گئی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی وائس چانسلر کی بطور سربراہ ذمہ داری تھی کہ وہ سامنے آنے والے واقعات کو روکتے،اسلامیہ یونیورسٹی ایک مقدس ادارہ میں اس طرح کی حرکات سے بدنامی ہوئی،وی سی ڈاکٹر اطہر محبوب کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔یاد رہے کہ 25 جولائی کو وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ڈاکٹر اطہر محبوب نے اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے جامعہ سے متعلق ویڈیوز کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملازمین کو ہنی ٹریپ کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ احتساب کیلئے خود کو ہر فورم پر پیش کرتا ہوں،اگر ایسی کوئی شکایت تھی بھی تو ہمیں بھی اعتماد میں لیا جاتا،جامعہ کسی بھی ملوث کردار کو کیفر کردار پر پہنچائے گی،جامعہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا معاملہ مفروضے پر مبنی ہے،اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں،پولیس کی جانب سے کچھ طالبات اور سٹاف سے پیسے لینے کی کوشش کی جارہی ہے،شفاف ٹرائل کا حق سب کو ہے،جامعہ کے خلاف دو ٹرائلز شروع کیے گئے،ہم ثبوت اعلیٰ حکام کو پیش کرینگے،جامعہ کے 2 ملازمین کو ہنی ٹریپ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب کی 19یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کے انٹرویوز روکنے سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری

یاد رہے کہ بہاولپور پولیس نے اسلامیہ یونیورسٹی کے 3 افسران کو منشیات کیس میں گرفتار کیا تھا، ان افسران سے کرسٹل آئس، موبائل فونز سے یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی نازیبا ویڈیوز، تصاویر اور جنسی ادویات برآمد ہوئی تھیں۔پولیس تھانہ بغداد الجدید نے جامعہ کے ڈائریکٹر فنانس ابوبکر، چیف سیکیورٹی افسراعجاز شاہ اور ٹرانسپورٹ انچارج محمد الطاف سے منشیات (کرسٹل آئس) برآمد کرکے ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔دوسری طرف ہائر ایجوکیشن کمیشن جنوبی پنجاب نے سابق وائس چانسلر کے خلاف تحقیقات کیلئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کے خلاف الزامات کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی ملتان کی بہاو الدین زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی کو دے دی گئی۔کمیٹی ڈاکٹر اطہر محبوب کے خلاف مالی بدعنوانیوں اور انتظامیہ بے قاعدگیوں کی تفتیش کرے گی۔واضح رہے کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کے خلاف تحقیقات کا حکم طالبات کی مخربِ اخلاق تصاویر اور منشیات کا سکینڈل منظرِ عام پر آنے کے بعد دیا گیا۔تحقیقاتی کمیٹی یونیورسٹی اسکینڈلز سے متعلق تمام افراد کی ہر پہلو سے تفتیش کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں