غزہ(مانیٹرنگ ڈیسک)فلسطینی تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے غزہ کی پٹی سے برآمدات معطل کرنے کے فیصلے سے محصور فلسطینی علاقے میں انسانی المیہ رونما ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روس کے ہوائی اڈے پر ڈرون حملہ، 4 طیاروں میں آگ بھڑک اٹھی
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کے سربراہ نے دھماکا خیز مواد اسمگل کرنے کی مبینہ کوشش کے بعد حکومت کی منظوری سے غزہ سے اسرائیل کو تجارتی سامان کی ترسیل روکنے کا حکم دیا ہے،غزہ چیمبر آف کامرس کے صدر عاید ابو رمضان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ ساحلی علاقے میں اقتصادی ناکا بندی کی پالیسی میں ایک نیا اضافہ ہے،غزہ کی پٹی 2007میں حماس کے برسراقتدارآنے کے بعد سے اسرائیل کی سخت ناکا بندی کا شکار ہے۔یہاں قریبا 23لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کھلی جیل میں قید ہیں۔ ان میں کی اکثریت غربت اور بے روزگاری کا شکار ہے۔عاید ابو رمضان نے خبردار کیا کہ غیر منصفانہ اقدام سے حالات مزید خراب ہوں گے،غزہ کی وزارت برائے اقتصادی امور کے ترجمان اسامہ نوفل کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے کو غزہ کی برآمدات کی مالیت قریبا 13کروڑ 40لاکھ ڈالر سالانہ ہے۔ان برآمدات میں زیادہ تر پھل اور سبزیاں، مچھلی، کپڑے اور فرنیچر شامل ہیں،فلسطینی فیڈریشن آف انڈسٹریز کے ترجمان وعددہ بسیسو نے کہا کہ اسرائیلی فیصلے سے سیکڑوں فیکٹریاں بند ہو سکتی ہیں اور ہزاروں افراد کو نوکریوں سے فارغ خطی مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فرانس نے سکولوں میں مسلمان لڑکیوں کے عبایہ پہننے پر پابندی عائد کر دی