لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)نگران وزیر اعلی سید محسن نقوی کی طرف سے پنجاب کی جامعات میں ایک مخصوص مسلک سے تعلق رکھنے والے پروفیسرز کو وائس چانسلر مقرر کیے جانے کے خدشات درست ثابت ہونے لگے،ہوم اکنامکس یونیورسٹی لاہور میں 6 ما ہ کے لیے عارضی طور پر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ فلیحہ زہرا کاظمی کو وائس چانسلر مقرر کر دیا گیا جبکہ ڈیپارٹمنٹ آف الیکٹریکل انجینئرنگ فاسٹ یو نیورسٹی لاہور کے پروفیسر ڈاکٹر سید عون عباس کو یونیورسٹی آف انجیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی( یوای ٹی)لاہور کا مستقل وائس چانسلر لگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی متحرک،پنجاب کی 19سرکاری جامعات میں مخصوص مسلک کے وائس چانسلرز لگانے کے خوفناک منصوبے کا انکشاف
”پکستان ٹائم“ کے مطابق الیکشن کمیشن کی مخالفت کے باوجود سید محسن نقوی نے جون کے مہینے میں پنجاب کی 20 کے قریب یونیورسٹیز میں مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی کے انٹرویوز شروع کروائے،انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق تعلیمی اور مذہبی حلقوں کی طرف سے اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ محسن نقوی اپنے ہم مسلک پروفیسرز کو وائس چانسلرز لگوانے کے لیے اپنا اثر روسوخ استعمال کر رہے ہیں،اس مقصد کے لیے پہلے انہوں نے اپنے ماموں زاد بھائی ڈاکٹر سہیل نقوی کو وائس چانسلرز کے انتخاب کے لیے بنائی گئی سرچ کمیٹی کا کنوینئر لگایا اور اس میں اپنے ہی ہم مسلک بندے سیکرٹری ہائیرایجوکیشن کو تعینات کر کے سرچ کمیٹی کا ممبر بنوایا۔ذرائع کے مطابق سپیشلائزڈ یونیورسٹیز کے لیے بنائی گئی کمیٹی سے عمر سیف کا نام نکال دیا ہے۔اس ضمن میں جن خدشات کا مختلف حلقوں کی طرف سے اظہار کیا جارہا تھا اب و ہ آہستہ آہستہ درست ثابت ہو رہے ہیں۔محسن نقوی نے مجوزہ منصوبے کا آغاز ہوم اکنامکس یونیورسٹی میں پروفیسر ڈاکٹر سیدہ فلیحہ زہرا کاظمی کو 6 ماہ کے لیے وائس چانسلر تعینات مقرر کر کے کیا۔اب باوثوق ذرائع کے مطابق سرچ کمیٹی کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ پروفیسر ڈاکٹر سید عون عباس کو یو ای ٹی لاہور کا وائس چانسلر مقرر کرے چنانچہ کمیٹی نے اسے پہلے نمبر پر رکھا ہے۔یاد ر ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کا عمل روک رکھا ہے اور اس پر حکم امتناعی بھی جاری کر رکھا ہے اور چار مختلف درخواستیں اس پر اسس کے خلاف کورٹ میں دی جا چکی ہیں۔حکومت پنجاب کی پوری کوشش ہے کہ وہ حکم امتناعی کو جلد ختم کروا کر منصوبے کے مطابق مخصوص مسلک کے پروفیسرز وائس چانسلرز تعینات کروائے۔واضح رہے کہ مخصوص مسلک اور ایک ہمسایہ ملک کے لاہور میں تعینات اہم سفارت کا ر بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں،پاکستان ٹائم پر اس منصوبے کے منکشف ہونے کے بعد سنی العقیدہ مکاتب فکر میں شدید تشویش پائی جارہی ہے اور سوشل میڈیا پر اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

”پاکستان ٹائم “اس حوالے سے چار ماہ قبل 23 اپریل کو تفصیلی خبر پبلش کر چکا ہے۔دوسری طرف لاہور میں اہم انتظامی پوسٹ پر تعینات سرکاری افسر نے نام نہ ظہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ صرف تعلیمی اداروں میں ہی نہیں بلکہ دیگر سرکاری اداروں میں بھی محسن نقوی اپنے ہم مسلک افسران تیزی کے ساتھ تعینات کرتے جا رہے ہیں ،اس افسر کا کہنا تھا کہ نگران وزیر اعلیٰ کا طریقہ کار ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری ادارے پر اچانک چھاپہ مارتے ہیں اور ناقص کارکردگی کو جواز بناتے ہوئے اس ادارے کے سربراہ کو فوری تبدیل کرتے ہوئے اپنے کسی ہم مسلک کو اس کی جگہ تعینات کر دیتے ہیں ،ایسی کئی مثالیں آپ کو سرکاری ہسپتالوں کے ایم ایس حضرات کی شکل میں دکھائی دیں گی۔