پاکستان ایک دفعہ پھر منجدھار میں۔۔۔

تحریر:بیرسٹر امجد ملک

نواز شریف کی آمد آمد ہے اور ملک میں افراتفری شروع ہو چکی ہے۔صرف لوگ بدلے ہیں سوچ قائم ہے۔مٹی ڈالی گئی لیکن مٹی ڈالنے سے بنگلہ دیش بننے والے اسباب اب تک ختم نہیں ہوئے۔بنگلہ دیش سے اقتصادی مقابلہ کرنے کیلئے مٹی کھودنا پڑے گی۔۔۔۔ 9 مئی 2023 کو ریڈ لائن ہی کراس نہیں ہوئی بلکہ معاشرے میں پائے جانے والے اضطراب اور عدم مساوات کو ہوا ملی ہے۔۔۔۔اسکے لئے ادارہ جاتی کورس کوریکشن کرنا ہو گا۔فوج میں تقسیم اور نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو جان لیوا ہے۔۔۔ہم احتساب سے بچ نکلے تو اضطراب آپ کا پیچھا کرتا رہے گا۔۔۔۔اگر حمود الرحمان کمیشن رپورٹ سے کچھ سبق سیکھا ہوتا تو ملٹری حکمران اپنے حلف سے روگردانی اور پلاٹو کریسی کے الزامات سے بچ سکتے تھے۔۔۔۔ہم اربوں کا چیف بنا کر ملک میں رہنے جوگا نہیں چھوڑتے اور جو بات کرے اسے ملک میں رہنے نہیں دیتے یہی آج تک کی تلخ حقیقت ہے۔۔۔۔تمام چیفس اور وزیر اعظموں کا ملک میں رہنا اشد ضروری ہے اور ایسا ممکن ہو اسکے لئے برداشت،تحمل،ایک دوسرے کے آئینی دائرہ کار کی عزت اور تکریم اور مکالمہ سازی کی ضرورت ہے۔۔۔۔موجودہ چیف تھوڑے گہرے اور چھپے رستم ہیں،دیکھتے ہیں کہ وہ ادارہ جاتی اصلاحات کی عوامی ڈیمانڈ کو اپنے محکمے میں کس طرح اپلائی کرتے ہیں؟؟؟راقم نے 10 ستمبر 2007 نواز شریف کی جلاوطنی سے واپسی پر انکے ساتھ سفر کیا تھا، 21 اکتوبر 2023 کو بھی قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف کے ساتھ سفر کرنے کا قصد کیا ہے اور ارادہ ہے کہ لاہوریوں کا استقبال دیکھیں گے۔۔۔۔کئی اور لوگ بھی تماشہ کرنا چاہیں گے،دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے لیکن ان سولہ سالوں میں کیا بدلا ہے وہ دیکھنا لازم ہے۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:کیا ن لیگ اور پی پی عوام کو پاگل بنا لیں گے؟

نواز شریف پرانے دور کے آخری متعلق سیاستدان ہیں جو موجودہ نظام حاکمیت سے پچھلے پانچ سالوں سے غیر حاضر ہیں اور انہیں جبری چھٹی دی گئی ہے۔۔۔۔انکے پاس صلاحیت ٹیم اور تجربہ ہے لیکن کمپنی والوں کے پاس بھی ایک مائنڈ سیٹ اور نفری موجود ہے۔۔۔۔ایک سوچ جمہوری حکمرانوں کیخلاف عرصہ سے برسر پیکار ہے۔۔۔۔نواز شریف کی جان کو بے نظیر بھٹو کی طرح خطرات لاحق ہوں گے لیکن دوسری طرف ملک کو اپنی سالمیت اور بقاء کی ساتھ ساتھ معاشی ابتری اور دیوالیہ ہونے سے بچنے سے نپٹنے کے چیلینجز کاسامنا بھی ہے اور انکے پاس چلے ہوئے کارتوس ہیں،کوئی میڈ ان پاکستان ارسطو نہیں۔۔۔۔قانونی طور پر نواز شریف صاحب کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی اپیل جوائن کرنے کے لئے لاہور ہائی کورٹ سے راہداری ضمانت لینی پڑے گی،پھر اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپیل کے فیصلے تک ضمانت مل جائے گی لیکن انکو اپیل ہی جیتنے چاہیے۔۔۔۔اصل مسلہ انکے ساتھ مکمل انصاف کا ہے۔۔۔۔وہ کون کرے گا؟؟۔تبدیلی کے نام پر ملک کی واٹ لگا دی گئی اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔۔۔کوئی پوچھنا چاہتا ہے نہیں بلکہ کوئی پوچھنے دینے ہی نہیں دے رہا۔۔۔۔ایک جسٹس قاضی فائز عیسی نہیں یہاں ایک سو قاضی عیسی چاہیے کیونکہ لاقانونیت بچے جن رہی ہے اور سوچ کی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔۔۔فیض آباد دھرنا کیس اصل مسلہ نہیں ہے،اصل مسئلہ قانون اور آئین کی حکمرانی پر غیر متزلزل یقین اور اعتماد اور اسکی عملداری ہے۔۔۔۔کبوتر کے آنکھیں موند لینے سے بلی چلے نہیں جائیگی۔۔۔۔پاکستان میں قانونی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:اعتزاز احسن کی پیپلز پارٹی میں دوبارہ پذیرائی کیوں؟

پاکستان میں اس وقت نچلی سطح پر انصاف کی فراہمی کا نظام بے حد تضادات کا شکار ہے۔۔۔موجودہ صورتحال انصاف میں تاخیر،کرپشن، جانبداری،غیر پیشہ روانہ رویوں اور انصاف کی راہ میں رکاوٹوں کی وجہ سے سول اور کرمنل دونوں شعبوں میں اصلاحات کی متقاضی ہے۔۔۔۔تفتیش اور استغاثہ میں سیاسی مداخلت کے تاثر پر ازخود نوٹس لینا درحقیقت ہر حکومت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔۔۔۔مغرب از خود نوٹسز سے کب کا جان چھڑوا چکا ہے۔۔۔۔تاثر یہ بھی ہے کہ گذشتہ سالوں میں بین الاقومی رینکنگ میں عدلیہ کی کارکردگی اور ساکھ انڈیکس میں نیچے آئی ہے ۔۔۔۔اس پر فل کورٹ کا ریفرنس بنتا ہے تاکہ عام سائل کیلئے اصلاحات ہوں۔۔۔عدالتوں کے پاس بھی وقت ضائع کرنے کے مواقع کم ہیں۔۔۔عام آدمی کا اشرافیہ کے رہن سہن سے اب کوئی مطابقت نہیں ہے۔۔۔ایک عوامی نمائندہ،ریٹائرڈ جج سول سرونٹ اور جنرل کیسے زندگی گزارتا ہے؟اسکا ایک ریٹائر سکول ٹیچر سے موازنہ ممکن ہی نہیں رہا ہے۔۔۔لوگ کسم پرسی،غربت اور مہنگائی سے پس کر رہ گئے ہیں۔۔۔عوام فری فیئر اور منصفانہ الیکشن کے متمنی ہیں لیکن سمت کی درستگی بھی چاہتے ہیں۔۔۔۔ججز سیاست سے دور رہیں اور جرنیلوں کو دور رکھیں تو ہی بات بنتی ہے لیکن اسکے لئے بہت ساری آوازوں کی ضرورت ہے۔۔۔۔ہمارے ہاں آوازوں کے دبانے کا رواج ہے،آوازیں سننے کا نہیں۔۔۔عدالتوں سے فوری انصاف کی توقع ہے۔۔۔ملک غیر ضروری مراعات اور پروٹوکول اور پلاٹ بزنس سے باہر نکلے۔۔۔جب ایک الیکشن لڑنے والا بیس کروڑ لگا کر میدان میں آئے گا تو عوامی عہدے پر براجمان ہو کر قائد اعظم کی طرح چائے کی پیالی پر سیاست کیسے کرے گا؟؟؟

یہ بھی پڑھیں:ظالمو قاضی آ رہا ہے؟

سیاست مڈل کلاس کی پہنچ سے ایسے ہی باہر ہے جیسے بچے کی پہنچ سے ادویات۔۔۔۔سرکاری ملازمین کی ازسر نو کردار سازی کی ضرورت ہے۔۔۔ادارے اپنا کام شروع کر دیں تو کوئی غنڈہ پارلیمان کا حصہ بننا تو دور اسکا سوچ بھی نہیں سکے گا اور یہ بھولا حلف نہیں اٹھائے گا کہ اسنے اپنے الیکشن پر اخراجات آئینی حدود میں ہی خرچ کئے ہیں۔۔۔پاکستان کو من حیث القوم اپنی منجی ہیٹھ ڈانگ پھیرنے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔یہ ایک سمت انگلی اٹھانے سے حل ہونے والا مسلہ نہیں ہے۔۔۔شاہد خاقان اور کچھ سیاسی نادان دوست اپنی ہی پارٹیوں سے نالاں ہیں۔۔۔ان جفادریوں سے اتنا ہی کہ یا تو لیڈرشپ جتنی قربانیاں دینے کے لئے تیار رہیں یا سسٹم میں اپنی آواز موثر بنائیں۔۔۔بڑے بڑے آئے تبدیلی لانے والے آخرکار سیٹیں گنوا کر ضمنی انتخاب میں اپنا حلقہ چھوڑ کر نواز شریف کی مرہون منت پنجاب کی کسی سیٹ سے الیکشن لڑے،غلام مصطفی جتوئی مرحوم اور شاہ صاحب بھی ان میں شامل ہیں۔۔۔موقع ملا تو الیکٹوریٹ کی بجائے ماسٹرز کی سنی تب ہی تو ملک اس حال میں ہے۔۔۔۔انکو اپنے نکات اپنے لیڈر/اپنی پارٹی کی مجلس مشاورت کے سامنے رکھیں ۔۔۔۔اجتماعی دانش سے منظور شدہ نکات اصلاحات کیلئے منشور میں لیکر جائیں اور مینڈیٹ لینے کیلئے اس منشور کو الیکٹوریٹ یعنی عوام کے پاس لیکر جائیں ناکہ افسران۔۔۔۔اگر صرف دل پشوری کرنی ہے تو دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔۔۔۔وار آف تبدیلی میں بیرون ملک پاکستان کا امیج بہت متاثر ہوا ہے۔۔۔۔ہمیں اپنی نوجوان نسل کے اخلاق پر بھرپور توجہ دینا چاہیے۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی گرفتاری مکافات عمل ہے۔سیاستدان بحیثیت ادارہ جمہوریت کو مضبوط کریں اور اصلاحات کی راہ اختیار کریں

ہم نے خلفائے راشدینؓ کے دور کو یاد دلاکر ووٹ اکٹھے کرنے کی سعی اور دعوی ضرور کئے ہیں لیکن ہم ایک اسلامی معاشرے کی اساس اور مندرجات سے کوسوں دور ہیں۔قاعدے اور رواداری سے ماوراء دنیاوی اور مذہبی تعلیم سے مبرا مادر پدر نوجوان ایسے ہی ہے جیسے دو دھاری تلوار۔۔۔۔ایسے نوجوان کو قومی دھارے میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار کرتے رہنا ہوگا۔۔۔۔ہمیں اپنے اندر اور باہر کے دشمن سے ہوشیار رہ کر اس کا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہو گا۔۔۔۔اب یا تو سوشل میڈیا فوج اپنا راستہ درست کر لے گی یا اسی طرح پرانی تنخواہ پر لگے رہی گی۔۔۔۔۔حاجی عمران ریاض کو دیکھ کر لگتا نہیں ہے کہ موصوف کے منہ سے کبھی زہر اگلتا ہو گا۔۔۔۔انکی نا پسند کے لیڈران کی بیماری،جیل یاترا،پیشیوں بارےانکی رائے کتنی غیر متوازن ہوگی۔۔۔۔بطور صحافی کیسی غیر صحافیانہ حرکتیں کی ہوں گی۔۔۔۔اب جبکہ انکو سوچنے کا موقع مل گیا ہے تو امید ہے وہ توازن برقرار رکھیں گے اور وہ سب بھی جو آزاد صحافت کے علمبردار ہیں۔۔۔۔مسلم لیگ ن کی قیادت کوان کارکنوں کو آگے لانا چاہیے جومشکل وقت میں لیڈرشپ کیساتھ شانہ بشانہ غیر متزلزل انداز میں کھڑے رہے،جھکے نہیں،بکے نہیں،ٹوٹے نہیں،کسی ادھارے بیانئے اور جہاز کی پرواز کے مسافر نہیں بنے۔۔۔۔سینئرز کو ان ہیروں کی نشاندہی میں قیادت کی معاونت کرنا چاہیے۔۔۔۔یہی لوگ پارٹی کا اصل سرمایہ اور اثاثہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:معاشی تباہی کے اصل ذمہ دارعمران خان

پاکستان کے مقتدر حلقے برطانیہ جیسے معاشرے سے سبق حاصل کریں۔۔۔۔انہوں نے اپنے ریٹائرڈ لوگوں کو ہاوس آف لارڈز میں جگہ دی تاکہ انکی آواز ایوان نمائندگان تک پہنچے لیکن ماورائے آئین اور قانون معاملات سے دور ہٹ گئے۔۔۔بنگلہ دیش اور بھارت نے بھی اس مائنڈسیٹ سے جان چھڑائی کہ بندوق سے سیاسی مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔۔ہمیں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سمت درست کریں،کورس کوریکشن کریں اور ملک کو ترقی کی راہ پر چلائیں اور پھر چلنے بھی دیں۔۔محکمہ زراعت کی طرف سے بار بار کی تجربہ کاری اور پیوند کاری ملک کے ساتھ ادارے کیلئے بھی ہانی کارن ہے۔۔اپنے ہی وزیر اعظموں پر اسطرح کیس بازی،جلا وطنی اور تختہ دار پر لٹکانا ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکا ہے۔۔۔۔ملٹری حکومتیں اچھی حکمرانی نہ دے سکیں بلکہ جاتے جاتے انہیں مسترد لوگوں کو این آر او دیتی پائیں گئی جنکو سات نکاتی ایجنڈے کے ذریعے نکالنے آئیں تھیں۔۔۔سبق یہی ہے کہ جسکا کام اسی کو ساجھے۔۔۔ملٹری ٹرائل دہشت گردی نہ روک سکے بلکہ ہم نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تو دور دہشت گردی کے خلاف موثر عدالتیں ہی نہیں بنا سکے۔۔۔ہمیں ٹروتھ کمیشن کے زریعے مصالحت کیساتھ کورس کوریکشن کرنے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔پارلیمان،صدر آفس یا سینٹ سے اسکا آغاز ممکن ہے۔۔۔ڈائیلاگ کریں تاکہ ملک اس منجھدھار سے باہر نکلے۔۔۔ناہموار حالات عظیم فیصلوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔۔۔پاکستان کو ان ناہموار حالات میں غیر معمولی فیصلوں کیلئے تیار رہنا چاہیے اس سے پہلے کہ پچھتاوہ ہمارا سرمایہ ہو اور تاریخ ہمیں کوستی ہوئی گزر جائے۔۔۔ٹرکوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے راستہ دو اور راستہ لو،عزت بابت بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔
(بیرسٹر امجد ملک برطانوی وکلاءکی تنظیم ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائرز کے چیئرمین ہیں اور برطانیہ میں انسانی حقوق کا سن2000 کا بہترین وکیل کا ایوارڈ رکھتے ہیں ، وہ ہیومن رائٹس کمیشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان کے تا حیات اعزازی ممبر ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں