لاہور(وقائع نگار)پنجاب کی 30 سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز لگانے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب نے سرچ کمیٹیوں کی تشکیل کی منظوری دے دی ہے، کیٹیگری ون میں 12 یونیورسٹیوں کو شامل کیا گیا ہے جس کے لیے ایک سرچ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ڈاکٹر فرخ نوید نے اپنے انتہائی قریبی دوست ریٹائرڈ بیوروکریٹ اسماعیل قریشی کو اس سرچ کمیٹی کا کنونئیر تعینات کرایا ہے جبکہ کمیٹی میں ریٹائرڈ فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد اصغر اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ فرخندہ وسیم کو بھی بہ طور ممبر شامل کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں چیئرمین اخوت فاؤنڈیشن ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹر فرخ نوید اس کمیٹی کے سیکرٹری تعینات کیے گئے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی بھی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے حقائق کو چھپایا گیا ہے۔2016ء کے لاہور ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیکرٹری ڈاکٹر فرخ نوید نے وائس چانسلرز سکروٹنی کے عمل کے لیے خود کو نگران مقرر کر لیا ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق چیئرپرسن پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن ہر سرچ کمیٹی میں بہ طور ممبر تعینات ہوں گے جبکہ فرخ نوید نے نئی سرچ کمیٹیوں سے چیئرپرسن پی ایچ ای سی کو نکال باہر کیا ہے۔ عدالتی فیصلے کی مستند دستاویز کے صفحہ نمبر 48 پر واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ سرچ کمیٹی کی تشکیل کے لیے محکمہ ہائیر ایجوکیشن 8 افراد پر مشتمل پینل حکومت پنجاب کو ارسال کیا جائے گا جبکہ سیکرٹری ایچ ای ڈی فرخ نوید نے خلاف قانون صرف پانچ نام ہی وزیر اعلیٰ پنجاب کو بذریعہ سمری منظوری کے لیے پیش کیے اور سمری میں صرف بیوروکریٹس کے نام شامل کر کے وائس چانسلرز تقرری کے پراسیس کو متنازعہ کر دیا گیا ہے جس پر یونیورسٹیوں کے پروفیسرز میں تشویش پائی جارہی ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے 2016ء کے فیصلے کے مطابق نان آفیشل ممبر سرچ کمیٹی میں شامل نہیں کیا جاسکتا جبکہ سرچ کمیٹی کے کنونیئر اسماعیل قریشی ایس این جی پی ایل کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کے عہدے پر تعینات ہیں اور ان کی سرکاری عہدے پر تقرری وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے 12اکتوبر 2023ء میں کی گئی تھی۔ عدالتی حکم کے مطابق، صرف وہی فرد سرچ کمیٹی کا ممبر تعینات کیا جاسکتا ہے جس نے کم از کم ایک سال پہلے سرکاری عہدہ چھوڑا ہو۔یاد رہے، اسماعیل قریشی سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے ہم زلف بھی ہیں اور اسماعیل قریشی کے بھائی ممبر پارلیمان بھی رہ چکے ہیں۔ عدالتی حکم کے مطابق سیاسی وابستگی رکھنے والے کسی بھی فرد کو سرچ کمیٹی میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ ہر یونیورسٹی کے لیے الگ الگ سرچ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جبکہ فرخ نوید نے 12 سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر ز تقرری کے لیے ایک ہی سرچ کمیٹی کی سمری وزیر اعلیٰ پنجاب سے منظور کرا لی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سرچ کمیٹی میں شامل ایک انتہائی اہم ترین ممبر کی بیٹی کو ڈاکٹر ضیا ء القیوم نے بہ طور وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ملازمت دی اور پھراس خاتون کو بغیر کرایہ کے تین سال تک اوپن یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہائش مہیا کر کے یونیورسٹی خزانہ کو نقصان پہنچایا گیا۔ یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ سگے بھائی کا وائس چانسلر کے لیے اُمیدوار ہونا مفادات سے ٹکراؤ ہے سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈاکٹر فرخ نوید کو فوری طور پر تبادلہ کیا جائے اور پرنسپل سیکرٹری ساجد ظفر ڈال کو فرخ نوید کی بے جا حمایت اور سرپرستی سے روک کر یونیورسٹیوں میں اقرباء پروری کی بنیاد پر وائس چانسلرز کی تقرری کے عمل کو ناکام بنایا جائے۔


