لاہور (وقائع نگار ) پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی یونیورسٹیز میں انسداد مذہبی منافرت مہم جاری ہے ۔اس مہم کے تحت پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور لاہور کالج فاروومن یونیورسٹی کے اشتراک سے قانون توہین مذہب اور ہماری سماجی ذمہ داریاں کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈائریکٹر پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر تنویرقاسم نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ، ڈاکٹر تنویرقاسم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کو عوامی بھلائی کا بہترین ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔ سوشل میڈیا کا منفی استعمال مذہب سے دوری اوراخلاقی بگاڑ کا سبب بن رہا ہے ۔ آزادی اس حد تک تسلیم کی جا سکتی ہے کہ جب تک دوسرے کے جذبات کو مجروح نہ کیا جائے۔سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے سدباب کےلئے میڈیا اور اس سے وابستہ لوگوں کو فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔گستاخانہ مواد کی حوصلہ شکنی کے اور اس کے سدباب کےلئے قوانین سے متعلق عوامی آگاہی بھی بہت ضروری ہے ۔سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی اطلاع فوری طور پر پی ٹی آے، ایف آئی اے یا وزارت مذہبی امور کو کی جائے۔سوشل میڈیا مبالغہ آرائی، بے جا نمود و نمائش، دین سے دوری اور والدین کی اس سب سے لاپرواہی ایک معمول بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر نفرت آمیز موادکی روک تھام کےلیے اداروں کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے ۔ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ساتھ انٹرنیٹ کی نگرانی اور سنسرشپ کی ٹیکنالوجی فائر وال بھی ضروری ہے۔معاشرتی و سماجی بہتری اور ترقی کے لیے سوشل میڈیا ذرائع ابلاغ کا سب سے سستا ترین ٹول ہے ۔شعبہ اسلامیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر زاہدہ شبنم نے کہا کہ جامعات میں پی ایچ ای سی کی انسدادمذہبی منافرت کی مہم قابل تحسین ہے ۔ قرآن و سنت کی صحیح تعلیمات کو پس پشت ڈالنے کے سبب ہم دنیا میں اپنی اقدار کھو چکے ہیں۔شعبہ پنجابی، اردو، عربی اور شعبہ نفسیات کی چیئرپرسنز کے علاوہ فارسی، انگلش ، پنجابی، اردو اور شعبہ علوم اسلامیہ کی فیکلٹی ممبران کی شرکت اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ڈاکٹر اقصی شبیر پرنسپل انٹر میڈیٹ کالج ایل سی ڈبلیو لاہور نے سیمینار کےاختتام پر ڈاکٹر تنویرقاسم کو اعزازی شیلڈ پیش کی
