ممبئی دھماکوں میں نامزد مسلم قیدی کو جنونی ہندووں نے جیل میں قتل کردیا

ممبئی دھماکوں میں نامزد مسلم قیدی کو جنونی ہندووں نے جیل میں قتل کردیا

ممبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں کلمبہ سینٹرل جیل میں 5 مشتعل ہندو قیدیوں نے 59 سالہ مسلمان قیدی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق قیدیوں کے تشدد سے ہلاک ہونے والے مسلمان قیدی کی شناخت 59 سالہ محمد علی خان عرف منا کے نام سے ہوئی ہے جو 1993 میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کے الزام میں قید کاٹ رہے تھے۔جائے وقوعہ پر موجود دیگر قیدیوں نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملہ ا?ور 5 قیدیوں کی کسی بات پر مسلم قیدی محمد علی سے تلخ کلامی ہوئی اور پھر حملہ ا?وروں نے بیدردی سے مارنا پیٹنا شروع کردیا۔
عینی شاہدین کے بقول اس دوران ایک حملہ ا?ور نے گٹر کے لوہے کے ڈھکن کو محمد علی کے سر پر دے مارا جس سے خون کا ایک فوارہ نکلا اور مسلمان قیدی نے وہیں تڑپ تڑپ کر جان دیدی۔بعد ازاں قیدی محمد علی کو اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے موت کی تصدیق کردی۔حملہ ا?ور قیدیوں کی شناخت پراتیک، دیپک، سندیپ، رتوراج اور سوربھ کے نام سے ہوئی ہے جن کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا ا?غاز کردیا۔یاد رہے کہ ممبئی میں12 مارچ 1993 کو درجن سے زائد مقامات پر دھماکے ہوئے تھے جن میں 257 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان حملوں کے الزام میں محمد علی عرف منا کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں