سٹیل مل کے 1370 ملازمین کی جبری برطرفی،ملی لیبر فیڈریشن کا میدان میں آتے ہوئے حکومت سے بڑا مطالبہ

لاہو(سٹاف رپورٹر)پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کی قیادت نے پاکستان سٹیل ملز میں 1370 سے زائد ملازمین کی بر طرفی پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ یہ قدم نہ صرف غیر انسانی بلکہ ملازمین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے،برطرفیوں کے دوران ملازمین کو کسی قسم کا خصوصی پیکیج یا مالی معاونت نہ دینا انتہائی افسوسناک ہے۔
ان خیالات کا اظہار مقررین نے ملی لیبر فیڈریشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں مرکزی،صوبائی اور ضلعی قیادت کے ارکان نے شرکت کی۔اجلاس سے فیڈریشن کے صدر میاں غلام مصطفیٰ اور جنرل سیکرٹری رانا جبران، پنجاب کے صدر عبد المجید سالک،کے پی کے صدر اصغر خٹک،آزاد کشمیر کے صدر ظفر اقبال اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان سٹیل ملز جیسے اہم قومی ادارے میں ملازمین کی برطرفی ایک سنگین مسئلہ ہے،جس کا اثر نہ صرف ملازمین بلکہ ان کے خاندانوں پر بھی پڑے گا۔ انہوں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ملازمین کی برطرفی کے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور ان کے حقوق کا تحفظ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نہ صرف ایک معاشی بحران ہے بلکہ اس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ حکومت عوامی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو بنیادی حقوق سے محروم کر رہی ہے،فیڈریشن اس معاملے میں مکمل طور پر ملازمین کے ساتھ ہے اور ان کے حق میں آواز اٹھائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان سٹیل ملز میں بر طرف کیے گئے ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرے،ان کو فوری طور پر مناسب پیکیج فراہم کرے اور ان کے خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرے تاکہ وہ اس مشکل وقت میں اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں