راولپنڈی(بیورو رپورٹ)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ پارٹی لیڈر شپ پر حملے کرنے والے بھگوڑے ہیں،جیل میں عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے،نیاز اللہ نیازی کو بانی کا ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔
”پاکستان ٹائم“کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو سحری نہ دینے، عبادت سے روکنے کی باتیں غلط ہیں،وہ قوم کی خاطر جیل میں ہیں،عمران خان کو پارٹی سے کوئی شکایت نہیں،ان کی سیاسی رفقاء سے 5 ماہ سے ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان سے آئندہ کے لائحہ عمل پر بات ہوئی ہے،عمران خان نے کہا کہ جو لیڈر شپ پر حملہ آور ہوتے،ایسا بھگوڑے کرتے ہیں،وہ عوام میں اپنی جگہ بنانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیاز اللہ نیازی کو بانی پی ٹی آئی کا ترجمان مقرر کیا گیا،بشری بی بی نے بھی اپنے چار فوکل پرسن مقرر کئے ہیں،عمران خان نے فیصل چوہدری کو ہدایت دیں کہ تمام پٹیشنز چوہدری ظہیر عباس کے سپرد کر دیں،چوہدری ظہیرعباس کو بانی اور بشری بی بی نے تمام معاملات کیلئے اپنا وکیل مقرر کیا ہے،بدقسمتی سے کچھ لوگوں نے وکالت کے ذریعے سیاسی قد بڑھانے کی کوشش کی۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان سے اپوزیشن اتحاد کے بارے بات ہوئی ہے،ابھی پوری بات نہیں کرونگا،ہم مولانا فضل الرحمان کی عزت کرتے ہیں،عمران خان چاہتے ہیں وہ اپوزیشن کے اتحاد میں شامل ہوں۔دوسری طرف ”پاکستان ٹائم“کے ذرائع نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقات کے آغاز پر ہی بشریٰ بی بی نے فیصل چوہدری کو کہا آپ ہماری پٹیشنز سے الگ ہو جائیں،ہمیں سیاسی وکیل کی نہیں بلکہ ایک پروفیشنل وکیل کی ضرورت ہے،اتنے دن ہماری ملاقات بند رہی،آپ لوگوں نے کیا کیا؟۔عمران خان نے وکیل سلمان صفدر سے مکالمہ کیا کہ آپ ہمیں پروفیشنل وکیل کا نام بتائیں جو ہماری پٹیشنز اور جیل کے معاملات کو دیکھے،پارٹی اپنے بیانیے کو مزید موثر کرے،اس طرح معاملات حل نہیں ہوں گے،کس طرح سابق وزیر اعظم کی ملاقات روکی جاسکتی ہے؟جو سلوک کیا جا رہا ہے، وہ سب کے سامنے ہے،اگر میری ملاقات روکی جاتی ہے تو پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کو جیل کے باہر احتجاج کرنا چاہیے، ورکرز صرف میری رہائی دیکھنا چاہتے ہیں۔اس موقع پر بشریٰ بی بی نے کہا میرے 4 فوکل پرسن ہیں،ان کے علاوہ کوئی نہیں،رائے سلمان کھرل،مبشر مقصود اعوان،نعیم پنجھوتہ اور خالد یوسف چوہدری میرے فوکل پرسن ہیں۔
