Prime Minister Shehbaz Sharif has urged all political stakeholders to work together for national progress, saying, “Stop pulling each other down. Work collectively and take the country forward

وزیر اعظم نے ملک کو آگے لے جانے کا فارمولہ بتا دیا

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کیلئے جادو ٹونے نہیں، محنت کی ضرورت ہے،ملکی ترقی اور خوشحالی کا سفر خوارج کے خاتمے تک ممکن نہیں،گالم گلوچ کے کلچر کو بھی ختم کرنا ضروری ہے،آج مہنگائی میں کمی ہو رہی ہے جس کی وجہ ٹیم ورک ہے،یہ ہی راستہ ہے،یہ ہی فارمولا ہے کہ مل کر کام کریں،ایک دوسرے کی ٹانگیں نہ کھینچیں،مل کر کام کریں اور پاکستان کی تقدیر کو بدل دیں اورملک کو آگے لے کر جائیں،مالی اشاریے مثبت ہیں،معاشی استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے میں اور آرمی چیف دوست ممالک کے پاس گئے،عالمی مالیاتی ادارے نے اعتراف کیا،کھٹن سفر لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں،ایک سال میں اپوزیشن کوئی سکینڈل سامنے نہ لا سکی۔
”پاکستان ٹائم“کے مطابق حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے خطاب میں وفاقی کابینہ میں شامل ہونے والے نئے ارکان کو خوش آمدید اور مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہماری حکومت کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے بلکہ دو دن پہلے کابینہ میں اضافہ بھی ہوا،مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کی شمولیت سے مجھے،حکومت اور عوام کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا،آج ماہ رمضان کا تیسرا دن ہے اور اس ماہ کی برکات پورے پاکستان کے 24 کروڑ عوام اللہ کی رحمت سے فیض یاب ہو رہے ہیں،یہ مہینہ ہمیں درس دیتا ہے کہ اپنے آپ کو خدمت انسانیت کے لیے وقف کر دیں،حکومت نے اس سال رمضان پیکیچ پچھلے سال کے 7 ارب روپے کے مقابلے میں 20 ارب روپے مختص کیا،جو چاروں صوبوں،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 40 لاکھ خاندانوں کو انتہائی جدید طریقے سے پہنچایا جائے گا،جدید طریقے سے والٹ کے ذریعے 5 ہزارروپے دیے جائیں گے،رمضان پیکج میں شفافیت کویقینی بنایا جا رہا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بروقت اقدامات سے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا،معاشی اشاریے مثبت ہیں،عالمی مالیاتی ادارے اعتراف کر رہے ہیں،کون کہہ رہا تھا بطور وزیر خزانہ خط لکھ رہے ہیں کہ قرض نہ دیں، پہلی بار یکسوئی اور بغیر ذاتی مفاد کے آج تمام ادارے ایک کشتی پر سوار ہیں،عالمی مالیاتی ادارے کہہ رہے ہیں مائیکرو اکنامک انڈیکیٹر استحکام کی طرف جا رہے ہیں،دہشت گردی کے خلاف ہمارے جوان ہر روز جام شہادت نوش کر رہے ہیں، 20218 میں نواز شریف نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا،پھر سر اٹھا لیا،دہشت گردوں کو دوبارہ کون لے کر آیا اس سے بڑی ملک دشمنی کیا ہو سکتی ہے؟دہشت گردی کا خاتمہ کئے بغیر ترقی و خوشحالی کا سفر جاری نہیں رہ سکتا۔

انھوں نے کہا کہ ایک دوسرےکی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے ملکی ترقی کیلئے مل کر کام کرنا ہو گا،ایک سال میں حکومت کیخلاف کرپشن کا ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا،انشاء اللہ وہ وقت بھی آئیگا جب سبز پاسپورٹ کی عزت ہو گی،جادو ٹونے سے نہیں،صرف محنت سے آگے بڑھیں گے،ہر مشکل میں ساتھ دینے پر اتحادیوں کا مشکور ہوں،آرمی چیف نے بھی معاشی بہتری کے لیے بھرپور کردار ادا کیا،مہنگائی میں نمایاں کمی اور برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے،گالم گلوچ کے زہر کو ختم کرنے کا وقت آ چکا ہے،ہم نو مئی کے نہیں 28 مئی کے علمبردار ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ مقدس مہینہ اس بات کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کے ساتھ ہم بھرپور طریقے سے اظہار یکجہتی کریں، 50 ہزار سے زائد غزہ میں لوگ شہید کیے جا چکے ہیں اور کشمیر کی وادی بھی کشمیریوں کی خون سے سرخ ہو چکی ہے،آج غزہ میں جنگ بندی کے باوجود رمضان شریف میں فلسطینیوں کی خوراک اور امداد کو بند کرنے سے بڑا ظلم کوئی نہیں ہو سکتا،اس پر ہمیں بھرپور آواز اٹھانی ہے،جنگ بندی کے باوجود امداد کو روکنا افسوسناک ہے،اللہ چاہے گا کہ اسی رمضان کی برکات سے کشمیری اور فلسطینی عوام کو ان کا حق جلد اور ضرور ملے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں