اسلام آباد(بیورو رپورٹ)امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پختونوں اور بلوچوں کو اعتماد میں لیے بغیر خیبر پختونخوا،بلوچستان میں امن قائم نہیں ہو گا،خطے میں امن کی کنجی پاک افغان تعلقات کی بحالی ہے، دونوں ممالک دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اشتراک عمل قائم کریں،ریاست عوام کا نام ہے،ان کی مرضی کے خلاف حکمران مسلط کیے جائیں گے تو عوام اور اداروں میں اعتماد کا بحران پیدا ہو گا،غیر ملکی طاقتوں کو مداخلت کا موقع ملے گا،اسٹیبلشمنٹ لوگوں کو مسلط کرنے کے عمل سے دور ہو جائے،ادارے آئینی حدود میں کام کریں،حکمرانوں کی امریکہ نوازی نے پاکستان کو آگ میں دھکیلا، 2001ء سے قبل قبائلی خطے میں مکمل امن تھا، کے پی میں رمضان کے پہلے 15دنوں میں دہشت گردی کے 70 واقعات ہوئے،سو افراد کی جان گئی،جماعت اسلامی بلوچستان پر 14 اپریل کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کرے گی، 20اپریل کو پشاور میں امن مارچ ہو گا،عید کے بعد بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک برپا کریں گے۔ ”حق دو عوام کو، بچاو پاکستان کو“تحریک کے ذریعے پرامن سیاسی مزاحمت جاری رہے گی۔
”پاکستان ٹائم“کے مطابق نائب امیر جماعت اسلامی و امیر کے پی جنوبی پروفیسر ابراہیم،میاں اسلم،سید فراست شاہ، عنایت اللہ خان،عبدالواسع سمیت دیگر قائدین کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےحافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ افغانستان کی زمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے،اسلام آباد افغانستان کے ساتھ اعتماد سازی کو فروغ دے،طورخم بارڈر کا کھل جانا اور بات چیت کا آغاز نیک شگون ہے،دونوں ممالک امن اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کی خاطر با معنی مذاکرات کریں،پاکستان میں قیام امن کے لیے پالیسی سازی کا فقدان ہے،عوام کو اعتماد میں لینا ہو گا، کے پی بلوچستان ہی نہیں پنجاب اور سندھ میں بھی مراعات یافتہ طبقہ ایک طرف اور عوام دوسری طرف ہیں،اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ گورننس کا بحران ہے جو حکومتوں کی ذمہ داری ہے،ادارے جب فارم 47کے ذریعے مرضی کے لوگ مسلط کریں گے تو گورننس کیسے قائم ہو گی؟وفاقی حکومت و ادارے کے پی میں امن کے لیے کردار ادا کریں،صوبائی حکومت بھی اپنی ذمہ داری سے غافل ہے،بلدیاتی اداروں کو فنڈز نہیں مل رہے،صوبے میں 500 ترقیاتی سکیموں کو ختم کر دیا گیا ہے،بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا ایشو ہے،ترقیاتی کام نہیں ہو رہے،نوجوانوں کو روزگار ملنا چاہیے،صوبے کے عوام کی محرومیوں کو دور کرنا ہو گا، بلوچستان پر ہونے والی اے پی سی میں تمام سٹیک ہولڈرز کو مدعو کریں گے،حکومتی اور اپوزیشن پارٹیوں کو بلا رہے ہیں،جماعت اسلامی ملک میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی،ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان مزید کسی سانحے کا متحمل نہیں ہو سکتا،خطے کو بیرونی طاقتوں کی اجارہ داری اور اپنی امریکی غلاموں سے آزاد کرانا ہو گا،کے پی کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ پشاور امن مارچ میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں،تمام مکتبہء فکر کے افراد کو مدعو کیا جائے گا،لاکھوں مارچ میں شرکت کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں مجموعی معاشی حالات خراب ہیں،عوام کا کوئی پرسان حال نہیں،حکومت نے بارہا بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلانات کیے،عمل درآمد نہیں ہو رہا،پٹرولیم لیوی کو بڑھا دیا گیا،تنخواہ دار طبقات پر ناجائز ٹیکسز مسلط ہیں،سولر صارفین پر تلوار لٹک رہی ہے،ایک طرف عوام چکی میں پس رہے ہیں دوسری جانب ممبران پارلیمنٹ،وزرا اپنی تنخواہوں اور مراعات میں مسلسل اضافہ کیے جا رہے ہیں،اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکمرانوں کی کیا ترجیحات ہیں؟ناانصافیوں اور ظلم کے خلاف عید کے بعد عوام کو بڑے پیمانے پر موبلائز کریں گے۔انھوں نے کہا کہ کراچی میں ڈمپر اور لوڈرز دن کے وقت دندناتے پھر رہے ہیں جس سے آئے روز لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں، کراچی سمیت پورے سندھ میں ایک”سسٹم“مسلط ہے،اربوں کی کرپشن ہو رہی ہے،ہر شعبہ تباہ حال ہے،پیپلز پارٹی، ن لیگ سمیت تمام اتحادیوں میں کوئی فرق نہیں،پی ڈی ایم جماعتیں ایک پیج پر ہیں،بلاول اور شہباز شریف ایک ہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے نسل کشی کی نئی لہر کا آغاز کر دیا ہے،غزہ کی بندربانٹ کے لیے سازشیں ہو رہی ہیں، امریکا صہیونی دہشت گردی کو مکمل پشت پناہی فراہم کر رہا ہے،مسلمان حکمران خاموش ہیں،پاکستانی صحافیوں کے دورہ اسرائیل کی رپورٹس پر حکومت نے تاحال وضاحت جاری نہیں کی،ملک میں اسرائیل نواز لابی سرگرم ہے، حکمرانوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچا بھی تو عوام انھیں نشانِ عبرت بنا دے گی۔