کابل(مانیٹرنگ ڈیسک ) افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگانے کے بعد اب بچیوں کو مفت تعلیم اور کتابیں فراہم کرنے والے سماجی کارکن مطیع اللہ کو گرفتار کر لیا ہے ۔
”پاکستان ٹائم “نے عالمی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ طالبان نے ’پین پاتھ ‘ نامی این جی او کے سربراہ مطیع اللہ کو حراست میں لیا ہے جو کہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کر رہی ہے ۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مطیع اللہ کی گرفتاری اس ٹوئٹ کی بعد عمل میں لائی گئی جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ہم لڑکیوں کے سکول کھلنے کا ہر گھنٹے، ہر منٹ اور ہر سیکنڈ انتظار کر رہے ہیں، یہ ناقابل تلافی نقصان ہے، گرفتار سماجی کارکن کے بھائی سمیع اللہ نے بتایا کہ مطیع اللہ کو شام کے وقت نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلتے ہوئے شناخت پوچھنے کے بعد حراست میں لیا گیا اور مار پیٹ بھی کی گئی۔
اقوام متحدہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ طالبان نے پین پاتھ کے سربراہ مطیع اللہ ویسا کو پیر کے روز کابل سے گرفتار کیا ہے۔
واضح رہے کہ افغان حکومت نے بچیوں کے سیکنڈری سکول بندکر دیئے ہیں اس سے قبل طالبان کی جانب سے لڑکیوں ہائر سکینڈری تعلیم پر پابندی لگائی گئی تھی۔
