لاہور(کورٹ رپورٹر) پنجاب کی نگران حکومت نے صوبے کی سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر تعینات کرنے کے لیے ا±میدواروں کے انٹرویوز کرنے کے لیے سرچ کمیٹی قائم کی تھی اس کمیٹی کا سربراہ ڈاکٹر سہیل نقوی کو تعینات کیا گیا ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی نے اپنے ماموں زاد بھائی ڈاکٹر سہیل نقوی کو صوبے کی 16 جنرل پبلک یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر تعینات کرنے کے لیے سرچ کمیٹی کا کنونئیرتعینات کیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ نے پنجاب تیانجن یونیورسٹی میں بھی وائس چانسلر تعیناتی کے لیے سرچ کمیٹی کا سربراہ ڈاکٹر سہیل نقوی کو تعینات کر دیا ہے۔
ایم اے او کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر فرحان عبادت یار خان نے ڈاکٹر سہیل نقوی کی سرچ کمیٹی کے سربراہ کے طور پر تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ یہ نگران وزیر اعلیٰ سید محسن نقوی کی جانب سے اقربائ پروری کا منہ بولتا ثبوت ہے، نگران وزیر اعلیٰ کے ماموں زاد بھائی کی اس اہم ترین عہدے پر تقرری سے وائس چانسلرز کے انتخاب کا عمل متنازعہ ہوگیا ہے اور جس سے وزیر اعلیٰ پنجاب کی براہ راست مداخلت کے راستے ہموار ہوئے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سرچ کمیٹی کے سربراہ کی تقرری کو کالعدم قرار دیا جائے اور غیر جانبدار شخص کو یہ اہم ذمہ داری تفویض کی جائے۔ عدالت نے درخواست پر عبوری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے وائس چانسلر تقرری کے سارے پراسیس کو فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کیے ہیں اور پنجاب حکومت سمیت سرچ کمیٹی کے تمام ممبران کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ جب تک کیس کی دوبارہ سماعت مقرر نہیں کی جاتی ا±س وقت تک یہ پراسیس معطل رہے گا۔
